جرمن جامعات میں غیریورپی طلبا کے لیے ٹیوشن فیس پر تنقید | معاشرہ | DW | 22.11.2017
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

جرمن جامعات میں غیریورپی طلبا کے لیے ٹیوشن فیس پر تنقید

جرمنی کے سب سے بڑے صوبے نارتھ رائن ویسٹ فیلیا (این آر ڈبلیو) کی صوبائی حکومت یورپی یونین کے باہر سے آنے والے طالب علموں کے لیے ٹیوشن فیس متعارف کروانے کا ارادہ رکھتی ہے، جس پر شدید تنقید کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔

این آر ڈبلیو کی صوبائی حکومت کے اس منصوبے کے ناقدین کا کہنا ہے کہ اس طرح اس صوبے کی یونیورسٹیوں میں غیر ملکی طالب علموں کی تعداد انتہائی کم ہو جانے کا خطرہ ہے۔ یورپ اور دنیا کے کئی دیگر ممالک کے برعکس جرمنی کے متعدد صوبوں میں یونیورسٹی سطح تک مفت تعلیم فراہم کی جاتی ہے۔ ان صوبوں میں طالب علموں کو صرف اپنے ’ٹریول کارڈز‘ بنوانے کے لیے چھ ماہ پر مشتمل فی سمیسٹر تقریباﹰ تیس ہزار پاکستانی روپے ادا کرنا پڑتے ہیں۔

کولون یونیورسٹی میں اسٹوڈنٹس یونین کی ایگزیکٹیو کمیٹی کی سربراہ اِمکے آہلن کا ڈی ڈبلیو سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا، ’’صوبے باڈن ورٹمبرگ میں ہم اس طرح کے ناکام منصوبے کا تجربہ کر چکے ہیں اور اب این آر ڈبلیو بھی اسی طرف بڑھ رہا ہے۔‘‘ ان کا مزید کہنا تھا، ’’اس طرح کی بیوقوفیاں بند ہونی چاہییں۔‘‘

جرمنی میں تعلیم اور اخراجات

یہاں بیوقوفی سے مراد صوبائی خاتون وزیر برائے سائنس ایزابیل فائفر کی وہ تجویز ہے، جس کے مطابق یورپی یونین کے علاوہ تمام غیر ملکی اسٹوڈنٹس سے فی سمیسٹر ٹیوشن فیس وصول کی جائے گی۔ صوبائی وزیر برائے سائنس کے اس بیان کو حیران کن قرار دیا جا رہا ہے کیوں کہ اس صوبے کی اتحادی جماعتوں میں یہ معاہدہ طے پایا تھا کہ یونیورسٹیوں میں ٹیوشن فیس عائد نہیں کی جائے گی۔ تاہم اب اس خاتون وزیر کا ایک مقامی اخبار کو انٹرویو دیتے ہوئے کہنا تھا، ’’یورپی یونین کے باہر سے آنے والے اسٹوڈنٹس جرمن بنیادی ڈھانچہ استعمال کرتے ہوئے اچھی تعلیم حاصل کر سکتے ہیں اور بدلے میں انہیں ان اخراجات کا حصہ دار بننا ہو گا۔‘‘

صحیح یونیورسٹی اور ڈگری کا انتخاب

اس منصوبے کا مقصد اس صوبے کی آمدنی میں اضافہ کرنا ہے تاکہ یونیورسٹیوں کے حالات کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔ ایسا ہی ایک منصوبہ رواں برس کے آغاز میں جرمن صوبے باڈن ورٹمبرگ میں شروع کیا گیا تھا۔ اس صوبے میں غیرملکی طالب علموں سے اب سالانہ تین ہزار یورو فیس وصول کی جاتی ہے۔ اگر بالکل ایسے ہی منصوبے کا آغاز این آر ڈبلیو میں ہوتا ہے تو صوبائی حکومت کو سالانہ دو سو ملین یورو کی آمدنی متوقع ہے۔ نارتھ رائن ویسٹ فیلیا میں اس وقت یونیورسٹی طالب علموں کی تعداد سات لاکھ چالیس ہزار سے زائد ہے اور ان میں سے 67 ہزار سے زائد غیرملکی ہیں۔ یورپی یونین کے باہر سے آنے والے طلبا میں زیادہ تر تعداد ترکی، چین اور بھارت کے طالب علموں کی ہے۔

دوسری جانب  اِمکے آہلن کا کہنا ہے کہ باڈن ورٹمبرگ کی طرح اس صوبے میں بھی غیر ملکی طالب علموں کی تعداد میں شدید کمی ہو جائے گی۔ ٹیوشن فیس متعارف کرانے کے بعد مختصر عرصے کے دوران ہی باڈن ورٹمبرگ کی یونیورسٹیوں میں داخلہ لینے والے غیر ملکی طالب علموں کی تعداد میں ایک تہائی کمی ہو گئی تھی۔

DW.COM

اشتہار