جرمن آسٹیریئن سرحد پر نگرانی شروع، مہاجرین کا اب کیا ہو گا؟ | حالات حاضرہ | DW | 13.09.2015
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

جرمن آسٹیریئن سرحد پر نگرانی شروع، مہاجرین کا اب کیا ہو گا؟

مہاجرین کی ایک بہتر زندگی کی آخری امید دم توڑتی ہوئی دکھائی دے رہی ہے۔ پناہ گزینوں کے بحران کے تناظر میں جرمنی نے آسٹریا سے ملنے والی سرحد پر سفری دستاویزات کی جانچ پڑتال کا عمل پھر سے شروع کر دیا ہے۔

جرمن وزیر داخلہ تھوماس ڈے میزیئر نے اتوار کے روز بتایا کہ سرحد پر جانچ پڑتال اور نگرانی کا یہ فیصلہ عارضی ہے اور فی الحال اس کا اطلاق صرف آسٹریا سے ملنے پر سرحد پر ہی ہو گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس فیصلے سے دونوں پڑوسی ممالک کے مابین ٹرین سروس میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ میزیئر نے مزید بتایا کہ مخلوط حکومت میں شامل جماعتوں کو اعتماد میں لے کر یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔ تاہم انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ سرحدوں پر نگرانی سے تمام مسائل حل نہیں ہوں گے۔’’ ہمیں اپنی سرحد پر حالات کو معمول پر لانے کے لیے کچھ وقت درکار ہے۔‘

آسٹریا سے جرمنی کا سفر کرنے والے زیادہ تر افراد جرمنی صوبے باویریا کے دارالحکومت میونخ پہنچ رہے ہیں، جہاں سے انہیں دیگر شہروں میں منتقل کیا جارہا ہے۔ میونخ کی انتظامیہ نے کہا ہے کہ مہاجرین کی بڑھتی ہوئی تعداد کے تناظر میں وہ روزانہ خیموں کا ایک شہر نہیں بسا سکتے۔

Deutschland Flüchtlinge Grenzkontrollen Thomas de Maiziere

اس فیصلے سے دونوں پڑوسی ممالک کے مابین ٹرین سروس میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا، میزیئر

جرمن وزیر داخلہ نے اپنی پریس کانفرنس کے دوران یورپی یونین کے رکن ممالک سے ڈبلن معاہدے پر دوبارہ سے عمل درآمد کرنے کے لیے زور دیا ہے۔ ڈبلن IIl ریگولیشن نامی یورپی یونین کے اس قانون کے تحت تارکین وطن کے دعوے کی جانچ پڑتال اُسی یورپی ملک میں کی جائے گی، جہاں وہ پناہ لینے کی غرض سے پہلی مرتبہ داخل ہوئے۔

جرمن جریدے ڈیئر اشپیگل کے مطابق جرمن حکومت اس پابندی کے ذریعے کچھ وقت حاصل کرنا چاہتی ہے تا کہ وہ پہلے سے موجود مہاجرین کے لیے مناسب بندوبست کر سکے۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق جرمن حکام نے آسٹریا سے آنے والی ٹرینوں کو روکا ہے جبکہ آسٹریا نے جرمنی کے لیے اپنی ٹرین سروس معطّل کر دی ہے۔

شینگن زون میں شامل ممالک کی سرحدوں پر سفری دستاویزات کی جانچ پڑتال نہیں ہوتی۔ زیادہ تر مہاجرین یونان سے سربیا اور پھر مقدونیہ سے ہوتے ہوئے ہنگری پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ہنگری شینگن زون میں شامل ہے اور اس کے بعد مہاجرین کے لیے شینگن زون کے دیگر ممالک تک پہنچنا قدرے آسان ہو جاتا ہے۔ اس وقت شینگن زون میں 26 یورپی ملک شامل ہیں، جن میں سے 22 یورپی یونین کے رکن ہیں۔

اشتہار