جرمن چانسلر میرکل نے برطانیہ کی بریگزٹ تجاویز رد کر دیں | حالات حاضرہ | DW | 25.09.2018
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

جرمن چانسلر میرکل نے برطانیہ کی بریگزٹ تجاویز رد کر دیں

جرمن چانسلر میرکل نے برطانوی وزیر اعظم مے کی بریگزٹ تجاویز مسترد کر دی ہیں۔ میرکل کے بقول اگر برطانیہ آئندہ بھی یورپی مشترکہ منڈی میں رہنا چاہتا ہے تو وہ اپنے مفادات کے مطابق یورپی منڈی کے مخصوص حصے منتخب نہیں کر سکتا۔

جرمن چانسلر میرکل، دائیں، اور برطانوی وزیر اعظم مے کی بیس ستمبر کو زالسبرگ میں لی گئی ایک تصویر

جرمن چانسلر میرکل، دائیں، اور برطانوی وزیر اعظم مے کی بیس ستمبر کو زالسبرگ میں لی گئی ایک تصویر

وفاقی جرمن چانسلر انگیلا میرکل کے مطابق یہ بات طے ہے کہ برطانیہ اگلے برس اکتیس مارچ تک یورپی یونین سے علیحدگی اختیار کر لے گا۔ تاہم اب تک اس سلسلے میں کسی باقاعدہ برطانوی یورپی معاہدے کے حوالے سے لندن حکومت کی طرف سے جو تجاویز پیش کی گئی ہیں، وہ قابل قبول نہیں ہیں۔

انگیلا میرکل کے مطابق یونین سے اپنے اخراج یا بریگزٹ کے بعد بھی اگر لندن حکومت چاہتی ہے کہ برطانیہ یورپی مشترکہ منڈی کا حصہ رہے، تو لندن کی یہ تجویز یونین کے لیے قابل قبول نہیں ہو سکتی کہ وہ یورپی سنگل مارکیٹ کے مخصوص حصوں میں شامل رہنے کے لیے محض اپنے ہی مفادات کو پیش نظر رکھے۔

اس بارے میں انگیلا میرکل نے واضح طور پر کہا، ’’جرمنی ایسی ہر کوشش کی مخالفت کرے گا، جو پوری یورپی مشترکہ منڈی کے مفاد میں نہ ہو اور جس کے ذریعے عالمی تجارت کو کھوکھلا کرنے کی کوئی کاوش کی جائے۔‘‘

منگل پچیس ستمبر کو چانسلر میرکل نے لندن میں ویسٹ منسٹر کی ان توقعات کو بھی رد کر دیا کہ برطانیہ بریگزٹ کے بعد بھی پہلے کی طرح اشیاء کی یورپی مشترکہ منڈی کا حصہ رہ سکتا ہے۔

Merkel auf dem Tag der Deutschen Industrie

انگیلا میرکل برلن میں بی ڈی آئی کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے

تاہم اس اختلاف رائے کے باوجود جرمن سربراہ حکومت نے اس امید کا اظہار بھی کیا کہ یورپی یونین اور برطانیہ کے مابین بریگزٹ سے متعلق ایک معاہدہ اکتوبر تک طے پا سکتا ہے۔

سب سے بڑا اختلاف

ملکی دارالحکومت برلن میں جرمن صنعتوں کی وفاقی تنظیم بی ڈی آئی کے زیر اہتمام سرکردہ کاروباری شخصیات کے ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے انگیلا میرکل نے کہا، ’’یہ تو ہو نہیں سکتا، جیسے کہ برطانوی وزیر اعظم ٹریزا مے نے تجویز پیش کی ہے، کہ اگلے برس مارچ کے اختتام پر بریگزٹ کے بعد برطانیہ اشیاء کی یورپی سنگل مارکیٹ کا حصہ تو رہے لیکن سرمائے اور مالیاتی خدمات کے شعبے میں مشترکہ منڈی میں شامل رہنے سے انکار کر دے۔‘‘

چانسلر میرکل کی رائے میں یہ ممکن ہے کہ مستقل میں یورپی یونین اور برطانیہ کے باہمی روابط سے متعلق ایک ایسا معاہدہ طے پا جائے، جس میں فیصلہ کن اہمیت بہت قریبی نوعیت کے ایک آزاد تجاری علاقے کو دی جائے۔

میرکل کے الفاظ میں، ’’اگر ایسا نہ ہوا تو بریگزٹ کے حوالے سے ’عبوری مدت‘ کا اب تک طے شدہ 2020ء کے آخر تک کا عرصہ بھی کم پڑ جائے گا۔‘‘

یورپی یونین کے دیگر تقریباﹰ سبھی رکن ممالک کے رہنماؤں کی طرح جرمن چانسلر کی سوچ بھی یہی ہے کہ بریگزٹ سے متعلق بے یقینی کی صورت حال اور کسی بڑی مذاکراتی پیش رفت کی عدم موجودگی یورپی معیشتوں کے لیے بےچینی کا سبب بن رہی ہے۔

اسی لیے یورپی یونین کی سب سے بڑی معیشت اور سب سے زیادہ آبادی والے ملک جرمنی کی سربراہ حکومت کے طور پر انگیلا میرکل نے کہا، ’’کاروباری شعبوں کو واضح صورت حال اور شفافیت کی ضرورت ہوتی ہے۔ میں دیکھ سکتی ہوں کہ یورپی یونین کے لیے آنے والے دن اور ہفتے بہت ہی کٹھن اور صبر آزما ہوں گے۔‘‘

بریگزٹ مذاکرات میں اب تک کسی بڑی پیش رفت کا سامنے نہ آنا اور یورپی رہنماؤں کی طرف سے برطانوی وزیر اعظم مے کی پیش کردہ تجاویز کا رد کر دیا جانا خود ٹریزا مے اور ان کی حکومت کے لیے بھی شدید پریشانی اور دباؤ کا باعث بنا ہوا ہے۔

DW.COM