جرمن بچے سال بھر کی چینی سات ماہ میں کھا گئے: ماہرین پریشان | صحت | DW | 14.08.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

صحت

جرمن بچے سال بھر کی چینی سات ماہ میں کھا گئے: ماہرین پریشان

جرمن بچے اتنا میٹھا کھاتے ہیں کہ وہ سال رواں کے دوران اوسط فی کس استعمال کے لیے تجویز کردہ چینی سات ماہ میں ہی کھا گئے۔ ماہرین کے مطابق اس کی وجہ کاروباری کمپنیوں کی طرف سے شکر سے بھرپور اشیائے خوراک کی مارکیٹنگ ہے۔

عالمی سطح پر ایک دن 'ورلڈ اوورشوٹ ڈے‘ بھی منایا جاتا ہے، جس کا مطلب وہ دن ہوتا ہے جس روز تک زمین پر انسانی آبادی کرہ ارض پر موجود قدرتی وسائل میں سے اتنے استعمال کر چکی ہوتی ہے، جو اسے اوسطاﹰ سال بھر کے دوران استعمال کرنا ہوتے ہیں۔ اس سال یہ دن اکتیس جولائی کو منایا گیا تھا۔ یعنی جن قدرتی وسائل کے ساتھ بنی نوع انسان کو زمین پر اکتیس دسمبر تک گزارہ کرنا تھا، وہ اکتیس جولائی کو ہی ختم کر دیے گئے تھے۔

اسی طرح جرمنی میں ایک دن 'شوگر اوورشوٹ ڈے‘ کے طور پر بھی منایا جاتا ہے۔ اس کا مطلب ہوتا ہے کہ بچوں کو اوسطاﹰ سال بھر میں جتنی شکر فی کس استعمال کرنا ہوتی ہے، وہ چینی کی اتنی ہی مقدار قبل از وقت لیکن کب تک استعمال کر چکے ہوتے ہیں۔

جرمن صارفین کے حقوق کے لیے سرگرم ایک تنظیم کے مطابق اس سال یہ حد اگست کے اوائل میں ہی عبور کر لی گئی تھی۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک اوسط جرمن بچے کو سال رواں کے دوران یکم جنوری سے لے کر اکتیس دسمبر تک جتنی شکر استعمال کرنا تھی، وہ تقریباﹰ اتنی ہی چینی سال کے ساتویں مہینے کے آخر تک استعمال کر چکا تھا۔ ماہرین کے مطابق یہ صورت حال نہ صرف ان بچوں کی صحت کے لیے بہت خطرناک ہے بلکہ ان کے والدین کے لیے شدید پریشانی کا باعث بھی۔

'کیلوریز کے بم‘

غذائی امور کے ماہرین اس کے لیے اشیائے خوراک کے شعبے کے ان صنعتی پیداواری اداروں کو ذمے دار قرار دیتے ہیں، جو بچوں کی نفسیات کو سامنے رکھتے ہوئے لیکن اپنے لیے زیادہ سے زیادہ منافع کی خاطر خاص طور پر پیکٹوں میں بند ایسی خوراک تیار کرتے ہیں، جو چینی سے بھری ہوتی ہے۔

بہت سے طبی ماہرین اس کے لیے 'کیلوریز کے بموں‘ کی اصطلاح استعمال کرتے ہیں۔ اس کا سبب یہ ہے کہ ایسی اشیائے خوراک کی صورت میں بچوں کے جسموں میں اتنی زیادہ شکر پہنچ جاتی ہے، جتنی وہ توانائی کی صورت میں جسمانی ورزش اور کھیل کود کے دوران استعمال نہیں کرتے۔ نتیجہ ان بچوں کے موٹاپے کی شکل میں نکلتا ہے اور موٹاپا خود کوئی بیماری نہ ہونے کے باوجود کئی طرح کی بیماریوں کی وجہ بنتا ہے۔

برلن میں قائم صارفین کی کھانے پینے کی عادات سے متعلق غیر سرکاری تنظیم 'فوڈ واچ‘ کے مطابق جرمن بچوں نے اس سال اُتنی چینی پہلے سات ماہ میں ہی استعمال کر لی، جتنی عالمی ادارہ صحت کی رہنما تجاویز کے مطابق انہیں بارہ ماہ میں استعمال کرنا تھی۔ ساتھ ہی اس تنظیم کی طرف سے غذائی امور کی جرمن فیڈریشن اور جرمن ذیابیطس سوسائٹی کا حوالہ دیتے ہوئے یہ بھی کہا گیا ہے کہ جرمنی میں، جو یورپی یونین کا سب سے زیادہ آبادی والا ملک ہے، تین سے لے کر 18 سال تک کی عمر کے نابالغ شہری اپنے لیے صحت مند حد سے 63 فیصد زیادہ چینی استعمال کر رہے ہیں۔

مرد اور عورتیں بھی سرخ لکیر کے دوسری طرف

فوڈ واچ کے مطابق جرمن معاشرے میں روایتی طور پر میٹھا کھانے کا رجحان اتنا زیادہ ہے کہ صرف بچے ہی نہیں بلکہ بالغ خواتین و حضرات بھی ہر سال اپنے لیے صحت مند حد سے کہیں زیادہ مقدار میں شکر استعمال کرتے ہیں۔ فوڈ واچ کے مطابق جرمن مردوں کا اس سال کے لیے 'شوگر اوورشوٹ ڈے‘ 20 ستمبر کو ہو گا جب کہ خواتین یہی حد آٹھ اکتوبر کو عبور کر جائیں گی۔

اس حقائق کا مطلب یہ بھی ہے کہ جرمنی میں کم عمر لڑکے لڑکیوں سے لے کر بالغ مردوں اور خواتین تک میں سے کوئی بھی ایسا نہیں، جو سال بھر کے دوران اوسطاﹰ بس اتنی ہی فی کس شکر استعمال کرے، جتنی اسے صحت مند رہنے کے لیے کرنا چاہیے۔ رپورٹ کے مطابق ''یہاں ہر کوئی سرخ لکیر کے دوسری طرف ہی نظر آتا ہے۔‘‘

م م / ع ح / اے ایف پی، ڈی پی اے

DW.COM