’جعلی خبریں پاکستان کو بھی متاثر کر رہی ہیں‘ | معاشرہ | DW | 02.05.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

معاشرہ

’جعلی خبریں پاکستان کو بھی متاثر کر رہی ہیں‘

ورلڈ پریس فریڈم ڈے 2019 کے موقع پر ہونے والے مباحثوں میں جعلی خبریں اور غلط معلومات پھیلانے کا معاملہ سرفہرست رہنے کی توقع ہے۔ دنیا بھر کے متعدد ممالک کی طرح پاکستان میں بھی یہ مسئلہ انتہائی سنگین قرار دیا جا رہا ہے۔

اس سال ورلڈ پریس فریڈم ڈے کی مرکزی تقریب ایتھوپیا کے دارالحکومت ادیس ابابا میں منعقد کی جا رہی ہے، جس میں دنیا بھر سے تعلق رکھنے والے صحافی اور دانشور شریک ہوں گے۔ یہ دن ہر سال تین مئی کو منایا جاتا ہے۔ اس مرتبہ اس دن کا مرکزی خیال ’پریس اور جمہوریت کے مابین باہمی تعلق‘ ہے۔

میڈیا ماہرین اور صحافیوں کے مطابق جعلی خبروں اور غلط معلومات کی ترسیل کے باعث جمہوریت کو خطرات لاحق ہو چکے ہیں، اس لیے اس معاملے پر خصوصی توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہے۔

پاکستان سے تعلق رکھنے والے سینیئر صحافی اشعر رحمان کے مطابق دنیا کے دیگر ممالک کی طرح پاکستان میں بھی جعلی خبروں اور غلط معلومات کے پھیلائے جانے کا مسئلہ شدید ہے۔ ڈی ڈبلیو سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ ماضی میں بھی ایسا ہوتا تھا لیکن میڈیا اداروں کی بھرمار کی وجہ سے اب یہ مسئلہ زیادہ شدید ہو گیا ہے۔

پاکستان کے معروف ڈان میڈیا گروپ سے وابستہ اشعر رحمان نے مزید کہا کہ ماضی میں کچھ اخبار اور صحافی بلیک میل کرنے کی خاطر فیک نیوز گھڑتے تھے تاہم اب صورتحال کچھ مختلف ہو چکی ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اگر منظم سیاسی یا مذہبی ایجنڈے کے تحت جھوٹی خبریں اور غلط معلومات پھیلائی جائیں گی تو یہ ایک انتہائی خطرناک عمل ثابت ہو گا۔

پاکستان کے علاوہ جنوبی ایشیا اور دنیا کے دیگر ممالک اور خطوں میں بھی جعلی خبروں اور غلط معلومات کے پھیلائے جانے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ مغربی ممالک میں اس حوالے سے خصوصی قانونی سازی کی جا رہی ہے جبکہ بالخصوص سوشل میڈیا سے متعلق قواعد و ضوابط کو زیادہ سخت بنایا جا رہا ہے۔

افریقی ممالک خاص طور پر ایتھوپیا میں بھی اس حوالے سے قانون سازی کی جا رہی ہے۔ اس افریقی ملک میں آزادی صحافت کے لیے کی جانے والی کوششوں کی وجہ سے ہی اس برس ورلڈ پریس فریڈم ڈے کی خصوصی تقریبات کا انعقاد اسی ملک میں کیا جا رہا ہے۔ براعظم افریقہ میں جھوٹی خبروں کی تشہیر اتنی زیادہ اور منظم طریقے سے کی جا رہی ہے کہ لوگ حقیقت سے دور ہو جاتے ہیں۔

افریقی ملک صومالیہ کے انتخابی کمشنر حسین ابدی آدم کے بقول حالیہ انتخابات سے کچھ روز قبل ہی ایسی جھوٹی خبریں پھیلائی گئی کہ کچھ امیدوار ہلاک ہو گئے یا انہوں نے اپنے کاغذات نامزدگی واپس لے لیے تھے اور ان جھوٹی خبروں کا مقصد کسی خاص امیدوار کو جتوانے کی کوشش کرنا تھا۔

اشعر رحمان نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ پاکستان میں اس صورتحال میں بہتری کے لیے سرکاری سطح پر کوئی خاص کوشش نظر نہیں آتی۔ انہوں نے اس خدشے کا اظہار کیا کہ پاکستان میں حالات مزید ابتری کی طرف جا سکتے ہیں، ’’ابھی تک مجھے نہیں لگتا کہ کچھ ہونے والا ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ چیزیں اور زیادہ خرابی کی طرف جائیں گی، اس سے پہلے وہ ٹھیک ہوں۔‘‘ رحمان کے مطابق البتہ پاکستان میں کچھ گروہ اپنی سطح پر ان حالات میں بہتری کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔

DW.COM