جرمن بین الاقوامی نشریاتی ادارے ڈی ڈبلیو کے 65 برس مکمل | معاشرہ | DW | 03.05.2018
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

معاشرہ

جرمن بین الاقوامی نشریاتی ادارے ڈی ڈبلیو کے 65 برس مکمل

پینسٹھ برس پہلے ڈوئچے ویلے ( ڈی ڈبلیو) نے اپنی نشریات کا آغاز کیا تھا۔ اس وقت سرد جنگ جاری تھی اور آج بھی دنیا کو اسی طرح کے مسائل کا سامنا ہے۔ ڈی ڈبلیو کے ماضی کے ساتھ ساتھ مستقبل پر بھی ایک نظر۔

’دور کے ممالک میں موجود معزز سامعین‘، تین مئی 1953ء کو ڈوئچے ویلے سے پہلی آواز وفاقی صدر تھیوڈور ہوئس کی ان افتتاحی کلمات کے ساتھ نشر کی گئی تھی۔ اس وقت ڈی ڈبلیو کے پروگرام کا مقصد بیرونی ممالک کے صارفین کو جرمنی کے سیاسی، معاشی اور ثقافتی حالات سے آگاہی فراہم کرنا تھا۔ ابتدائی طور پر شارٹ ویوز کے ذریعے جرمن شہر کولون میں ایک چھوٹے سے ریڈیو اسٹیشن کی بنیاد رکھی گئی۔ سن 1954ء میں ہی اس میں چند ایک غیرملکی زبانوں کو شامل کر لیا گیا۔  جرمنی کے بیرونی نشریات کے ادارے ڈوئچے ویلے سے اردو زبان میں پروگرام پیش کیے جانے کا سلسلہ چَودہ اگست 1964ء کو شروع ہوا تھا۔ سن 1992ء میں ٹیلی وژن کا آغاز ہوا اور اس کے بعد آن لائن ویب سائٹ کی بنیاد رکھ دی گئی۔ مختلف زبانوں میں نشر ہونے والے پروگراموں اور ویب سائٹس کے ذریعے سامعین، ناظرین اور نیٹ صارفین کو جرمنی اور یورپ کے ساتھ ساتھ اُن کے اپنے اپنے خطّوں کی بھی سیاسی، ثقافتی اور معاشی زندگی کے بارے میں جامع معلومات فراہم کی جاتی ہیں اور ساتھ ساتھ اُنہیں یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ مختلف اہم عالمی سیاسی حالات و واقعات پر جرمنی کا نقطہء نظر کیا ہے۔

ڈی ڈبلیو کے ڈائریکٹر جنرل پیٹر لیمبورگ کا کہنا ہے، ’’ظاہر ہے شارٹ ویو کا وقت زیادہ مشکل نہیں تھا۔ آپ دنیا کے ہر کونے تک پہنچ سکتے تھے۔ آج پروگراموں کی پیشکش اور انہیں چلانا انتہائی مشکل ہو چکا ہے۔ لیکن دوسری طرف انٹرنیٹ، سوشل میڈیا اور اور پارٹنر نیٹ ورکس کے ذریعے اب ماضی کے مقابلے میں زیادہ بڑی تعداد میں صارفین تک رسائی حاصل کرنے کے مواقع موجود ہیں۔‘‘

پیٹر لیمبورگ گزشتہ ساڑھے چار برس سے ڈی ڈبلیو کے ڈائریکٹر جنرل ہیں اور اس ادارے کی عالمی اہمیت میں اضافہ کرنا چاہتے ہیں۔ ڈی ڈبلیو کے ٹیلی وژن پروگرام بنیادی طور پر چار مختلف زبانوں میں نشر کیے جاتے ہیں۔ ان کے علاوہ ریڈیو نشریات کے ساتھ ساتھ 30 مختلف زبانون میں آن لائن خبریں، رپورٹیں اور تبصرے شائع کیے جاتے ہیں۔ ڈی ڈبلیو سوشل میڈیا پر بھی اپنی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔ اب اسمارٹ فون اہم ہوتے جا رہے ہیں اور اب ڈی ڈبلیو کے زیادہ تر صارفین کی تعداد نوجوانوں پر مشتمل ہے۔

ڈی ڈبلیو اکیڈمی کے حوالے سے بہت کم لوگ آگاہ ہیں۔ بین الاقوامی میڈیا کی ترقی کے لیے کام کرنے والا یہ جرمن کا ایک اہم ادارہ ہے۔ ڈی ڈبلیو اکیڈمی 1965ء سے صحافیوں کو تربیت فراہم کر رہی ہے۔ ڈی ڈبلیو کی 65ویں سالگرہ کے موقع پر چند ایک عالمی سیاسی مسائل بالکل اسی طرز کے ہیں، جس وقت ڈی ڈبلیو کا آغاز ہوا تھا۔ دوبارہ سرد جنگ کی باتیں کی جا رہی ہیں اور دنیا بھر میں آزادی صحافت اور آزادی اظہار رائے کو خطرات لاحق ہیں۔

پیٹر لیمبورگ کا اس حوالے سے کہنا تھا، ’’حالات باعث تشویش ہو چکے ہیں، اس کا مطلب ہے کہ ڈی ڈبلیو کو اپنی کوششیں بڑھانا ہوں گی۔ ہمیں معلومات اور اقدار کی فراہمی کے ساتھ ساتھ پُل تعمیر کرنا ہوں گے۔‘‘ ان کا مزید کہنا تھا، ’’ اسے ہم نئی سرد جنگ کا نام دیں یا پھر اسے نیا ورلڈ آرڈر کہہ لیں۔ اس وقت پروپیگنڈا، فیک نیوز، مہاجرت، ماحولیاتی تبدیلیوں اور دہشت گردی کی وجہ سے چیلنجوں میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔‘‘

پیٹر لیمبورگ نے چین اور ایران جیسے ممالک میں ڈی ڈبلیو پر لگنے والی پابندیوں کا ذکر بھی کیا، ’’یہ بات پریشان کن ہے لیکن اس سے پتا چلتا ہے کہ ہمارے زیادہ کام کرنے کی ضرورت بھی ہے۔‘‘ اب بین الاقوامی میڈیا نظام اور نظریات کی جنگ میں بھی شامل ہے۔

ڈی ڈبلیو کے ملازمین کا اس ادارے کی کامیابی میں مرکزی کردار ہے۔ ڈی ڈبلیو کے بون اور برلن میں موجود دو مرکزی دفاتر میں 60 ممالک کے 34 سو سے زائد افراد کام کرتے ہیں۔ اس طرح ڈی ڈبلیو جرمنی کا سب سے کثیر الاثقافتی ادارہ ہے۔ اسی طرح اس کے افریقہ، ایشیا اور لاطینی امریکا میں موجود نمائندوں کی تعداد میں بھی تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔

بین الاقوامی جائزوں کے مطابق دنیا بھر میں 96 فیصد صارفین ڈی ڈبلیو کو قابل اعتبار قرار دیتے ہیں۔ ڈی ڈبلیو کے ہفتہ وار صارفین کی تعداد 150 ملین ہے جبکہ اس میں روز بروز مزید اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔

DW.COM