جرمن جنگی طیارے سے دو اضافی ٹینک دوران پرواز زمین پر گر گئے | حالات حاضرہ | DW | 20.09.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

جرمن جنگی طیارے سے دو اضافی ٹینک دوران پرواز زمین پر گر گئے

وفاقی جرمن فضائیہ کے ایک جنگی طیارے کے ساتھ ایک تربیتی پرواز کے دوران ایسا واقعہ پیش آیا، جسے ماہرین نے ’خطرناک حادثہ‘ قرار دیا ہے۔ اس فائٹر جیٹ سے دو اضافی ٹینک دوران پرواز چھ ہزار میٹر کی بلندی سے زمین پر گر گئے۔

جرمن ایئر فورس کے ذرائع کے مطابق اس واقعے میں کوئی شخص زخمی نہیں ہوا کیونکہ یہ دونوں ٹینک خالی تھے۔ یہ غیر معمولی واقعہ جرمن فضائیہ کے ایک ٹورناڈو جیٹ کے ساتھ ایک تربیتی پرواز کے وقت ایئر بیس واپسی کے سفر کے دوران پیش آیا۔ بتایا گیا ہے کہ اس جنگی طیارے پر نصب دو ایسے ٹینک دوران پرواز پھسل کر اس وقت اس جیٹ سے علیحدہ ہو کر زمین پر آ گرے، جب یہ ٹورناڈو زمین سے چھ کلومیٹر کی بلندی پر پرواز میں تھا۔

جرمن ایئر فورس کے ایک ترجمان نے تصدیق کی کہ خوشی قسمتی سے اس 'حادثے‘ میں کوئی شخص زخمی نہیں ہوا کیونکہ یکدم ایک غیر محسوس انداز میں اس لڑاکا ہوائی جہاز سے علیحدہ ہو کر زمین پر گر جانے والے دونوں ٹینکوں میں کوئی ایندھن نہیں تھا۔

بعد میں ان دونوں خالی ٹینکوں میں سے ایک شمالی جرمن صوبے شلیسوگ ہولشٹائن کے پانزڈورف نامی علاقے میں ایک ایسے کھیت سے ملا، جس میں کھڑی فصل کچھ عرصہ پہلے ہی کاٹی گئی تھی۔

 آخری خبریں آنے تک ہزاروں میٹر کی بلندی سے زمین پر گرنے والے ایسے دوسرے خالی ٹینک کی تلاش ابھی جاری تھی۔ جرمن ایئر فورس کے ایک ترجمان کے مطابق جب وہ واقعہ پیش آیا، اس وقت متعلقہ ٹورناڈو جیٹ ملکی فضائیہ کے ایسی ہی ساخت کے ایک دوسرے جنگی طیارے کے ساتھ ایک تربیتی مشن کے بعد واپس لوٹ رہا تھا۔

یہ بات ابھی تک واضح نہیں کہ ایک جنگی طیارے پر نصب کیے گئے یہ دونوں اضافی فیول ٹینک اس فائٹر جیٹ سے کن وجوہات کے باعث علیحدہ ہو گئے تھے۔ ان دونوں جرمن جنگی طیاروں کا تعلق ملک کے شمالی صوبے شلیسوگ ہولشٹائن میں ژاگل کے مقام پر واقع شلیسوگ ایئر بیس سے تھا۔

م م / ع س (ڈی پی اے، اے ایف پی)

DW.COM