جسم پر نقش ونگاری سے چھٹکارہ کیسے حاصل کریں ؟ | معاشرہ | DW | 02.03.2013
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

معاشرہ

جسم پر نقش ونگاری سے چھٹکارہ کیسے حاصل کریں ؟

گلاب کا پھول ہو یا چھوٹی سی تتلی، سانپ ہو یا بچھو، جسم پر ٹیٹوز ہر قسم کے بن جاتے ہیں، لیکن تب کیا کریں، جب ٹیٹو سے دل اُکتا جائے یا یہ اچھا نہ لگے؟

سوئے 17 سال کی تھی، جب اس نے پہلی بار ٹیٹو بنوایا تھا۔ اس وقت اسے اپنے بازو پر ایک دس سینٹی میٹر لمبا ٹیٹو بنوانے کے لیے تحریری طور پر اپنے والدین کی اجازت لینا پڑی تھی۔ اب سوئے کی عمر 29 سال ہے۔ 12 سال میں وہ اپنے ٹیٹو سے تنگ آچکی ہے اور ہمیشہ کے لیے اس سے چھٹکارا پانا چاہتی ہے، ’’میں تو كہوں گی کہ اب یہ مجھ پر جچتا ہی نہیں ہے۔ میں نے اسےبنوایا، اس کا مجھے کوئی پچھتاوا نہیں ہے، لیکن اب جب میں اسے ہٹوا رہی ہوں، تو اس کا بھی مجھے کوئی غم نہیں ہے۔‘‘

جلد کو نقصان

مختلف اندازوں کے مطابق جرمنی میں تقریباﹰ 12 ملین افراد نے جسم پر ٹیٹوز بنوا رکھے ہیں۔ ان میں سے کئی تو ایسے ہیں، جن کے جسم پر ایک سے زیادہ ٹیٹوز ہیں۔ جسم پر ایک اچھا ٹیٹو نقش کروانے کے لیے ایک اچھے ٹیٹو آرٹسٹ کی اور بہترین رنگوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ سن 2009ء تک جرمنی میں ان رنگوں کے استعمال کے بارے میں کوئی اصول، قوانین یا ضوابط نہیں تھے۔ کئی بار تو لوگ اُن رنگوں کا بھی استعمال کر لیتے تھے، جنہیں موٹر گاڑی پینٹ کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، تاہم اب حکومت کی طرف سے نقصان دہ رنگوں کے استعمال سے متعلق قوانین اس کی اجازت نہیں دیتے، لیکن ان پر کس قدر عمل کیا جاتا ہے یہ بتانا مشکل ہے۔

جرمنی بھر میں باقاعدہ رجسٹرڈ ٹیٹو اسٹوڈیوز کی تعداد سات ہزار ہے۔ جرمنی کے سابق دارالحکومت بون میں کام کرنے والی ماہر امراض جلد ڈاکٹر مارينا شِلر کا کہنا ہے کہ آپ جتنے بھی اچھے ماہرین سے ٹیٹو بنوائیں، جِلد کو نقصان ضرور پُہنچتا ہے، ’’آخر کار آپ جِلد کو چوٹ تو پُہنچا ہی رہے ہیں، آپ کی جلد کے اندر رنگ تو بحرحال گُھس رہا ہے۔‘‘

ٹیٹوز ہٹوانے والوں کی تعداد میں اضافہ

گزشتہ چند برسوں میں ٹیٹو ہٹوانے یا ختم کروانے والوں کی تعداد میں 40 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ ان میں سے زیادہ تر وہ خواتین شامل ہیں، جن کی عمر 25 سے 50 برس کے درمیان ہے۔ بیشتر خواتین کا کہنا ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ ان کی شخصیت میں تبدیلی آئی ہے اور وہ پُرانے ٹیٹوز کے ساتھ اچھا محسوس نہیں کرتیں۔ ڈاکٹر شِلر بتاتی ہیں، ’’سب سے زیادہ تو ایسے لوگ آتے ہیں، جن کے ٹیٹو بُرے بنے ہوتے ہیں، وہ لوگ اب بھی ٹیٹو رکھنا پسند کرتے ہیں، لیکن وقت کے ساتھ وہ ماند پڑ چکا ہوتا ہے یا اسے ٹھیک سے گودا ہی نہیں گیا ہوتا۔‘‘

