جرمن کتابی صنعت کا امن انعام زمبابوے کی مصنفہ دانگاریبموآ کو دے دیا گیا | فن و ثقافت | DW | 24.10.2021
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

فن و ثقافت

جرمن کتابی صنعت کا امن انعام زمبابوے کی مصنفہ دانگاریبموآ کو دے دیا گیا

جرمنی کی کتابی صنعت کا امسالہ امن انعام آج اتوار چوبیس اکتوبر کے روز زمبابوے کی معروف ادیبہ سِتسی دانگاریمبوآ کو دے دیا گیا۔ انہیں یہ انعام فرینکفرٹ میں جاری دنیا کے سب سے بڑے کتاب میلے کے دوران دیا گیا۔

اس وقت باسٹھ سالہ دانگاریبموآ ایک ناول نگار اور ڈرامہ نویس ہونے کے ساتھ ساتھ ایک فلم میکر بھی ہیں۔ انہیں اس انعام کے ساتھ پچیس ہزار یوروکی نقد رقم بھی دی گئی۔ یہ انعام 1950ء سے ہر سال دیا جاتا ہے۔

اس انعام کی حق دار شخصیت کا انتخاب کرنے والی جیوری کے مطابق سِتسی دانگاریمبوآ (Tsitsi Dangarembga) نہ صرف اپنے ملک زمبابوے کے اہم ترین ادیبوں اور فنکاروں میں سے ایک ہیں بلکہ ان کا شمار عہد حاضر کے سرکردہ افریقی ادیبوں میں بھی ہوتا ہے۔

جرمن کتابی صنعت کا امن انعام کینیڈین ادیبہ اَیٹ وُڈ کے لیے

جیوری کے مطابق، ''دانگاریمبوآ کی تخلیقات نہ صرف اہم سماجی اور اخلاقی تنازعات کی نشاندہی کرتی ہیں، بلکہ وہ اپنے علاقائی حوالوں سے بالا تر ہو کر عالمگیر سطح پر انصاف اور سماجی بہتری سے متعلق سوالات کو بھی جنم دیتی ہیں۔‘‘

چودہ فروری 1959 کو ماضی میں رہوڈیشیا اور اب زمبابوے کہلانے والے افریقی ملک کے شہر مُوتوکو میں پیدا ہونے والی دانگاریمبوآ کا اولین ناول Nervous Conditions 1988ء میں شائع ہوا تھا۔

جرمن امن انعام بیلا روس کی مصنفہ کے نام

Buchcover Tsitsi Dangarembga Aufbrechen

سِتسی دانگاریمبوآ کے ناولوں کے جرمن زبان میں بھی تراجم ہو چکے ہیں

ہٹلر کو فلم ’کنگ کانگ‘ کیوں پسند تھی؟ نئی کتاب

یہ ان کی تین ایسی کتابوں کے سلسلے کی پہلی کتاب تھا، جن میں سوانحی پہلو نمایاں ہے۔ ان کی اس سلسلے کی دوسری کتاب The Book of Not تھی جو 2006ء میں جبکہ تیسری کتاب This Mournable Body سن 2018ء میں شائع ہوئی تھی۔

زمبابوے کی اس مصنفہ کو جرمن بک انڈسٹری کا امن انعام دینے کی تقریب ہر سال کی طرح فرینکفرٹ شہر کے سینٹ پال چرچ میں منعقد ہوئی۔ یہ انعام وصول کرنے کے بعد اپنے خطاب میں سِتسی دانگاریمبوآ نے کہا کہ دنیا کو اس وقت ایک نئی روشن خیالی اور بصیرت کی ضرورت ہے۔

فرینکفرٹ بک فیئر میں آرنلڈ شوارزنیگرکی سوانح عمری کی رونمائی

انہوں نے کہا کہ یہ بصیرت ہی وہ بنیادی تبدیلی ہو سکتی ہے، جو ان نسل پرستانہ سماجی ڈھانچوں پر قابو پانے کے لیے ضروری ہے، جن کا آج بھی ان کے اپنے وطن اور ساری دنیا کو کسی نہ کسی صورت میں سامنا ہے۔

دانگاریمبوآ نے اپنے خطاب میں اپنے وطن زمبابوے کے نوآبادیاتی ماضی کا بھی کھل کر ذکر کیا اور وہاں سفید فام نوآبادیاتی حکمرانوں کی طرف سے مقامی سیاہ فام آبادی پر کیے جانے والے طرح طرح کے مظالم کا بھی۔ زمبابوے کے مقامی باشندوں پر یہ مظالم 1980ء میں اس ملک کی آزادی تک کیے جاتے رہے تھے۔

م م / ب ج (ڈی پی اے، اے پی)