جرمن کیمپوں میں مہاجرین کو ’غیر انسانی حالات‘ کا سامنا | معاشرہ | DW | 16.05.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

معاشرہ

جرمن کیمپوں میں مہاجرین کو ’غیر انسانی حالات‘ کا سامنا

جرمنی کے شہر ’فیورسٹن فیلڈ بروک‘ میں قائم ’ریفیوجی پروسیسنگ سینٹر‘ کے مہاجرین کے مطابق اس سینٹر میں گنجائش سے زیادہ مہاجرین کو رکھا گیا ہے۔ سیاسی پناہ کے پیچیدہ اور مشکل عمل کی وجہ سے ایک مہاجر نے خودکشی کی کوشش بھی کی۔

جرمنی میں متعدد’ریفیوجی پروسیسنگ سینٹر‘ قائم کیے گئے ہیں۔ فیورسٹن فیلڈ بروک نامی اس سینٹر کے مہاجرین نے ڈی ڈبلیو کو بتایا ہے کہ انہیں ’غیرانسانی‘ حالات میں رکھا جا رہا ہے۔ انہیں مناسب طبی سہولیات کی فراہمی کے لیے بھی شدید تگ و دو کرنا پڑتی ہے جبکہ ان کی سیاسی پناہ کی درخواستیں دفتری راہداریوں میں پھنس کر رہ گئی ہیں۔

میونخ کے مضافات میں واقع اس سینٹر کے مہاجرین نے اپنے نام خفیہ رکھنے کی شرط پر ڈی ڈبلیو کو اندرونی حالات کی تفصیلات بتائی ہیں۔ انہیں خوف ہے کہ ان کے نام سامنے آنے کی وجہ سے ان کو انتظامیہ کی طرف سے مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے یا پھر ان کی سیاسی پناہ کی درخواستوں کی راہ میں مزید رکاوٹیں کھڑی کی جا سکتی ہیں۔ ان مہاجرین کے مطابق کمرے تنگ ہیں، لوگ زیادہ ہیں، ٹوائلٹس کی حالت خراب ہے، کئی خودکشی کی کوشش کر چکے ہیں جبکہ کنٹین میں لڑائی جھگڑے بھی معمول کی بات ہیں۔

اس سینٹر میں رکھے گئے زیادہ تر مہاجرین کا تعلق براعظم افریقہ سے ہے۔ انہوں نے کیمپ کے اندرونی حالات کی ویڈیوز بھی ڈی ڈبلیو کو فراہم کی ہیں۔ ان کی طرف سے ایسی ویڈیوز بنانے اور انہیں کسی دوسرے کو فراہم کرنے پر بھی پابندی عائد ہے۔ ان ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ کمرے مہاجرین سے کس قدر بھرے ہوئے ہیں جبکہ بیت الخلاء میں گندگی اور پیلا پانی پھیلا ہوا نظر آتا ہے۔

ڈی ڈبلیو سے بات چیت کرنے والے متعدد مہاجرین نے بتایا کہ وہ ایک برس سے زیادہ عرصے سے ایک ایسے کمرے میں رہائش پذیر ہیں، جہاں آٹھ افراد تک کو رکھا جاتا ہے۔ اس سینٹر کے ملازمین اور مہاجرین کے علاوہ صرف امدادی ورکرز اور مقامی حکام کو اس کیمپ میں داخل ہونے کی اجازت ہے، جس کی وجہ سے مہاجرین کے ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق کرنا مشکل ہے۔ دوسری جانب فیورسٹن فیلڈ بروک سینٹر کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اس کیمپ میں ایک ہزار تک مہاجرین کو رکھا گیا ہے۔ انہیں کام کرنے کی اجازت نہیں ہے لیکن اندرونی حالات ’مناسب‘ ہیں۔

اس ٹاؤن کے کمشنر برائے انضمام ویلی ڈریسلر کا کہنا تھا کہ اس ریفیوجی سینٹر میں طویل المدتی بنیاد پر حالات مہاجرین کے لیے سازگار نہیں ہیں۔ انہوں نے ڈی ڈبلیو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کیمپ کے اندرونی حالات اکثر اوقات بہت مشکل ہوتے ہیں اور طویل المدتی بنیادوں پر انسانوں کے لیے سازگار نہیں ہیں۔ ان کے مطابق متعدد مہاجرین کو نفسیاتی وارڈ میں داخل کروانا پڑا کیوں کہ وہ خودکشی کا ارادہ رکھتے تھے۔

ویلی ڈریسلر کا اس سینٹر کے حوالے سے مزید کہنا تھا، ’’یہ بنیادی طور پر انسانوں کے لیے ایک بڑی اسٹوریج الماری ہے۔‘‘ کئی مہاجرین نے اس سینٹر کو ایک ’جیل‘ سے تشبیہ دی ہے۔

 جرمنی میں گزشتہ برس ایسے متعدد ’آنکر سینٹر‘ قائم کیے گئے تھے۔ آنکر لفط ’آمد، فیصلہ، واپسی‘ کا مرکب ہے۔ ان کے قیام کا مقصد مہاجرین کی قمست کا فیصلہ ایک ہی جگہ کرنا ہے۔ جرمن صوبے باویریا میں ایسے سات سینٹر موجود ہیں جبکہ جرمن حکومت ملک کے دیگر صوبوں میں بھی اس ماڈل کے تحت نئے سینٹر قائم کرنا چاہتی ہے۔ 

ا ا / ک م 

DW.COM