’جسم، جھلک اور طاقت‘ غسل خانوں کی تاریخ | فن و ثقافت | DW | 15.03.2020
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

فن و ثقافت

’جسم، جھلک اور طاقت‘ غسل خانوں کی تاریخ

حفظان صحت ایک لازمی شہری فریضہ بن چکا ہے لیکن نہانا ایک ثقافتی نظام کا حصہ تھا، جو سماجی روایت بن گیا۔ باڈن باڈن میں ایک آرٹ نمائش میں غسل خانوں کی تاریخ پیش کی جا رہی ہے، جس سے طاقت اور سیاست کی بصیرت کا پتا چلتا ہے۔

قدیم مصری اس بات سے بخوبی واقف تھے کہ گرم حمام کے حیرت انگیز فوائد ہوتے ہیں اور قدیم یونانی تو اس کی قسم کھاتے تھے۔ اور ’رومن باتھ‘ کے باقیات اس دور میں نہانے کے غیر معمولی شوق کی گواہی پیش کرتے ہیں۔
دور قدیم سے نہانے کی اہمیت صرف اپنے جسم کی صفائی ستھرائی سے  کہیں زیادہ رہی ہے۔ جب ہم تاریخ کے غسل خانوں اور حمام خانوں کا جائزہ لیتے ہیں، خاص طور پر آرٹ کے زاویے سے، ہمیں نہ صرف یہ بطور انسانوں کی قدیم ثقافتی ٹیکنالوجی نظر آتے ہیں بلکہ ہم ان سے سماجی طاقت، طبقات اور صنفی نظام کے بارے میں بصیرت حاصل کر سکتے ہیں۔


جرمن شہر باڈن باڈن میں اس آرٹ نمائش کے منتظم ہینڈرک بیُنج کہتے ہیں کہ نہانے کا عمل ہمیشہ سے ہی ایک سماجی معاملہ رہا ہے اور یہ آج بھی نظریاتی، مذہبی، معاشرتی اور ثقافتی طور پر  اہمیت کا حامل ہے۔ ’جسم، جھلک اور طاقت‘  کے عنوان سے غسل خانوں کی ثقافتی تاریخ کے موضوع پر مبنی اس نمائش میں ہر دور کے فن پارے پیش کیے جارہے ہیں۔
طہارت ایک سماجی عمل
نمائش میں معروف فرانسیسی مصور جیکس لوئیس ڈیوڈ کی مشہور پینٹنگ ’ڈیتھ آف مارات‘ کا ایک ورژن پیش کیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ روزمرہ کی اشیاء جیسے کہ حجامت کے لیے استعمال کیے جانے والے پیالوں اور حمام کے سینڈلوں کے ساتھ ساتھ آلبریخت ڈیورر، ڈیوڈ  ہاکنی، جوزف بیوئس اور تھومس ڈیمانڈ نیز جیسے معروف فنکاروں کے کام بھی موجود ہیں۔


’ایک باتھ ٹب‘ نامی تصویر کے لیے جرمن مجسمہ ساز تھومس ڈیمانڈ نے اُس جگہ کو دوبارہ تیار کیا جہاں جرمن سیاستدان اُووے بارشیل مردہ پائے گئے تھے۔
ایک اور تصویر میں پیروں کی دھلائی کو پرفارمنس آرٹ کے طور پر پیش کیا گیا ہے، جس کا مظاہرہ فنکار و مصور جوزف بیوئس کر رہے ہیں۔ اس تصویر کو جرمن فوٹوگرافر اوٹے کلوپ ہاؤس نے سیاہ اور سفید رنگ میں عکس بند کیا تھا۔
ایک عالمگیر عمل
منتظم بیُنج کا کہنا ہے، ’’بدن کو دھونے کا  عمل ایک سماجی روایت کے طور پر اتنا ہی قدیم ہے، جتنا کہ انسان خود۔‘‘ تاریخ میں طہارت کی روایت صرف حفظان صحت، صحت اور تندرستی سے کہیں زیادہ رہی ہیں۔ بیُنج نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ قدیم حماموں کو ایک سماجی میل میلاپ اور کاروبار کے لیے ایک مناسب مقام سمجھا جاتا تھا، ’’وہاں (حمام) میں سیاسی تعلقات قائم کیے جاتے تھے اور ان میں متعدد معاہدے بھی طے پائے گئے۔‘‘ 
یونانی چست مرد اپنے جسم پر ٹھنڈا پانی ڈال کر نہاتے تھے جبکہ رومن باشندوں کو گرم پانی سے نہانا پسند تھا۔ فرانسیسی وبا‎ء کے خوف سے پانی سے پرہیز کرتے تھے، اس کے بجائے چھوٹی چھوٹی بوتلوں کا انتخاب کیا جاتا تھا۔


صدیوں سے فنون کی تاریخ میں عورت کا برہنہ جسم، مردوں کے بدن سے زیادہ نمایاں نظر آتا رہا ہے۔ لیکن ایسا کیوں ہے؟  بیُنج کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ ماضی کے سات سو برسوں کی آرٹ کی تاریخ میں، اس امر کا تعلق اس حقیقت سے رہا ہے کہ مرد مصوروں نے برہنہ خواتین کے جسم کو دکھایا اور مرد ناظرین نے ان تصاویر کی پذیرائی کرتے ہوئے ان کو خرید کر دیوار پر لٹکایا۔ بیُنج کے بقول، ’’لیکن بیسویں صدی کے بعد سے اس رویے میں تبدیلی آنا شروع ہو گئی۔‘‘
باڈن باڈن میں اکیس جون تک جاری اس نمائش میں نجی غسل خانوں اور عوامی حمام کو طہارت کی جگہ، جنس کے لیے ایک میدان جنگ اور سیاسی طاقت کی جدوجہد کی جگہ کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔

DW.COM