جرمنی: پاکستان سمیت دس ممالک کو ’محفوظ ملک‘ قرار دیے جانے کا امکان | حالات حاضرہ | DW | 10.03.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

جرمنی: پاکستان سمیت دس ممالک کو ’محفوظ ملک‘ قرار دیے جانے کا امکان

وفاقی جرمن حکومت پناہ کے مسترد درخواست گزاروں کی ملک بدریوں میں اضافہ کرنے کے لیے پاکستان سمیت دس مزید ممالک کو ’محفوظ ممالک‘ کی فہرست میں شامل کرنا چاہتی ہے۔

جرمنی کی وفاقی وزارت داخلہ کے مطابق برلن حکومت دس مزید ممالک کو ’محفوظ ممالک‘ کی فہرست میں شامل کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ جرمن نیوز ایجنسی ڈی پی اے کے مطابق ’محفوظ ممالک‘ کی فہرست میں پاکستان، بھارت، جیارجیا، آرمینیا، الجزائر، مراکش، تیونس، گیمبیا، آئیوری کوسٹ اور مالدووا کو شامل کیا جا سکتا ہے کیوں کہ ان ممالک سے تعلق رکھنے والے تارکین وطن کو جرمنی میں پناہ دیے جانے کی شرح پانچ فیصد سے بھی کم ہے۔

جرمنی کی وفاقی حکومت میں شامل تینوں جماعتوں نے مخلوط حکومت کے لیے تیار کردہ معاہدے میں شمالی افریقی ممالک الجزائر، مراکش اور تیونس کو پہلے ہی محفوظ ممالک کی فہرست میں شامل کرنے کا فیصلہ کر رکھا ہے۔ اسی معاہدے میں یہ بھی لکھا گیا تھا کہ ’ایسے ممالک کو بھی نشاندہی کے بعد محفوظ ممالک کی فہرست میں شامل کیا جائے گا جن سے تعلق رکھنے والے تارکین وطن کو جرمنی میں پناہ دیے جانے کی شرح پانچ فیصد سے کم ہے‘۔

گزشتہ تین برسوں کے دوران ان دس ممالک سے تعلق رکھنے والے 81400 افراد نے جرمنی میں حکام کو اپنی سیاسی پناہ کی درخواستیں جمع کرائی تھیں اور ان میں سے بھی اکثریت کا تعلق پاکستان، جیارجیا اور آرمینیا سے تھا۔

’محفوظ ممالک‘ قرار کیوں دیا جاتا ہے؟

جرمنی نے یورپی یونین کے رکن ممالک سمیت مشرقی یورپی اور متعدد افریقی ممالک کو محفوظ ممالک کی فہرست میں شامل کر رکھا ہے۔ علاوہ ازیں جرمنی نے 32 ممالک کے ساتھ گزشتہ کئی برسوں سے ایسے معاہدے کر رکھے ہیں کہ وہ اپنے اپنے شہریوں کی وطن واپسی میں تعاون کریں گے۔ علاوہ ازیں یورپی یونین نے بھی پاکستان سمیت 13 ممالک کے ساتھ پناہ کے مسترد درخواست گزاروں کی واپسی کے معاہدے کیے ہوئے ہیں۔

محفوظ ملک قرار دیے جانے کے بعد ان ممالک سے تعلق رکھنے والے تارکین وطن کی سیاسی پناہ کی درخواستوں پر فیصلوں میں اور درخواستیں مسترد ہونے کی صورت میں ان جرمنی سے ملک بدریوں میں تیزی آ جاتی ہے۔ گزشتہ برس ہی مراکش، الجزائر اور تیونس سے تعلق رکھنے والے پناہ کے متلاشی افراد کی وطن واپسی کا عمل آسان بنانے کے لیے ان ممالک کے ساتھ معاہدے بھی کیے گئے تھے جس کے بعد جرمنی سے شمالی افریقی ممالک واپس بھیج دیے جانے والے پناہ کے مسترد درخواست گزاروں کی تعداد سن 2015 کے مقابلے میں چودہ گنا زیادہ رہی تھی۔

گزشتہ ماہ صوبہ باویریا میں مہاجرین کے لیے سرگرم ایک تنظیم نے بتایا تھا دسمبر 2018 میں ملک بدر کیے گئے پاکستانیوں میں ایسے افراد بھی شامل تھے جن کے پاس پاسپورٹ یا دیگر سفری دستاویزات نہیں تھیں۔ ان میں سے زیادہ تر افراد جرائم پیشہ تھے اور انہیں قید سے ہی نکال کر پاکستان بھیج دیا گیا تھا۔ اس سے قبل تک پاکستانیوں کی ملک بدری کے لیے عام طور پر سفری دستاویزات کی موجودگی لازمی تھی۔ اسی تناظر میں امدادی تنظیم جرمنی میں مقیم پناہ کے مسترد درخواست گزار پاکستانیوں کو متنبہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ملک بدریوں سے بچنے کے لیے پہلے ہی اپنے وکلا سے مشاورت کر لیں۔

ش ح / ع ب (ڈی پی اے، کے این اے)

DW.COM