جرمنی کا حالیہ بارڈر کنٹرول فیصلہ ناگزیر تھا، برلن حکومت | حالات حاضرہ | DW | 15.02.2021
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

جرمنی کا حالیہ بارڈر کنٹرول فیصلہ ناگزیر تھا، برلن حکومت

جرمنی نے آج پیر کو چیک جمہوریہ سے ملحقہ اپنی سرحد پر دوبارہ نگرانی کے اپنے فیصلے کا دفاع کیا ہے۔ برلن حکومت نے اسے ’آخری راستہ اور ایک عارضی اقدام‘ قرار دیا ہے۔

جرمن حکومت تجارتی حلقوں کی طرف سے لاک ڈاؤن کے خاتمے کے لیے ایک روڈ میپ کی مطالبے کے برعکس لاک ڈاؤن میں توسیع کے فیصلے کا بھی دفاع کر رہی ہے۔

چیک جمہوریہ اور آسٹریا کے علاقے ٹیرول میں کورونا وائرس کی وبا کے پھیلنے کے بارے میں خطرات سامنے آنے کے بعد جرمنی نے عام طور سے کھلے رہنے والے اس سرحدی علاقے میں آمد و رفت کی نگرانی کا فیصلہ کیا تاکہ کورونا وائرس کے تیز رفتار پھیلاؤ سے بچا جا سکے۔

آسٹریا کا احتجاج

جرمنی نے پڑوسی ملک آسٹریا سے متصل سرحد پر اتوار کو کنٹرول شروع کر دیا۔ اس پر آسٹریا نے سخت احتجاج کیا کیونکہ اس سے اس کے برآمدات پر انحصار کرنے والے مینوفیکچرنگ سیکٹر کو شدید نقصان کا خطرہ لاحق ہو گیا ہے۔ سرحدی کنٹرول کی وجہ سے سپلائی چین کے کاموں میں رکاوٹوں کے خدشات بھی پیدا ہو گئے ہیں۔ ادھر جرمن چانسلر انگیلا میرکل کے ترجمان اشٹیفن زائبرٹ نے برلن میں ایک نیوز کانفرنس میں کہا، ''ہم ایک ایسی صورتحال سے دوچار ہیں، جس میں ہمیں کورونا وائرس کی نئی تبدیل شدہ شکل کے جرمنی میں پھیلاؤ کو تمام ممکنہ اقدامات کے ذریعے روکنا ہے، کیونکہ یہ ہمارے پڑوسی ممالک میں پھیلنا شروع ہو چکا ہے۔‘‘

وفاقی چانسلر کے ترجمان نے کہا، ''نقل و حرکت کو معمول پر لانے کا عمل ہر کسی کے مفاد میں ہے۔ یورپی یونین میں نیشنل زونز، قومی سرحدوں اور شینگن زون کی سرحدوں کو عام طور سے کھلا رکھا جاتا ہے تاکہ تجارت میں آسانی ہو اور یہ ایک سنگل مارکیٹ کی طرح تجارتی سرگرمیوں کا سبب بنے۔ لیکن جرمن حکومت کا دوبارہ بارڈر کنٹرول کا حالیہ فیصلہ ناگزیر تھا۔‘‘جرمنی کو اب تیسری لہر سے بچنا ہے، میرکل

Weltspiegel 15.02.2021 | Corona | Deutschland Grenzkontrolle Tschechien

جرمنی اور چیک جمہوریہ کی سرحد پر سخت کنٹرول۔

دریں اثناء آسٹریا نے اس بارڈر کنٹرول کو 'غیر متناسب‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ 'ناقابل قبول‘ ہے۔ آسٹرین حکام نے ویانا میں جرمن سفیر کو وزارت خارجہ میں مدعو کیا تاکہ موجودہ سرحدی صورت حال پر بات چیت کی جائے۔

کووڈ ٹیسٹ سرٹیفیکیٹ لازمی

 

