’جرمنی یونانی جزیروں پر مقیم تارکین وطن کی مدد نہیں کر سکتا‘ | مہاجرین کا بحران | DW | 10.12.2017
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

’جرمنی یونانی جزیروں پر مقیم تارکین وطن کی مدد نہیں کر سکتا‘

جرمن وزارت خارجہ نے واضح کیا ہے کہ پناہ گزینوں کی رہائش اور دیکھ بھال کی ذمہ داری متعلقہ ممالک کی ہے اور یونانی جزیروں پر بسنے والے تارکین وطن کے لیے برلن حکومت مزید مدد نہیں کرسکتی۔

جرمن دارالحکومت برلن میں وفاقی وزارت خارجہ کی جانب سے مقامی اخبار کو جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا گیا، ’’جرمن حکومت یونان کے جزیروں پر مقیم تارکین وطن کی مزید مدد نہیں کر سکتی۔‘‘ تاہم وفاقی وزارت داخلہ کا یہ بھی کہنا تھا کہ یونان میں موجود تارکین وطن کی جرمنی منتقلی اور موجودہ صورتحال کی بہتری کے حوالے سے برلن حکومت ایتھنز حکام سے تعاون جاری رکھے گی۔

یونانی جزیرےساموس میں پھنسے مہاجرین کی مشکلات

 سن 2015ء سے جرمن وفاقی حکومت کی جانب سے یونان کے میدانی علاقوں اور جزائر پر موجود پناہ گزینوں کی دیکھ بھال سے متعلق  تعاون کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔ ملکی وزارت خارجہ کے دفتر سے جاری کردہ اس بیان میں خاص طور پر تاہم یہ بھی بتایا گیا ہے کہ  شدید سرد موسم کے دوران یونان پہنچنے والے تارکین وطن کے تحفظ کے لیے مدد کی جاتی رہی ہے۔ ماضی قریب میں یونان کی شمال مشرقی بندرگاہ ’تھیسالونیکی‘ میں مہاجرین کے لیے تعمیر کی گئی عارضی رہائش گاہوں میں 135 گرم کنٹینر نصب کیے گئے تھے۔ ان کنٹینرز میں آٹھ سو کے قریب افراد کو عارضی طور پر رکھا جا سکتا ہے۔

علاوہ ازیں تارکین وطن کے لیے سرگرم بیشتر امدادی تنظیموں نے موسمِ سرما کے حوالے سے ہنگامی ہدایات جاری کر رکھی ہیں۔ ان امدادی اداروں کے مطابق یونانی جزیرے لیسبوس پر پہنچنے والے تارکین وطن کو سردی سے بچانے کے لیے دستیاب سہولیات ناکافی ہیں۔ ڈاکٹرز وِد آؤٹ بارڈرز نامی تنظیم نے بتایا ہے کہ ’مردوں، خواتین اور بچوں کو گرمیوں میں استعمال کیے جانے والے کھلے خیموں میں رہائش فراہم کی جا رہی ہے‘۔

لیسبوس کی مقامی حکومت بھی سراپا احتجاج

یونانی کیمپوں میں سردی سے بچاؤ کی ان ناکافی سہولیات کے حوالے سے امدادی تنظیموں نے یونان اور یوپی یونین کے حکمرانوں سے مطالبہ کیا ہے کہ لیسبوس اور دیگر یونانی ’جزائر پر مقیم تارکین وطن کو میدانی علاقوں میں منتقل کیا جائے‘۔ یہ امر بھی اہم ہے کہ یونان میں پناہ گزینوں کے بحران سے نمٹنے کے لیے یورپی یونین نے  اب تک 1.4 بلین یورو کی امدادی رقم مختص کر رکھی ہے۔

ویڈیو دیکھیے 01:31
Now live
01:31 منٹ

یونان میں ایک پاکستانی مہاجر کی مشکلات

DW.COM

Audios and videos on the topic

اشتہار