جرمن رياست نارتھ رائن ويسٹ فیليا، سلفی مسلمانوں کا گڑھ | معاشرہ | DW | 22.10.2018
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

معاشرہ

جرمن رياست نارتھ رائن ويسٹ فیليا، سلفی مسلمانوں کا گڑھ

جرمنی ميں سلفی مسلمان گو کہ گزشتہ چند برسوں کے مقابلے ميں آج معاشرے میں اتنے متحرک نہیں تاہم انٹيليجنس ماہرين کے مطابق نجی سطح پر سخت گير نظريات کے حامل اسلام کی اس شاخ کے پیروکار اب بھی کس حد تک سرگرم ہیں۔

نومسلم سلفی مبلغ پيئر فوگل کھلے بندوں ايک خاتون سے مخاطب ہو کر کہتے ہيں، ’’ميرے الفاظ ميرے بعد دہرائيں۔‘‘ متعلقہ خاتون بڑی عقيدت و احترام کے ساتھ اس مبلغ کے الفاظ دہراتے ہوئے ’اسلام قبول کرنے‘ کا عمل مکمل کرتی ہیں۔ جرمنی کے مغربی شہر اوفن باخ میں ايک عوامی مقام پر موجود مجمع  يہ منظر ديکھ کر داد دے رہا ہے۔ یہ واقعہ 2010ء ميں فلمايا گيا تھا اور بعد ازاں اس کی ويڈيو ’يو ٹيوب‘ پر جاری کر دی گئی تھی۔ جرمنی ميں سلفی مسلمانوں کی جانب سے تبليغ اور لوگوں کو سخت گیر تشریح کے حامل اسلام کی جانب راغب کرنے کی ايسی متعدد ويڈيوز جاری کی جا چکی ہيں۔

اپنے مخصوص لباس زيب تن کيے ہوئے اور لمبی داڑھيوں والے پيئر فوگل جيسے کئی سلفی مسلمانوں کو سن 2016 تک جرمنی کے متعدد شہروں ميں عوامی مقامات پر ديکھا جا سکتا تھا۔ يہ اکثر ’LIES‘ يا ’پڑھو‘ نامی ايک مہم کے تحت مارکيٹوں اور گزرگاہوں پر مسلمانوں کی مقدس کتاب قرآن تقسيم کرتے ہوئے دکھائی ديتے تھے۔ سلفيوں کے کئی اہم مبلغ ’انتہا پسندانہ تشریحات پر مبنی اسلام‘ کی تبليغ کھلے عام کيا کرتے تھے۔ جرمنی ميں اپنے نظريات پر مبنی ايک متوازی اسلامی معاشرے کے قیام کی کوششوں ميں مصروف يہ سلفی رہنما عام لوگوں کو اپنی جانب راغب کرنے کے ليے فٹ بال کے مقابلوں اور کھانے پينے کی دعوتوں جيسی مصروفیات کا سہارا بھی لیتے تھے۔

ان دنوں البتہ جرمنی میں سلفيوں کی ’LIES‘ نامی مہم کے کوئی آثار دکھائی نہيں ديتے۔ جرمن وزارت داخلہ نے سلفیوں کی ’حقيقی مذہب‘ نامی تنظیم پر سن 2016 ميں پابندی عائد کر دی تھی۔ جرمنی کی داخلی انٹيليجنس ايجنسی BfV نے اس فيصلے کی وجہ بيان کرتے ہوئے کہا تھا کہ يہ تنظیم ’مسلح جہاد‘ کو فروغ ديتے ہوئے جرمنی ميں جہادی نظريات کے حامل اسلام پسندوں کی بھرتی کی پاليسی جاری رکھے ہوئے تھی اور يہ بھی کہ یہ تنظیم جہادی سوچ کے تحت شام اور عراق جانے والوں کو مدد فراہم کرنے ميں بھی ملوث تھی۔