ہٹوانا اور بھی دردناک

جسم پر نقش ونگاری کروانے میں بھلے چند منٹ یا گھنٹے ہی کیوں نا لگیں، لیکن اسے ہٹوانے میں کئی مہینے لگتے ہیں۔ ڈاکٹر شِلر کہتی ہیں، ’’لوگ بہت بڑی غلطی کرتے ہیں جب وہ یہ سوچتے ہیں کہ وہ ایک مرتبہ ڈاکٹر کے پاس جائیں گے اور ٹیٹو غائب ہو جائے گا۔‘‘

ٹیٹو ہٹوانے کے لیے آپ کو کم از کم پانچ سے سات بار تو ڈاکٹر کے پاس جانا ہی پڑتا ہے۔ ہر معائنے یا ٹریٹمنٹ کے درمیان چار ہفتے کا وقفہ ہونا بھی ضروری ہے، یعنی کل ملا کر یہ کئی ماہ کا درد سر ہے۔ ایک بار ڈاکٹر کے پاس جانے کا خرچ 200 یورو یعنی تقریباﹰ 25 ہزار روپے ہیں۔ جب تک لیزر پورے ٹیٹو کو غائب کر سکے، اس وقت تک جیب سے کئی لاکھ روپے بھی غائب ہو چکے ہوتے ہیں۔

ساتھ ہی یہ عمل بہت تکلیف دہ بھی ہوتا ہے اور اس وجہ سے کئی لوگ تو ٹریٹمنٹ درمیان میں ہی چھوڑ دیتے ہیں۔ ٹیٹو ہٹوانے والے کچھ لوگوں کا تو کہنا ہے کہ یہ عمل تو ٹیٹو بنوانے سے کئی گنا زیادہ دردناک ہوتا ہے اور لیزر شعاعوں کی وجہ سے جلد بہت حساس ہو جاتی ہے۔ اور ایسا بھی نہیں کہ ہر طرح کے ٹیٹو کو آسانی سے ہٹایا جاسکے۔ ڈاکٹر شِلر بتاتی ہیں کہ عام کالے ٹیٹوکو ختم کرنا سب سے آسان ہے، لیکن رنگ برنگے ٹیٹو بہت وقت لیتے ہیں، ’’پیلے رنگ کا ٹیٹو تو بالکل بھی نہیں ہٹتا، نیلے اور سبز رنگ ہٹانے میں بھی کافی مشکل ہوتی ہے۔‘‘

ڈاکٹر شِلر کے مطابق UV ٹیٹوز کو لیزر کے ذریعے ختم کرنا سب سے مشکل کام ہے۔ یہ ایسے ٹیٹو ہیں، جو دن کی روشنی میں تو ٹھیک سے نظر آتے بھی نہیں، لیکن رات میں یا پھر ڈسکو کی روشنی میں خوب چمکتے ہیں۔ ان کے لیے خاص طرح کے رنگوں کا استعمال کیا جاتا ہے، ’’کوئی بھی لیزر ان رنگوں کو ہٹا نہیں سکتا۔ اس کے لیے آپریشن ہی راستہ ہے۔‘‘ کئی بار تو جلد کا ٹرانسپلاٹ کرنا ہی واحد راستہ بچتا ہے۔

سوئے کا ٹیٹو عام کالی سياہی سے بنا ہے، اس لیے اسے اتنی فکر نہیں ہے۔ وہ تو یہ بھی سوچ چکی ہے کہ جو تھوڑا بہت نشان باقی رہ جائے گا اس کا وہ کیا کرے گی، ’’میں نے سوچا ہے کہ ایک سورج بنواؤں گی، ڈریگن کا جو سانپ جیسا حصہ ہے، وہ سورج کی کرنوں میں تبدیل ہو جائے گا۔‘‘

Heise, G, ia/ Tobias O, km