جرمنی ، پناہ کے متلاشی ’افغان قاتل‘ کے لیے اپیل | حالات حاضرہ | DW | 06.09.2018
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

جرمنی ، پناہ کے متلاشی ’افغان قاتل‘ کے لیے اپیل

جرمن استغاثہ نے پناہ کے متلاشی ایک افغان لڑکے کو سنائی جانے والی ساڑھے آٹھ سال کی سزا کے خلاف اپیل دائر کر دی ہے۔ اسے یہ سزا ایک پندرہ سالہ جرمن لڑکی کو ہلاک کرنے کے جرم میں رواں ہفتے ہی سنائی گئی ہے۔

خبر رساں ادارے ڈی پی اے نے جرمن حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ لنڈاؤ شہر کے استغاثہ نے تصدیق کر دی ہے کہ افغان مہاجر عبدل ڈی کی سنائی جانے والی سزا کے خلاف باقاعدہ طور پر اپیل درج کرا دی گئی ہے۔ تاہم اس بارے میں زیادہ معلومات عام نہیں کی گئی ہیں کہ اس اپیل میں کن امور کو بنیاد بنایا گیا ہے۔

جرمن شہر لنڈاؤ کی عدالت نے تین دن قبل ہی انیس سالہ عبدل کو پندرہ سالہ جرمن لڑکی میا وی کی ہلاکت کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے یہ سزا سنائی تھی۔ استغاثہ نے عبدل کے لیے دس سال کی سزا کا مطالبہ کیا تھا تاہم وکلاء دفاع نے اپنے موکل کے لیے ساڑھے سات سال کی سزا کی درخواست کی تھی۔

اس افغان مہاجر کی عمر کے بارے میں درست اندازہ نہ ہو سکنے کے بعد اس کا مقدمہ بچوں کی خصوصی عدالت میں چلایا گیا۔ ماہرین نے جرم کے وقت اس کی عمر کا اندازہ سترہ اور بیس برس کے درمیان لگایا ہے۔

تاہم میڈیا میں عبدل کو جرم کے ارتکاب کے وقت عبدل کی عمر انیس برس تھی۔ اسی لیے عدالت نے عبدل کو شک کی بنیاد پر چھوٹ دی اور اس کا مقدمہ بالغوں کی عدالت میں نہیں چلایا گیا۔

عبدل پر الزام تھا کہ اس نے گزشتہ برس ستائیس دسمبر کو دن دیہاڑے کانڈل شہر میں اپنی سابقہ گرل گرینڈ میا کو چاقوؤں سے وار کر کے ہلاک کیا تھا۔ اس کیس کے بعد جرمنی میں ایک نئی بحث بھی شروع ہو گئی تھی کہ مہاجرین کی طرف سے کیے جانے والے جرائم سے نمٹنے کی خاطر کیا حکمت عملی اختیار کی جائے۔

کانڈل میں رونما ہونے والے اس واقعے کے نتیجے میں نو ہزار پر مشتمل اس چھوٹے سے شہر میں جرمنوں نے احتجاج کا سلسلہ بھی شروع کر دیا تھا۔ جرمنی میں مہاجرین کے بحران شروع ہونے کے بعد ایسے واقعات جرمن چانسلر انگیلا میرکل کی مہاجر دوست پالیسی کے خلاف عوامی غم و غصے کا باعث بھی بنے ہیں۔ اسی دوران جرمن میں مہاجر مخالف سیاسی پارٹی متبادل برائے جرمنی نے عوام حمایت حاصل کرنے میں کامیابی بھی حاصل کر لی ہے۔

ع ب / ص ح / خبر رساں ادارے

DW.COM

اشتہار