اس پابندی کے بعد سلفی مسلمان عوامی مقامات پر اجتماعات سے پرہيز کرتے ہيں تاہم يہ منظر سے بالکل غائب نہيں ہوئے۔ انتہا پسندانہ رجحانات کے انسداد کے ليے جرمنی ميں سرگرم ’حيات‘ نامی ايک ايجنسی سے منسلک مشیر چان اورہان کا کہنا ہے کہ سلفيوں کی زيادہ تر سرگرمياں اب بھی درپردہ جاری ہيں۔

چان اورہان کا کہنا ہے کہ نوجوانوں کی بھرتی اکثر  ڈھکے چھپے انداز سے نجی اور نچلی سطح پر جاری ہے۔ رابطہ کاری عموماً وٹس ايپ اور ٹيلی گرام نامی موبائل فون ايپليکيشنز کے ذريعے ہوتی ہے۔ اسی سبب پوليس اور انٹيليجنس حکام کو اس کا سراغ لگانے ميں دشوارياں پيش آتی ہيں۔

آبادی کے لحاظ سے جرمنی کے سب سے بڑے وفاقی صوبے نارتھ رائن ويسٹ فیليا ميں BfV کے سربراہ برکہارڈ فرائر کہتے ہيں، ’’سلفيوں کا مقصد اپنا مشن پھيلانا اور اپنے پيروکاروں کی تعداد بڑھانا ہے۔‘‘

سلفی اسلام کے مختلف روپ

جرمنی ميں سب سے زيادہ سلفی مسلمان نارتھ رائن ويسٹ فیليا ميں آباد ہيں۔ ملک بھر ميں انتہا پسندانہ رجحانات کی طرف مائل ہونے والے لگ بھگ ايک ہزار افراد ميں سے تين سو کے بارے ميں سمجھا جاتا ہے کہ وہ ’اسلامک اسٹيٹ‘ یا داعش کی رکنيت حاصل کرنے کے مقصد سے ملک چھوڑ چکے ہيں۔ ان ميں سے اکثريت کا تعلق اسی جرمن صوبے سے تھا۔

جرمنی ميں پچھلے چند برسوں کے دوران ہونے والے تقريباً تمام دہشت گردانہ حملے ايسے افراد کی جانب سے کيے گئے، جنہيں انتہا پسند بنانے ميں سلفيوں نے کردار ادا کيا تھا۔ سن 2016 ميں دارالحکومت برلن کی ايک کرسمس مارکيٹ پر حملہ کرنے والے انيس عامری کے ساتھ بھی ايسا ہی ہوا تھا۔ اس حملے ميں بارہ افراد ہلاک ہوئے تھے اور يہ جرمنی میں اسلام پسندوں کی طرف سے کيا جانے والا سب سے خون ريز حملہ تھا۔ برکہارڈ فرائر کے مطابق اکثر يہ جملہ سننے کو ملتا ہے کہ ’ہر سلفی دہشت گرد نہيں ليکن ہر دہشت گرد سلفی ضرور ہوتا ہے‘۔

سلفی اسلام ہے کيا؟

دراصل سلفی اسلام اس مذہب کی ايک انتہائی قدامت پسند اور سخت گیر شاخ ہے۔ اس کے ماننے والے قرآن کے ترجمے کے ظاہری معنوں پر يقين رکھتے ہيں اور اپنے طرز زندگی کو پيغمبر اسلام اور ان کے بعد کے دور کے طرز پر ڈھالنے کی کوشش کرنے کا دعویٰ کرتے ہيں۔ سلفی مسلمانوں کے دھڑوں ميں بھی اکثر لوگ اپنے سخت گير موقف اور نظريات کو نجی ہی رکھنا چاہتے ہيں تاہم ان کی ايک اچھی خاصی تعداد کا شمار ایسے افراد ميں ہوتا ہے، جو سياسی مقاصد کے حصول کے ليے سرگرم ہيں۔ وہ جرمنی کے بنيادی قانون جيسے آزاد اور سيکولر قوانين کو مسترد کرتے ہيں اور فقط شرعی قوانین کو ہی اپنے لیے بنیادی معاشرتی ضوابط تسلیم کرتے ہیں۔

