جرمن وزیر خارجہ عراق میں: تعاون کی یقین دہانی | حالات حاضرہ | DW | 07.12.2015
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

جرمن وزیر خارجہ عراق میں: تعاون کی یقین دہانی

عراقی وزیر اعظم حیدر العبادی نے پیر کو وفاقی جمہوریہ جرمنی سے درخواست کی ہے کہ وہ عراق سے دہشت گرد نیٹ ورک اسلامک اسٹیٹ کے خلاف جنگ میں مزید تعاون کرے۔

العبادی نے یہ بات پیر کو عراق کے اچانک دورے پر بغداد پہنچنے والے جرمنی کے وزیر خارجہ فرانک والٹر شٹائن مائیر کے ساتھ ملاقات کے دوران کہی۔ اس موقع پر عراقی وزیر اعظم کا کہنا تھا،’’ دہشت گردی کا خطرہ محض عراق کے لیے نہیں ہے بلکہ اس خطرے سے یورپ بھی دوچار ہے ۔ العباردی نے جرمنی سے خاص طور پر عراقی فوجیوں کی تربیت میں معاونت کی درخواست کی ہے۔ سر دست جرمن فورسز صرف کُرد فوجیوں کو شمالی عراق میں تربیت دینے کا کام انجام دے رہی ہے۔

وفاقی جرمن وزیر خارجہ کا عراق کے دورے کا ایک اہم مقصد بغداد حکومت پر اُن کامیابیوں کو اجاگر کرنا ہے جس میں جرمنی نے اہم کردار ادا کیا ہے۔ یعنی حالیہ دنوں میں عراق کے چند علاقوں کو اسلامک اسٹیٹ یا داعش کے جنگجوؤں سے آزاد کروا کر واپس بغداد حکومت کے کنٹرول میں دینے کے عمل میں جرمن فوج نے نمایاں کردار ادا کیا ہے۔

Irak Deutschland Steinmeier bei Haider al-Abadi

جرمن وزیر خارجہ عراقی وزیر اعظم کے ساتھ

جرمن وزیر خارجہ نے حیدر العبادی کو یقین دلایا کہ وہ عراقی حکومت اور بین الاقوامی برادری کو درپیش چیلنجز کا پوری طرح ادراک رکھتے ہیں اور ان کے بارے میں غلط اندازہ نہیں لگا رہے ہیں۔

عراقی حکومت کی طرف سے دولت اسلامیہ کے خلاف جنگ میں جرمنی کی مزید سپورٹ کی درخواست کے بارے میں شٹائن مائیر کا کہنا تھا کہ انہوں نے العبادی کی گزارشات کو بہت غور سے سُنا ہے۔ جرمن وزیر نے برلن حکومت کے اُس منصوبے کا زکر بھی کیا جس کے تحت جرمنی اسلامک اسٹیٹ کے قبضے سے آزاد کروا لیے جانے والے علاقوں میں پانچ فیلڈ ہسپتال قائم کرنے میں عراقی حکومت کے ساتھ بھرپور تعاون کرے گا۔

گزشتہ چند ماہ کے دوران عراق میں فعال داعش کے جنگجوؤں نے متعدد عراقی علاقوں کو اپنے قبضے میں لے لیا ہے۔ گزشتہ سال اسلامک اسٹیٹ نے عراق کے دوسرے سب سے بڑے شہر موصل کو اپنے قبضے میں لے لیا تھا جو اس دہشت گرد تنظیم کی ایک بڑی کامیابی کے طور پر دیکھا جا رہا تھا۔

Irak Unruhen ISIL Kämpfer in Mosul 11. Juni 2014

گزشتہ برس موصل پر آئی ایس نے قبضہ حاصل کر لیا تھا

اقوام متحدہ کے اندازوں کے مطابق 3.2 ملین عراقی اپنے ہی ملک میں ایک عرصے سے چلے آ رہے بحران کے سبب گھر بار چھوڑ کر مہاجرت کی زندگی گزارنے پر مجبور ہوئے ہیں۔ قریب ڈھائی لاکھ شامی پناہ گزین بھی اپنے ملک کی خانہ جنگی سے تنگ آکر ہمسائے ملک عراق کی طرف نقل مکانی کر چُکے ہیں۔

جرمن وزیر خارجہ فرانک والٹر شٹائن مائیر نے عراق کے دورے کے دوران بغداد میں بیان دیتے ہوئے مزید کہا،’’عراق میں استحکام کی کوششیں اتنی ہی اہم ہیں جتنا کہ شام کے بحران کا سیاسی حل تلاش کرنے کا عمل اہم ہے‘‘۔

جرمن وزیر خارجہ کے عراق کے اس دورے کی خبر اُس وقت تک عام نہیں کی گئی جب تک وہ بغداد پہنچ نہیں گئے۔ اس کی وجہ سکیورٹی سے متعلق خدشات بتائی گئی ہے۔

DW.COM