جرمنی چھوڑنے والے مہاجرین کی تعداد میں ریکارڈ اضافہ | مہاجرین کا بحران | DW | 28.12.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

جرمنی چھوڑنے والے مہاجرین کی تعداد میں ریکارڈ اضافہ

سن دو ہزار سولہ کے دوران رضا کارانہ طور پر جرمنی چھوڑنے والے مہاجرین کی تعداد میں واضح اضافہ ہوا۔ ساتھ ہی ایسے مہاجرین کی تعداد بھی بڑھی ہے، جنہیں جرمنی کی سرحدوں سے واپس بھیج دیا گیا۔

خبر رساں ادارے ڈی پی اے نے جرمن میڈیا کے حوالے سے بتایا ہے کہ سن دو ہزار سولہ کے دوران رضا کارانہ طور پر جرمنی سے واپس جانے والے مہاجرین کی تعداد گزشتہ سولہ برسوں میں سب سے زیادہ رہی۔ رواں برس ایسے مہاجرین کی تعداد تقریبا 55 ہزار تھی، جو واپس اپنے ملکوں کو لوٹ گئے تھے جبکہ بیس یزار ایسے تھے، جنہیں جرمنی داخل ہونے سے ہی روک دیا گیا۔

جرمن اخبار ’زُوڈ ڈوئچے سائٹنگ‘ نے بدھ کے دن اپنی ایک رپورٹ میں جرمنی کے وفاقی دفتر برائے مہاجرین BAMF کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا کہ اپنے وطنوں کو واپس لوٹنے والے مہاجرین میں سے بڑی تعداد کا تعلق بلقان کی ریاستوں سے تھا، جنہیں جرمنی میں پناہ دیے جانے کے امکانات انتہائی کم تھے۔

کیا سیاسی پناہ حاصل کرنے کے لیے مذہب تبدیل کیا جا رہا ہے؟

برلن حملوں کے بعد جرمنی میں سکیورٹی نظام میں وسیع تبدیلیاں

جرمنی میں سیاسی پناہ کے طریقہٴ کار پر بحث میں پھر شدت

جرمن حکومت گزشتہ دو برسوں سے پناہ کے قوانین میں سختی لا چکی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ یورپ کے اس اقتصادی پاور ہاؤس میں پناہ حاصل کرنے کے خواہش مند غیر ملکیوں کی تعداد میں بہت زیادہ اضافہ ہوا تھا، جس کے بعد اس تناظر میں قوانین میں ترامیم کی گئیں۔ ایک سال قبل 2016 کے استقبال کے موقع پر جرمن شہر کولون میں خواتین پر کیے گئے سلسلہ وار جسمانی اور جنسی حملے بھی ان قوانین میں سختی کے محرک قرار دیے جاتے ہیں۔

مہاجرت کے بحران کے نتیجے میں یورپ اور بالخصوص جرمنی پہنچنے والے مہاجرین میں سب سے زیادہ تعداد مشرق وسطیٰ اور افریقی ممالک سے تعلق رکھنے والوں کی ہے۔ یہ امر اہم ہے کہ جرمن آئین بھی جنگ اور ظلم و ستم کے مارے لوگوں کو ملک میں پناہ دیے جانے پر زور دیتا ہے۔

ایک اندازے کے مطابق رواں برس کے دوران جرمنی سے ڈی پورٹ کیے جانے والے مہاجرین کی کل تعداد پچیس ہزار تک پہنچ سکتی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ ان میں سے زیادہ تر رضا کارانہ طور پر اپنے ممالک کو گئے یا جائیں گے کیونکہ وہ زبردستی جرمنی سے نکالے جانے سے بچنا چاہتے ہیں۔ جرمن قوانین کے مطابق ایسے مہاجرین جنہیں زبردستی ملک سے نکالا جاتا ہے، وہ کئی برسوں تک دوبارہ جرمنی میں داخل نہیں ہو سکتے۔

جرمن میڈیا نے بدھ کے دن ہی بتایا کہ رواں برس کے دوران جرمن سرحدوں سے واپس بھیجے جانے والے مہاجرین کی تعداد تقریبا بیس ہزار بنتی ہے۔ میڈیا رپورٹوں کے مطابق جنوری سے نومبر تک انیس ہزار سات سو بیس مہاجرین کو جرمنی میں داخل ہونے سے روکا گیا۔ اس حوالے سے سن دو ہزار سولہ کے آخری مہینے کے اعداد و شمار ابھی تک مرتب نہیں کیے گئے۔

سن دو ہزار پندرہ میں ملکی سرحدوں سے واپس بھیجے جانے والے مہاجرین کی تعداد آٹھ ہزار نو سو تیرہ رہی تھی، یوں سن دو ہزار سولہ میں اس تعداد میں سو فیصد سے بھی زائد کا اضافہ ہوا ہے۔ دو ہزار سولہ میں جرمنی بدر کیے جانے والے افغان مہاجرین کی تعداد تین ہزار چھ سو پچانوے بتائی گئی ہے۔ اس کے علاوہ ملکی سرحدوں سے واپس بھیج دیے جانے والے شامیوں کی تعداد دو ہزار ایک سو بیالیس، عراقیوں کی ایک ہزار چورانوے اور نائجیریا سے تعلق رکھنے والوں کی تعداد ایک ہزار دو سو سینتیس بنتی ہے۔

DW.COM

اشتہار