جعلی دولت مند جرمن خاتون مجرم قرار دے دی گئی | معاشرہ | DW | 26.04.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

معاشرہ

جعلی دولت مند جرمن خاتون مجرم قرار دے دی گئی

امریکا میں روسی نژاد ایک جرمن خاتون کو دوستوں اور بینکوں کے ساتھ دھوکا دہی کے جرم میں قصوروار قرار دے دیا گیا ہے۔ اس خاتون پر الزام تھا کہ وہ خود کو امیر جرمن خاندان کی وارث ظاہر کرتے ہوئے پرتعیش زندگی گزار رہی تھی۔

نیو یارک ایک جیوری کے مطابق انا سوروکن نے خود کو انتہائی امیر جرمن خاندان کا وارث ظاہر کرتے ہوئے مہنگے تحائف لیے، سفر کیے اور بینکوں سے قرضے لیے۔ انہوں نے امریکا میں اپنی شناخت تبدیل کرتے ہوئے خود کو ’انا ڈیلوی‘ کا نام دیا۔

تفصیلات کے مطابق انا یہ کہتے ہوئے لوگوں سے اپنا تعارف کراتی تھیں کہ وہ بہت بڑی جائیداد کی وارث ہیں اور انتہائی دولت مند ہیں۔ انا ڈیلوی کے طور پر اپنے دوستوں اور مالیاتی اداروں کو یہ یقین دلانے میں کامیاب ہو گئی تھیں کہ وہ ساٹھ ملین یورو سے زائد کے اثاثوں کی مالک ہیں۔

USA, New York: Prozess gegen Anna Sorokin

انا سوروکن پیدا روس میں ہوئیں جبکہ ان کی پرورش جرمن شہر کولون میں ہوئی

 بتایا گیا ہے کہ انا سوروکن پیدا روس میں ہوئیں جبکہ ان کی پرورش جرمن شہر کولون میں ہوئی۔ ان کا دعوی تھا کہ ان کے والد ایک سفارت کار تھے یا پھر تیل کے ایک بڑے تاجر۔ تاہم حقیقت میں انا کے والد ایک سابق ٹرک ڈرائیور ہیں، جو چھوٹے سے ایک کاروباری ادارے میں مینجر ہیں۔ وہ  ہالینڈ کی سرحد کے قریب جرمن علاقے ایشوائلر میں رہتے ہیں۔

اس مقدمے کے مطابق انا سوروکن  نے نا صرف کئی مہینوں تک اپنی اصل شناخت ظاہر نہیں ہونے دی بلکہ ساتھ ہی دانستہ طور پر جھوٹ بول کر  رقوم بھی بٹوریں۔ یہ سلسلہ دس ماہ تک جاری رہا۔ اپنی اس مکاری کے باعث وہ ایک پرتعیش زندگی گزارنے میں کامیابی رہیں۔

اس دوران انہوں نے نیو یارک کے مہنگے ہوٹلوں میں کئی کئی روز تک قیام کیا اور شہر کے بہترین ریستورانوں میں معروف شخصیات کے ساتھ کھانے بھی کھائے۔ ان میں سے بہت سی تصاویر انہوں نے اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ کے ذریعے شائع کیں۔

انا پر یہ الزام بھی ہے کہ انہوں نے بینک سے22 ملین ڈالر قرضے لینے کے لیے اپنا دستاویزات میں ہیرا پھیری کی تھی۔ وہ اس رقم سے مینہیٹن کے علاقے میں ایک کلب کھولنا چاہتی تھیں۔

 متعلقہ دفتر استغاثہ کے مطابق اٹھائیس سالہ انا پر عائد تمام دس الزامات میں انہیں قصووار قرار دیا گیا ہے۔ اس مقدمے میں سزا کا اعلان نو مئی کو کیا جائے گا۔ انا کو پانچ سے پندرہ سال تک کی سزا سنائی جا سکتی ہے۔ ساتھ ہی انہیں امریکا بدر کرتے ہوئے جرمنی واپس بھیجا جائے گا۔ امریکا میں ان کا نوے دن تک کے قیام کے اجازت نامے کی مدت بھی بہت عرصہ ختم ہوچکی ہے۔

ویڈیو دیکھیے 03:15

دولت مند افراد کی مہنگی ترین تفریحی کشتیاں

DW.COM

Audios and videos on the topic