جرمنی: کریفیلڈ کے چڑیا گھر میں آتشزدگی، درجنوں جانور ہلاک | حالات حاضرہ | DW | 01.01.2020
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

جرمنی: کریفیلڈ کے چڑیا گھر میں آتشزدگی، درجنوں جانور ہلاک

جرمن شہر کریفیلڈ کے چڑیا گھر میں لگنے والی آگ نے بندروں کے لیے مخصوص حصے کو جلا کر راکھ کر دیا۔ وہاں رکھے گئے جانوروں کو بچانے کی تمام کوششیں ناکام ہو گئیں۔ شبہ ہے کہ یہ آگ سال نو کے موقع پر آتش بازی کی وجہ سے لگی۔

جرمن ریاست نارتھ رائن ویسٹ فیلیا کے شہر کریفیلڈ کے چڑیا گھر کی انتظامیہ نے آج یکم جنوری بدھ کی صبح اپنے ایک بیان میں بتایا،''ہمارا بدترین خوف حقیقت بن کر سامنے آ گیا۔ بندروں کے گھر (ایپ ہاؤس) میں کوئی بھی جانور زندہ نہ بچا۔‘‘ فیس بک پر جاری کردہ اس بیان میں نصف شب کے وقت پیش آنے والے اس واقعے کو ایک 'بڑا سانحہ‘ قرار دیا گیا ہے۔

بتایا گیا ہے کہ اس آگ کی وجہ سے تیس سے زائد جانور ہلاک ہو گئے۔ چڑیا گھر کے 'بندروں کا گھر‘ کہلانے والے حصے میں مختلف نسل کے اورنگاٹان (انسانوں سے مشابہت رکھنے والے بندر)، چمپنزی، گوریلے، مرکٹ (چھوٹی نسل کے بندر) اور کئی مختلف اقسام کی چمگاڈروں اور پرندوں کو بھی رکھا گیا تھا۔

اس حصے کے ساتھ والے حصے میں بنے پنجروں میں گوریلے رکھے گئے تھے۔ فائر بریگیڈ کے کارکن ان گوریلوں کو بچانے میں کامیاب رہے۔

چڑیا گھر کی انتظامیہ نے بتایا کہ گزشتہ شب بارہ بج کر اڑتیس منٹ پر لوگوں کی جانب سے فائر بریگیڈ کو اس آگ کے بارے میں مطلع کیا گیا۔ اس کے چند ہی منٹ بعد آگ بجھانے والا عملہ اس چڑیا گھر میں پہنچ چکا تھا۔تاہم تب تک 'مونکی ہاؤس‘ مکمل طور پر شعلوں کی لپیٹ میں آ چکا تھا۔

اس موقع پر فائر بریگیڈ کے عملے نے چڑیا گھر کے دیگر حصوں کو شعلوں سے محفوظ رکھنے کی کوشش کی۔ ایک گرین ہاؤس کی طرز پر تعمیر کردہ اس عمارت کا افتتاح 1975ء میں ہوا تھا۔ بتایا گیا ہے کہ یہ عمارت اپنی بنیادوں تک مکمل طور پر جل گئی ہے۔

ابھی تک یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ یہ آگ کیسے لگی۔ تاہم جرمن نشریاتی ادارے( ڈبلیو ڈی آر) کے ذرائع نے بتایا کہ نئے سال کے موقع پر کی جانے والی آتش بازی ممکنہ طور پر اس کی وجہ ہو سکتی ہے۔ جرائم کی روک تھام کرنے والے جرمن ادارے بی کے اے نے تفتیش شروع کر دی ہے۔ اس سانحے کے بعد آج بدھ کے روز یہ چڑیا گھر بند رہے گا۔

ع ا  / م م ( ڈی ڈبلیو)