جرمن کلیساؤں کی جانب سے مہاجرین کو زیادہ  تحفظ کی فراہمی | مہاجرین کا بحران | DW | 21.02.2017
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

 جرمن کلیساؤں کی جانب سے مہاجرین کو زیادہ  تحفظ کی فراہمی

جرمنی میں زیادہ سے زیادہ چرچ سے وابستہ برادریاں پناہ گزینوں کو ملک بدر ہونے سے بچانے کے لیے پناہ دے رہی ہیں۔ رواں برس جنوری میں ایسے کیسز کی تعداد میں گزشتہ سال دسمبر کی نسبت سولہ فیصد اضافہ ہوا ہے۔

Deutschland Taufe in Berlin für neu konvertierte Christen (Getty Images/AFP/J. MacDougall)

مذہبی بنيادوں پر سياسی پناہ کے حوالے سے جرمن قوانين واضح نہيں

مہاجرین کے لیے کام کرنے والے ایک جرمن ادارے ’ازُول ان ڈیئر کرشے‘ کے اعداد و شمار کے مطابق جنوری میں جرمنی بھر میں گرجا گھروں کے تحت چلائے جانے والے 323 مراکز میں 547 تارکینِ وطن کو پناہ دی گئی۔ اِن میں 145 بچے بھی شامل ہیں۔ ایک برس قبل کیتھولک اور پروٹیسٹنٹ چرچ کی جانب سے ایسے 277  مراکز میں 449 پناہ گزینوں کو ، جبکہ جنوری سن 2015 میں 200 مراکز میں 359 مہاجرین کو پناہ دی گئی۔

 'ازول ان ڈیئر کِرشے‘ کی مینیجنگ ڈائریکٹر گینیا شینکے پلش کی فراہم کردہ معلومات کے مطابق گرجا گھروں کی جانب سے پناہ میں لیے گئے مہاجرین کی کُل تعداد کے حوالے سے اعداد وشمار ابھی تک سامنے نہیں آئے۔ چرچ میں پناہ حاصل کرنے کے بعد پناہ گزینوں کو جرمنی میں کم از کم عارضی طور پر رہنے کا حق حاصل ہو جاتا ہے۔

 یہاں بنیادی بات یہ ہے کہ یورپی یونین کے ممالک میں پناہ کی تلاش میں آنے والے تارکینِ وطن کو ڈبلن قوانین کے تحت پناہ کی درخواست لازماﹰ دائر کرنا ہوتی ہے اور درخواست مسترد ہونے پر، مثال کے طور پر جرمنی آنے والوں کو جرمنی چھوڑنا ہو گا۔

خیال رہے کہ مذہبی بنيادوں پر سياسی پناہ کے حوالے سے جرمن قوانين واضح نہيں۔ اگر کوئی چرچ کسی کو پناہ فراہم کرتا ہے، تو يہ فيصلہ مکمل طور پر چرچ انتظاميہ کے ہاتھوں ميں ہے۔ چرچ ميں پناہ لينے والے يا اس سلسلے ميں کوشش کرنے والوں کو مقامی انتظاميہ اور حکام اچھی نظر سے نہيں ديکھتے۔