جرمن خاتون کی گھر میں پرنٹ کردہ نوٹوں سے گاڑی خریدنے کی کوشش | معاشرہ | DW | 17.07.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

معاشرہ

جرمن خاتون کی گھر میں پرنٹ کردہ نوٹوں سے گاڑی خریدنے کی کوشش

ایک جرمن خاتون نے خود ہی کرنسی نوٹ پرنٹ کیے اور پھر ان کے ذریعے گاڑی خریدنے کے لیے شوروم پہنچ گئیں لیکن دھوکا دینے کی کوشش اس خاتون کو مہنگی پڑ گئی۔

ایک جرمن لڑکی نے خود ہی کرنسی نوٹ پرنٹ کیے اور پھر ان کے ذریعے گاڑی خریدنے کے لیے شوروم پہنچ گئی لیکن دھوکا دینے کی کوشش اس خاتون کو مہنگی پڑ گئی۔

جرمنی کے شہر کائزرس لاؤٹرن میں جمعے کے روز ایک نوجوان خاتون کار خریدنے کی خواہش لیے ایک شو روم گئیں لیکن کچھ ہی دیر بعد اسے پولیس کی گاڑی میں بیٹھنا پڑا۔ یہ خاتون جعلی کرنسی نوٹوں کے ذریعے گاڑی خریدنے کی کوشش کر رہی تھی، کار ڈیلر نے فوری طور پر پولیس کو اطلاع دے دی اور یوں خاتون کو گرفتار کر لیا گیا۔

جعل سازی کرنے والی خاتون کی عمر بیس برس تھی۔ نقلی کرنسی نوٹوں کی نشاندہی کرنا شو روم کے ڈیلر اور پولیس کے تفتیش کاروں کے لیے بھی کچھ زیادہ مشکل ثابت نہ ہوا کیوں کہ اس خاتون نے اپنے گھر ہی میں ایک عام رنگین پرنٹر کی مدد سے سادہ کاغذ پر پچاس اور سو یورو مالیت کے کرنسی نوٹ پرنٹ کیے تھے۔

پولیس کو اس بیس سالہ خاتون کے گھر کی تلاشی کے دوران پرنٹر بھی مل گیا اور خاتون کی تیرہ ہزار یورو مالیت کی مزید 'دولت‘ بھی، جو اسی پرنٹر سے پرنٹ کی گئی تھی۔

جرائم کی تحقیقات کرنے والی وفاقی پولیس (بی کے اے) کے مطابق 'کرنسی کی نقل تیار کر کے مارکیٹ میں لانے‘ کی کم از کم سزا ایک برس قید ہے۔ ابھی تک دفتر استغاثہ نے اس نوجوان خاتون کے خلاف الزامات عائد کر کے مقدمے کی کارروائی شروع نہیں کی۔

جرمنی کی وفاقی پولیس کے مطابق عام طور پر انتہائی پیشہ ور جعل ساز جعلی کرنسی نوٹ بنانے کے لیے خصوصی آلات استعمال کرتے ہیں تاہم انٹرنیٹ پر ایسی مشینری بھی باآسانی مل جاتی ہے جنہیں استعمال میں لاتے ہوئے عام لوگ بھی جعلی نوٹ بنا لیتے ہیں۔ سب سے زیادہ پچاس یورو کے کرنسی نوٹ کی نقول تیار کی جاتی ہیں۔

بی کے اے نے اپنی ایک تازہ رپورٹ میں بتایا ہے کہ سن 2018 میں جعلی کرنسی نوٹوں کے حوالے سے 54 ہزار سے زائد مقدمات درج کیے گئے۔ گزشتہ برس کے دوران مجموعی طور پر ملکی مارکیٹ سے ایک لاکھ جعلی کرنسی نوٹ ضبط کیے گئے جن کی مالیت سترہ ملین یورو کے برابر بنتی ہے۔

ش ح / ا ا (ویزلے راہن)

DW.COM