يہ امر بھی اہم ہے کہ سياسی سلفی تحريک اور جہادی سلفيوں ميں بھی فرق ہے۔ جہادی نظريات کے حامل سلفی تشدد کے استعمال پر آمادہ دکھائی ديتے ہيں۔ نارتھ رائن ويسٹ فیليا ميں سلفی مسلمانوں کی تعداد تين ہزار کے قريب ہے، جن ميں سے آٹھ سو کے بارے ميں خيال کيا جاتا ہے کہ وہ تشدد پر بھی آمادہ ہيں۔

نارتھ رائن ويسٹ فیليا ميں رہائش پذير سلفيوں ميں بارہ فيصد تعداد خواتين کی ہے۔ شام اور عراق کا سفر کرنے والے سلفی مسلمانوں ميں خواتين کا تناسب اٹھائيس فيصد تھا۔

جرمن شہر بون ميں سماجی انضمام کے محکمے کی ايک خاتون اہلکار کوليٹا مانيمن ’اسلامک اسٹيٹ‘ کی رکن رہنے اور پھر جرمنی واپس لوٹنے والی عورتوں اور بچوں کے ساتھ کام کرتی ہيں۔ ان کے بقول واپس آنے والوں کو معاشرے ميں دوبارہ اپنی جگہ بنانے کا موقع ديا جانا چاہيے تاہم اس بات کے ليے بھی تيار رہنا چاہيے کہ يہی لوگ ديگر افراد اور بچوں کو انتہا پسندانہ رجحانات کی طرف راغب کرنے کی کوششيں نہ کريں۔

انتہا پسندانہ رجحانات کے انسداد کے ليے جرمنی ميں سرگرم ’حيات‘ نامی ايک تنظیم سے منسلک مشیر چان اورہان کا کہنا ہے کہ شام اور عراق ميں جنگی حالات کا سامنا کرنے کے بعد واپس لوٹنے والی خواتین کی ذہنيت ايک دوسرے سے کافی مختلف ہوتی ہے۔ کچھ اپنے ماضی کی وجہ سے کافی ذہنی دباؤ کا شکار دکھائی ديتی ہيں اور کچھ پر الجھن، پريشانی اور بے يقينی کی کيفيت طاری ہوتی ہے۔

جرمن صوبے نارتھ رائن ويسٹ فیليا ميں مؤنشن گلاڈ باخ، وُوپرٹال، ڈِنسلاکن، بون اور ڈورٹمنڈ وہ اہم شہر ہيں جہاں مسلمانوں کی اقلیتی آبادی میں سلفیوں کا تناسب مقابلتاً زيادہ ہے۔

نارتھ رائن ويسٹ فیليا ميں جرمنی کی داخلی انٹیلیجنس کے سربراہ برکہارڈ فرائر کے مطابق جرمنی ميں سلفی مسلمان سن 2003 اور سن 2004 ميں منظر عام پر آنا شروع ہوئے تھے۔ انہوں نے بتايا کہ ابتداء ميں يہ صرف جرمن زبان ميں تبليغ کيا کرتے تھے۔ پھر وقت کے ساتھ ساتھ چيزيں بدلتی گئیں۔ فرائر کے مطابق شام اور عراق ميں ’اسلامک اسٹيٹ‘ کی عسکری ناکاميوں کے تناظر ميں اب کئی مقامات پر پورے کے پورے خاندان سرگرم دکھائی ديتے ہيں۔ انہوں نے کہا، ’’اب يہاں باقاعدہ سلفی ازم موجود ہے۔ انہيں کسی خلافت يا ملک کی ضرورت نہيں کيونکہ اپنا نظرياتی ايجنڈا پھيلانے کے ليے انہيں بيرونی عناصر پر انحصار نہیں کرنا پڑتا۔‘‘ جرمنی ميں سلفی مسلمانوں نے معاشرے سے الگ تھلگ ہو کر دیگر افراد کے لیے اپنے دروازے بند کر رکھے ہيں اور پورے کے پورے خاندان تبلیغی نيٹ ورکس میں تبدیل ہو رہے ہیں۔

ع س / ع ت (ایستھر فیلڈن، ماتھیاس فان ہائن)

DW.COM