جرمنی کا یوکرین کو طیارہ شکن میزائلوں کی فراہمی کا منصوبہ | حالات حاضرہ | DW | 03.03.2022

ڈی ڈبلیو کی نئی ویب سائٹ وزٹ کیجیے

dw.com کے بِیٹا ورژن پر ایک نظر ڈالیے۔ ابھی یہ ویب سائٹ مکمل نہیں ہوئی۔ آپ کی رائے اسے مزید بہتر بنانے میں ہماری مدد کر سکتی ہے۔

  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

جرمنی کا یوکرین کو طیارہ شکن میزائلوں کی فراہمی کا منصوبہ

جرمنی جنگ زدہ ملک یوکرین کو سابقہ سوویت دور کے طیارہ شکن میزائل فراہم کرے گا۔ برلن حکومت نے فوری طور پر اس رپورٹ کی ابھی تصدیق نہیں کی۔

جرمن وزارت اقتصادیات کے ذرائع کے حوالے سے یوکرین کو میزائل فراہم کرنے کی یہ رپورٹ سامنے آئی ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق یوکرین کو 2700 'اسٹریلا‘ نامی طیارہ شکن میزائل فراہم کیے جائیں گے۔ یہ سابقہ سوویت یونین کے دور میں تیار کردہ ہیں۔ میزائلوں کی فراہمی کی رپورٹوں میں نیوز ایجنسیوں نے حکومتی ذ‍رائع کا حوالہ دیا ہے۔

یوکرین بحران: روس کا خرسون شہر پر قبضہ، کئی دیگر اہم شہروں کا محاصرہ

یہ میزائل سوویت یونین کے زیر اثر سابقہ مشرقی جرمن ریاست کے پاس تھے۔ سن 1989 میں دیوارِ برلن کے انہدام اور پھر جرمن اتحاد کے بعد ان پر کنٹرول برلن حکومت کو حاصل ہو گیا تھا۔

ابھی گزشتہ ویک اینڈ پر ہی جرمنی کی جانب سے 500 امریکی ساختہ، زمین سے فضا میں مار کرنے والے اسٹنگر میزائل اور ایک ہزار ٹینک شکن میزائل بھی کییف حکومت کو دیے گئے ہیں۔

Berlin | Sondersitzung des Bundestags zur Ukraine Krise - Olaf Scholz

جرمن پارلیمان سے چانسلر اولاف شولس خطاب کرتے ہوئے

میزائل جلد روانہ کیے جائیں گے

نیوز ایجنسی روئٹرز کے مطابق میزائل فراہم کرنے کی منظوری ابھی فیڈرل سکیورٹی کونسل نے دینا ہے اور اس منظوری کے بعد ان کی ترسیل شروع کی جا ئے گی۔ نیوز ایجنسی ڈی پی اے کے مطابق جرمن وزارت دفاع اس سلسلے کو بھی جاری رکھے ہوئے ہے کہ اور کون کون سے ہتھیار یوکرین کو فراہم کیے جا سکتے ہیں۔

یہ امر اہم ہے کہ روسی فوج کشی سے قبل جرمن حکومت نے یوکرائن کو ہتھیار فرہم کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ جرمن حکومت کی پالیسی رہی ہے کہ وہ جنگ زدہ علاقوں کو ہتھیار برآمد نہیں کرتی تھی۔ گزشتہ جمعرات ستائیس فروری کو روسی حملے کے بعد جرمن موقف میں واضح تبدیلی آ گئی تھی۔

اقوام متحدہ: روسی حملے کی مذمت اور افواج کے فوری انخلاء سے متعلق قرارداد منظور

موقف میں تاریخی تبدیلی

جرمن چانسلر اولاف شولس کے مطابق برلن حکومت کے سابقہ موقف میں یہ ایک تاریخی تبدیلی ہے۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں جب ولادیمیر پوٹن کی فوج نے یوکرین پر چڑھائی کر رکھی ہے، ایسے میں اِس ملک کی دفاعی حمایت اپنی بہترین صلاحیتوں کے مطابق کرنا اہم فرض ہے۔ اولاف شولس نے یہ بیان روسی فوجی حملے کے بعد دیا تھا۔ ان کی حکومت نے سابقہ ملکی پالیسی میں تبدیلی لاتے ہوئے یوکرین کو براہ راست ہتھیار فراہم کرنا شروع کر دیے ہیں۔

شولس نے گزشتہ ہفتے کے دوران ملکی دفاعی پالیسی میں بھی واضح تبدیلی پیدا کرتے ہوئے ملکی فوج کے لیے 113 بلین ڈالر کے برابر رقوم مختص کرنے کا اعلان کیا تھا۔

Deutschland | Soldat mit Stinger-Flugabwehrrakete

گزشتہ ویک اینڈ پر ہی جرمنی کی جانب سے 500 امریکی ساختہ، زمین سے فضا میں مار کرنے والے اسٹنگر میزائل کییف حکومت کو دیے ہیں

جرمن ہتھیار سازی

جرمنی میں دفاعی ساز و سامان تیار کرنے والے بڑے کاروباری ادارے رائن میٹل کا کہنا ہے کہ موجودہ صورت حال میں ایسا دکھائی دیتا ہے کہ اسلحے کی اضافی پروڈکشن کے لیے ایک ہزار سے لے کر تین ہزار تک افراد کو روزگار فراہم کرنا ہو گا۔

فیکٹ چیک: یوکرین کا ’گھوسٹ آف کییف‘ فائٹر پائلٹ کون ہے؟

اس ادارے کو ابھی گزشتہ ہفتے ہی کئی ہزار فوجی ہیلمٹ بنانے کا کاروباری آرڈر بھی دیا گیا تھا۔ رائن میٹل کے چیف ایگزیکٹیو آرمین پاپیرگر کا کہنا ہے کہ اسلحے کے ملکی ذخائر میں واضح اضافہ اگلے چھ سے بارہ مہینوں میں ممکن ہو گا۔

ع ح / م م (روئٹرز، ڈی پی اے)