جرمنی: چار اموات کے الزام میں ’جعلی‘ ڈاکٹر گرفتار | صحت | DW | 02.11.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

صحت

جرمنی: چار اموات کے الزام میں ’جعلی‘ ڈاکٹر گرفتار

حکام کے مطابق غلط اینستھیزیا دینے سے چار مریضوں کی جانیں گئیں جبکہ آٹھ دیگر کی حالت نازک ہے۔ پولیس نے ایک اڑتالیس سالہ خاتون کے خلاف تفتیش شروع کر دی ہے۔

مبینہ طبی غفلت کے یہ واقعات جرمنی کی وسطی ریاست ہیسے میں پیش آئے۔ پولیس کے مطابق  مشتبہ جعلی ڈاکٹر کے خلاف جان سے مارنے،  جعلی دستاویزات، دھوکہ دہی اور اپنے عہدے کے غلط استعمال کے الزامات کی تفتیش کی جارہی ہے۔ 

ایک نرس نے اپنے مریضوں کو انجکشن کے ذریعے موت کی نیند سلا دیا
ایک مقامی جرمن اخبار کے مطابق ’اسسسٹنٹ ڈاکٹر‘ کے عہدے پر کام کرنے والی اس خاتون کے سپروائزر سے بھی پوچھ گچھ کی جارہی ہے تاکہ پتہ لگایا جاسکے کہ متعدد بار غلط اینستھیزیا دینےکے باوجود وہ کیسے اپنے کام پہ لگی رہیں۔

’جو نرس بننا چاہے، اسے جرمنی رہنے دیا جائے‘
اس مشتبہ جعلی ڈاکٹر نے سن دو ہزار پانچ میں ’ہولی اسپرٹ کلینک‘ میں طبی عملے کے ساتھ کام کرنا شروع کیا تھا لیکن یہ بات اس سال جنوری میں منظر عام پر آئی کہ ان کے پاس میڈیکل لائسنس نہیں تھا۔
ع آ / ش ج (dpa, AFP)

ویڈیو دیکھیے 01:58

تارکین وطن معمر افراد کی دیکھ بھال میں ہاتھ بٹا رہے ہیں

DW.COM

Audios and videos on the topic