جرمنی کا منی بجٹ کابینہ سے منظور، توجہ تحفظِ ماحول پر | حالات حاضرہ | DW | 13.12.2021

ڈی ڈبلیو کی نئی ویب سائٹ وزٹ کیجیے

dw.com کے بِیٹا ورژن پر ایک نظر ڈالیے۔ ابھی یہ ویب سائٹ مکمل نہیں ہوئی۔ آپ کی رائے اسے مزید بہتر بنانے میں ہماری مدد کر سکتی ہے۔

  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

جرمنی کا منی بجٹ کابینہ سے منظور، توجہ تحفظِ ماحول پر

نئے جرمن چانسلر اولاف شولس کی کابینہ نے اضافی بجٹ کی متفقہ طور پر منظوری دے دی ہے۔ ساٹھ بلین یورو کے اضافی بجٹ کو ماحول دوست معیشت کی مد میں استعمال کیا جائے گا۔

جرمنی کی نئی حکومت نے، جس اضافی بجٹ کی منظوری دی ہے، اس سے نئی حکومت ایسی سرمایہ کاری کرنے کی کوشش کرے گی، جس سے ملکی اقتصادیات کا جھکاؤ گرین اکانومی کی جانب ہو سکے گا۔ یہ امر اہم ہے کہ رواں برس قرض کی صورت میں حاصل کیے گئے ساٹھ بلین یورو ابھی تک استعمال نہیں کیے جا سکے تھے۔

جرمنی کے سرکاری قرضے کا حجم دو ٹریلین یورو سے زائد

اس اضافی بجٹ پر نئی جرمن حکومت میں شامل مرکز کی جانب جھکاؤ رکھنے والی سوشل ڈیموکریٹک پارٹی، ماحول دوست گرین پارٹی اور کاروبار نواز فری ڈیموکریٹک پارٹی نے مخلوط حکومت کی تشکیل کی ڈیل میں معاملات طے کیے تھے۔

San Diego, USA | Ladestation für E-Autos in Kalifornien

برلن حکومت کی خواہش ہے کہ سن 2030 میں جرمن سڑکوں پر کم از کم پندرہ ملین الیکٹرک موٹر کاریں سفر کرتی دکھائی دیں

ماحول دوست مالی پالیسی

ساٹھ بلین یورو کے علاوہ حکومت کا ارادہ ہے کہ انکم ٹیکس کی مد میں جمع ہونے والے اُن اٹھارہ بلین یورو کو بھی ماحول دوست سرمایہ کاری کے منصوبوں پر استعمال کیا جائے، جو ایکو ٹیکس اور تجارتی اسکیموں پر عائد کاربن ڈائی آکسائیڈ اخراج کے کنٹرول ٹیکس سے حاصل ہوا ہے۔

نئی مخلوط حکومت نئے اربوں ڈالر کے استعمال سے عوامی بہبود کے ایسے منصوبوں میں سرمایہ کاری کرنے کی خواہش مند ہے، جن سے خاص طور پر کلائمیٹ پروٹیکشن کے منصوبوں کو تسلسل دیا جا سکے۔ ان منصوبوں میں الیکٹرک کاروں کے چارجنگ پوائنٹس، گھروں  کو  گرم رکھنے کا عمل یا انسولیٹنگ اور ملکی اقتصادیات کی ڈیجیٹلائزیشن شامل ہیں۔

جرمن چانسلر شولس کی فرانس، نیٹو اور ای یو رہنماؤں سے ملاقات

وفاقی حکومت پر قرضوں کا بوجھ

چانسلر اولاف شولس کی مخلوط حکومت نے ملکی دستور میں قرض حاصل کرنے کی بنیادی رکاوٹ کو سن 2022 میں بھی معطل رکھنے کو حالات کا تقاضا قرار دیا ہے۔ اس دستوری شق کو معطل کر کے وفاقی حکومت ایک سو بلین ڈالر کا قرض حاصل کرنے کی مجاز ہوتی ہے۔

کورونا وبا کے پھیلاؤ کی وجہ معاشی گراوٹ سے نمٹنے کے لیے قرض حاصل کرنے پر روک لگانے والی اس دستوری شق کی معطلی کا اگلا برس مسلسل تیسرا سال ہو گا۔ اس شق کو سابق چانسلر انگیلا میرکل کے دورِ حکومت میں سن 2020 میں عبوری طور پر معطل کیا گیا تھا۔

مخلوط حکومت سن 2022 میں اس شق کو معطل رکھے گی لیکن سن 2023 میں اس کو دوبارہ بحال کرنے کا بھی عندیہ دیا گیا ہے۔ جرمنی کی وفاقی حکومت پر کورونا وائرس کی وبا پھیلنے کے بعد بھاری قرضوں کا بوجھ بڑھ چکا ہے۔ برلن حکومت کے قرضوں کا حجم سن 2020 میں ایک سو تیس بلین اور سن 2021 میں دو سو چالیس بلین یورو کے نئے قرضوں سے غیر معمولی طور پر بڑھ گیا ہے۔

BdT Angela Merkel Blumenstrauß Übergabe Olaf Scholz

انگیلا میرکل کو ان کی کابینہ کے آخری اجلاس میں نئے چانسلر اولاف شولس نے پھولوں کا گلدستہ پیش کیا تھا

الیکٹرک کاروں پر رعایت

جرمنی کی نئی حکومت نے الیکٹرک اور ہائبرڈ کاروں کی خرید  پر خصوصی رعایتیں دینے کا فیصلہ بھی کیا ہے۔ ان رعایتوں کا اعلان نئی مخلوط حکومت کے وزیر اقتصادیات اور ماحولیات رابرٹ ہابیک نے کیا ہے۔ گرین پارٹی کے شریک چئیرمین رابرٹ ہابیک شولس حکومت کے نائب چانسلر بھی ہیں۔

جرمنی کو وبا کے باعث سالانہ بجٹ میں 190 بلین یورو کا خسارہ

انہوں نے واضح کیا کہ ان کی حکومت پہلے سے فراہم کردہ مراعات کا تسلسل رکھے گی اور کوشش کرے گی کہ ماحول کو تحفظ دینے کی تمام کوششوں کو مزید تحفظ فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ ان کو تقویت بھی دی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت ترجیحی بنیاد پر اس پہلو پر کام کرے گی کہ سن 2030 میں جرمن سڑکوں پر کم از کم پندرہ ملین الیکٹرک موٹر کاریں سفر کرتی دکھائی دیں۔

ع ح/ ا ا (روئٹرز، اے ایف پی)