جرمن سیاستدانوں کو جان سے مارنے کی دھمکیاں، حکام پریشان | معاشرہ | DW | 04.11.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

معاشرہ

جرمن سیاستدانوں کو جان سے مارنے کی دھمکیاں، حکام پریشان

جرمنی میں دائیں بازو کی شدت پسندوں کی جانب سے سیاستدانوں کو جان سے مارنے کی دھمکیوں میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ برلن حکومت نے اب اس مسئلے پر قابو پانے کے لیے ایک منصوبہ بنایا ہے۔

آج پیر کو مقامی ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والی رپورٹوں کے مطابق جرمنی بھر کے سیاستدان چانسلر انگیلا میرکل سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ حکومت دائیں بازو کی شدت پسندی اور نفرت انگیزی کے خاتمے کے اپنے منصوبے پر فوری طور پر عمل کرے۔ اس صورتحال میں تبدیلی کا مطالبہ ایک ایسے وقت پر سامنے آیا، جب ماحول دوست گرین پارٹی کے سابق سربراہ چَیم اوئزدیمیر اور کلاؤڈیا روتھ کو نیو نازی گروپ کی جانب سے قتل کرنے کی دھمکیاں موصول ہوئی ہیں۔

 اس طرح وفاق اور ریاستوں کے ایسے سیاستدانوں کی فہرست طویل ہو گئی ہے، جنہیں گزشتہ چند ہفتوں کے دوران قتل کرنےدھمکیاں مل چکی ہیں۔ جرمن وزیر داخلہ ہورسٹ زیہوفر نے مقامی ذوڈ ڈوئچے سائٹنگ سے باتیں کرتے ہوئے کہا،'' قتل کی ان دھمکیوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہمارا معاشرہ انتہائی پریشان کن حالات کا شکار ہوتا جا رہا ہے۔‘‘

چانسلر میرکل کی قدامت پسند جماعت کے پارلیمانی گروپ کے نائب چیئرمین تھورسٹن فرائی کے مطابق وہ چاہتے ہیں کہ دائیں بازو کی شدت پسندی کے خلاف حکومت کا منصوبہ جلد از جلد ایک قانون کی شکل اختیار کر لے۔ ان کے بقول،'' ہم ہر طرح سے پوری کوشش کریں گے کہ یہ منصوبہ فوری طوری پر پارلیمان سے منظور ہو جائے۔‘‘

برلن حکومت چاہتی ہے کہ آن لائن اور سوشل میڈیا ادارے نفرت انگیزی، مجرمانہ مواد اور دائیں بازو کی شدت پسندی پھیلانے والوں کے آئی پی ایڈریس فراہم کریں تاکہ ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جا سکے۔ ابھی گزشتہ ماہ اکتوبر میں دائیں بازو کے ایک شدت پسند کی جانب سے ایک یہودی عبادت گاہ کو نشانہ بنانے کی کوشش کے دوران دو افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ اسی طرح جون میں چانسلر میرکل کی جماعت سے تعلق رکھنے والے ایک سیاستدان والٹر لؤبکے کو ایک نیو نازی شدت پسند نے مہاجر دوست ہونے کی وجہ سے قتل کر دیا تھا۔

ع ا / ک م 

DW.COM