جرمنی: چار مہاجرین کو سزائیں سنا دی گئیں | معاشرہ | DW | 10.05.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

معاشرہ

جرمنی: چار مہاجرین کو سزائیں سنا دی گئیں

جرمنی کی ایک عدالت نے افغانستان اور ایران سے تعلق رکھنے والے پناہ کے متلاشی چار افراد کو سزائیں سنا دی گئی ہیں۔ ان پر الزام تھا کہ وہ جرمن شہر امبرگ میں شہریوں پر حملوں میں ملوث تھے۔

خبر رساں اداروں کے مطابق جرمن شہر امبرگ کی ایک عدالت نے چار مہاجرین کو سزائیں سنا دی ہیں۔ جرمن صوبے باویریا میں ان غیر ملکیوں نے راہ چلتے لوگوں پر مبینہ حملے کیے تھے۔ سن دو ہزار اٹھارہ کے سال نو کے موقع پر کیے گئے ان حملوں کی خبریں عام ہونے کے بعد جرمنی بھر میں یہ بحث شروع ہو گئی تھی کہ پناہ کے متلاشی ایسے افراد کو ملک بدر کر دیا جائے، جو جرائم میں ملوث ہوتے ہیں۔

طویل عدالتی کارروائی کے بعد دس مئی بروز جمعہ امبرگ کی عدالت نے تین ملزمان کو معطل سزائیں سنائیں جبکہ چار مہاجرین کو دو دو برس کی سزائے قید سنائی۔ انتیس دسمبر سن دو ہزار اٹھارہ میں کیے گئے ان حملوں میں پندرہ شہری زخمی ہوئے تھے۔ ان واقعات کو جرمن میڈیا میں بڑے پیمانے پر کوریج بھی دی گئی تھی۔

حملے کس نوعیت کے تھے

  • ایران اور افغانستان سے تعلق رکھنے والے چار نوجوان مہاجرین نے باویریا کے شہر امبرگ میں اکیس افراد کو جسمانی اور زبانی تشدد کا نشانہ بنایا
  • ان حملوں میں پندرہ افراد زخمی ہوئے، جن میں زیادہ تر بچے تھے۔
  • حملوں آوروں میں سے تین نے اعتراف کیا کہ حملوں کے وقت وہ الکوحل اور ممنوعہ منشیات کے اثر میں تھے۔

نہ ختم ہونے والی بحث

ان واقعات کی وجہ سے جرمنی میں شروع ہونے والی بحث ابھی تک جاری ہے۔ انہی حملوں کے بعد قدامت پسند جرمن وزیر داخلہ ہورسٹ زیہوفر نے حکومت پر زور دیا تھا کہ ایسے مہاجرین کو ملک بدر کیے جانے کی راہ ہموار کرنا چاہیے، جو جرائم میں ملوث پائے جاتے ہیں۔ جرمنی میں انتہائی دائیں بازو کے حلقوں نے بھی ان واقعات کو اپنے مقاصد کی خاطر استعمال کیا۔ جرمنی میں مہاجرین کے بحران کی وجہ سے مہاجرت مخالف سیاسی پارٹی متبادل برائے جرمنی کی عوامی مقبولیت میں اضافہ ہوا ہے۔

جرمن قوانین کے مطابق پناہ کا متلاشی کوئی فرد اگر کسی جرم میں کم از کم تین سال کی سزا پاتا ہے تو اسے آسانی کے ساتھ ملک بدر کیا جا سکتا ہے۔ تاہم ایسے مہاجرین جو چھوٹے موٹے جرائم کے تحت سزا پاتے ہیں، یا وہ امن عامہ یا سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیے جاتے ہیں تو انہیں جرمنی سے نکالنا قانونی طور پر ایک پیچیدہ عمل ہے۔

ع ب / ع ت / خبر رساں ادارے

DW.COM