جرمن پولیس چیک ریپبلک اور آسٹریا کی سرحدوں پر صرف ان ٹرک ڈرائیوروں اور جرمن شہریوں کو سرحد پار کرنے کی اجازت دے رہی ہے، جن کے پاس کووڈ انیس ٹیسٹ کے منفی نتائج کے سرٹیفیکیٹ موجود ہوں۔ چیک براڈکاسٹرز اس بارے میں سرحدوں پر ٹرکوں کی لمبی لمبی قطاروں کی فوٹیج نشر کر رہے ہیں۔ تین مرکزی ہائی ویز پر جرمنی میں داخلے کے خواہش مند ٹرکوں کی کئی کئی کلو میٹر لمبی قطاریں دیکھنے میں آ رہی ہیں۔ انہیں جرمنی میں داخل ہونے میں دو سے ڈھائی گھنٹے تک کا انتظار کرنا پڑ رہا ہے۔

 

سب سے زیادہ نقصان کس کا؟

بہت سے جرمن صنعتی اداروں خاص طور پر جرمن موٹر ساز صنعتوں کا انحصار مشرقی یورپ پر ہے۔ اس لیے کہ وہاں تیار کیے جانے والے پرزوں پر ہی جرمن صنعتی پیداوار کا انحصار ہے۔ سرحدوں پر کنٹرول اور سختی ان اداروں کی پیداوار پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔ بی ایم ڈبلیو، فوکس ویگن اور آؤڈی جیسے کار ساز اداروں نے تاہم پیر 15 فروری کو ایک بیان میں کہا کہ اب تک نئے بارڈر کنٹرول نے ان کی پیداوار متاثر نہیں ہوئی۔

لاک ڈاؤن میں توسیع 

جرمنی نے اپنے ہاں نومبر سے تمام دکانوں اور غیر ضروری کاروبار کی بندش میں سات مارچ تک کی توسیع کا اعلان کیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان اقدامات سے کورونا انفیکشن کے پھیلاؤ میں کمی آئی ہے اور جرمن ہسپتالوں میں انتہائی نگہداشت کے یونٹوں پر بوجھ بھی کم ہوا ہے۔ لیکن فرانس جیسے پڑوسی ممالک میں برازیل اور جنوبی افریقہ سے پھیلنے والی کورونا وائرس کی تبدیل شدہ شکل اب بھی جرمنی کے لیے ایک خطرہ تصور کی جا رہی ہے۔ جیسے جیسے یورپی ممالک میں کورونا ویکسینیشن کا سلسلہ آگے بڑھ رہا ہے، ویسے ہی اقتصادی شعبوں کو دوبارہ کھولنے کے لیے کاروباری طبقے کا دباؤ بھی بڑھ رہا ہے۔

Österreich verstärkt Grenzkontrollen bei Einreiseverkehr aus Ungarn Stau auf Autobahn

ہنگری، آسٹریا اور جرمنی تینوں کی ہائی ویز پر کئی میلوں لمبی قطاروں میں کھڑے ٹرک اور ٹینکرز۔

 

جرمنی میں چھوٹے کاروباری اداروں کی ملکی تنظیم کی وزارت معیشت کے ساتھ ایک ہنگامی میٹنگ منگل کو ہو گی جس میں چھوٹے دکانداروں کے لیے اپنے کاروبار دوبارہ کھولنے کے حوالے سے نئی ہدایات سامنے آنے کی امید کی جا رہی ہے۔

چانسلر انگیلا میرکل نے گزشتہ جمعے کو کہا تھاکہ لاک ڈاؤن میں نرمی اور کاروبار زندگی کو نارمل کرنے کے امکانات اس وقت تک نہیں، جب تک ہفتہ وار بنیادوں پر فی ایک لاکھ شہریوں میں کورونا وائرس کی نئی انفیکشنز کی تعداد 35 سے کم نہیں ہو جاتی۔

ک م /  م م (روئٹرز)

DW.COM