جرمنی: پناہ کے امکانات کا انحصار درخواست دیے جانے کی جگہ پر | حالات حاضرہ | DW | 22.10.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

جرمنی: پناہ کے امکانات کا انحصار درخواست دیے جانے کی جگہ پر

جرمنی میں غیر ملکیوں سے متعلقہ امور کے بائیس علاقائی دفاتر کی طرف سے پناہ کی درخواستیں منظور کر لینے کی شرح قومی اوسط سے بہت کم ہے۔ ایسی کسی درخواست کی منظوری کے امکانات کا انحصار درخواست دیے جانے کی جگہ پر بھی ہوتا ہے۔

شمالی جرمن شہری ریاست ہیمبرگ میں غیر ملکیوں سے متعلقہ امور کے ایک مقامی دفتر کے باہر قطار بنائے پناہ کے متلاشی تارکین وطن

شمالی جرمن شہری ریاست ہیمبرگ میں غیر ملکیوں سے متعلقہ امور کے ایک مقامی دفتر کے باہر قطار بنائے پناہ کے متلاشی تارکین وطن

جرمن نشریاتی ادارے اے آر ڈی کی ایک تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق ان حقائق سے یہ بات ثابت ہو گئی ہے کہ جرمنی میں غیر ملکیوں سے متعلقہ امور کے مقامی سطح پر کام کرنے والے علاقائی دفاتر بھی نسل پرستانہ سوچ کا مظاہرہ کرتے ہوئے عجیب و غریب اور بالکل غیر خوش کن فیصلے بھی کر سکتے ہیں۔

اس رپورٹ کے مطابق یورپی یونین کے اس سب سے زیادہ آبادی والے ملک میں مجموعی طور پر 22 ایسے علاقائی دفاتر بھی ہیں، جن کی طرف سے کیے جانے والے فیصلے ایسے باقی تمام دفاتر کے فیصلوں کے مقابلے میں کہیں برے اور غیر منصفانہ ہوتے ہیں۔

اس بارے میں وفاقی جرمن پارلیمان میں بائیں باز وکی لیفٹ پارٹی کی طرف سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں وفاقی دفتر برائے تارکین وطن اور مہاجرت (بی اے ایم ایف) کی طرف سے بتایا گیا کہ ایسے زیادہ تر دفاتر ملکی دارالحکومت برلن، مشرقی جرمن ریاستوں اور ملک کے جنوب میں واقع جرمن ریاست باویریا میں واقع ہیں۔

اس رپورٹ کے مطابق ان علاقائی دفاتر میں 30 فیصد سے بھی زائد واقعات میں پناہ کے متلاشی ایسے غیر ملکیوں کی درخواستیں مسترد کر دی جاتی ہیں، جو دراصل مروجہ ملکی قوانین کے تحت پناہ کے حصول اور پناہ گزینوں کے طور پر تحفظ کے حق دار ہوتے ہیں۔

'سنکی طریقے سے نکالی جانے والی لاٹری‘ جیسا نظام

اس بارے میں جرمن ایوان زیریں میں لیفٹ پارٹی کی داخلی سیاسی امور کی ماہر رکن پارلیمان اُولا ژَیلپکے کہتی ہیں، ''ترک وطن اور مہاجرت سے متعلقہ امور کے وفاقی جرمن دفتر 'بامف‘ کی کارکردگی پر نگاہ رکھے جانے کے عمل میں پائی جانے والی خامیوں کے باعث انسانوں کا پناہ کا حق ایک 'سنکی طریقے سے نکالی جانے والی لاٹری کے نظام‘ میں بدل چکا ہے۔‘‘

اُولا ژَیلپکے نے ڈی ڈبلیو کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا، ''کچھ علاقوں میں غیر ملکیوں سے متعلقہ امور کے دفاتر کی کارکردگی میں شدید نوعیت کی خامیاں پائی جاتی ہیں۔ نتیجہ یہ کہ پناہ کے متلاشی انسانوں کی درخواستیں بڑی تعداد میں مسترد کی جا رہی ہیں حالانکہ جو بھی غیر ملکی جرمنی میں اپنے لیے تحفظ کے خواہش مند ہوتے ہیں، ان سب کی درخواستوں پر پورے ملک میں مساوی حقوق کی بنیاد پر منصفانہ فیصلے کیے جانا چاہییں۔‘‘

پناہ کے کم ترین امکانات باویریا اور مشرقی جرمن صوبوں میں

جرمن ٹیلی وژن اے آر ڈی کی اس رپورٹ کے مطابق جرمنی میں پناہ کے متلاشی غیر ملکیوں کی درخواستیں مسترد کیے جانے کے سب سے زیادہ امکانات جن علاقوں میں ریکارڈ کیے گئے، ان میں برلن شہر کا مشرقی حصہ، کیمنِٹس، ڈریسڈن اور ملک کے مشرق میں واقع کئی دیگر شہروں کے علاوہ جنوبی جرمن صوبہ باویریا بھی شامل ہیں۔

ان شہروں میں جن غیر ملکیوں کی درخواستیں سب سے زیادہ مسترد کی جاتی ہیں، وہ عراق، افغانستان، ترکی، ایران اور صومالیہ کے شہری ہوتے ہیں۔

اس کا ایک ثبوت یہ بھی ہے کہ اس سال اب تک پورے جرمنی میں عراق سے تعلق رکھنے والے پناہ کے متلاشی افراد کو پناہ دیے جانے کی اوسط شرح تقریباﹰ 53 فیصد بنتی ہے۔ لیکن مشرقی جرمن شہر کیمنِٹس میں یہی شرح صرف 32 فیصد جبکہ 'ہالبراشٹڈ‘ نامی چھوٹے سے شہر میں تو یہی شرح محض 28.4 فیصد دیکھی گئی۔

جرمنی میں صومالیہ سے تعلق رکھنے والے تارکین وطن کو پناہ دیے جانے کی موجودہ قومی شرح 67.3 فیصد ہے، جس کا سبب اس افریقی ملک میں تشدد، عدم استحکام اور دہشت گردی ہیں۔

دوسری طرف جنوبی جرمن صوبے باویریا کے دو چھوٹے شہروں 'سِرن ڈورف‘ اور 'شوائن فُرٹ‘ میں صومالی باشندوں کی پناہ کی درخواستیں منظور کیے جانے کی شرح قومی اوسط سے 20 فیصد کم رہی۔

الزبتھ شوماخر (م م / ع ح)

DW.COM