جرمن کمپنیوں کی اعلیٰ قیادت میں خواتین کی کمی | وجود زن | DW | 21.11.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

وجود زن

جرمن کمپنیوں کی اعلیٰ قیادت میں خواتین کی کمی

جرمن کمپنیوں میں لیڈرشپ پوزیشنز پر خواتین اب بھی ایک اقلیت ہیں۔ 2018ء میں صرف 26 فیصد خواتین نجی کمپنیوں کی اعلیٰ قیادت کا حصہ تھیں۔

'انسٹیٹیوٹ فار ایمپلائمنٹ ریسرچ‘ کی رپورٹ کے مطابق چالیس فیصد خواتین نجی کمپنیوں کی دوسری سطح کی قیادت کا حصہ ہیں۔ جرمنی میں 2016ء میں کمپنیوں کی قیادت میں مردوں اور عورتوں کے تناسب کو برابر کرنے کا قانون منظور ہوا تھا لیکن ابھی تک ان عہدوں پر برابری حاصل نہیں کی جاسکی۔

 اس رپورٹ کی محقق سوزانے کوہاٹ اور آئرس موئیلر کا کہنا ہے،'' اس قانون  کی منظوری کم از کم کمپنیوں کی سطح پر کوئی تبدیلی نہیں لا سکی۔‘‘ اس تحقیق کے مطابق مشرقی جرمنی میں اعلیٰ قیادت میں خواتین کی نمائندگی مغربی جرمنی سے بہتر ہے۔ زیادہ تر چھوٹے کاروبار خواتین چلا رہی ہیں۔ پانچ سو ملازمین والی صرف چودہ فیصد کمپنیوں کی اعلیٰ قیادت خواتین کے ہاتھوں میں ہے۔ اس تحقیق کے لیے جرمنی کی سولہ ہزار کمپنیوں کا سروے کیا گیا تھا۔

جرمنی کا شمار ترقی یافتہ ممالک میں ہوتا ہے لیکن خواتین کے حقوق پر کام کرنے والی تنظیموں کے مطابق یہاں خواتین اور مردوں کے درمیان مختلف شعبوں میں اب بھی فرق برقرار ہے۔

ب ج، ع ا

ویڈیو دیکھیے 02:35

مدرسے میں سیکس ایجوکیشن