’جرمنی میں ہنر مند مہاجرین کے لیے کام ہے‘ | مہاجرین کا بحران | DW | 15.08.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

’جرمنی میں ہنر مند مہاجرین کے لیے کام ہے‘

جرمنی میں پناہ کے متلاشی افراد کی راہ میں کئی انتظامی رکاوٹیں حائل ہیں، جن میں طویل قطاریں، پیچیدہ کاغذی کارروائی اور مشکل جرمن الفاظ بھی شامل ہیں۔ لیکن اب اس عمل کی آسانی کے لیے ایک ایپ تیار کی جا رہی ہے۔

جرمنی میں پناہ کے لیے درخواست جمع کرانا ایک مشکل کام ہے۔ یورپ کی اس طاقتور معیشت میں مہاجرین اور تارکین وطن کے لیے گھر تلاش کرنا، بنیادی صحت کی سہولیات کا حصول، بینک اکاؤنٹ کھولنا اور پھر سب سے بڑھ کر یہ کہ پناہ کی درخواست جمع کرنا، جوئے شیر لانے کے مترداف قرار دیا جاتا ہے۔

DW.COM

انہی مشکلات کو دیکھتے ہوئے برلن کے ReDL اسکول برائے ڈیجیٹل انضمام نامی ایک غیر سرکاری ادارے سے منسلک چھ ماہرین نے موبائل فون کی ایک ایپ تیارکرنے کی کوشش شروع کی ہے، جس میں پناہ کے متلاشی افراد کے لیے مشورے اور دیگر اہم معلومات کو آسانی کے ساتھ بیان کیا جائے گا۔

Bureaucrazy (بیوروکریزی) نامی اس ایپ کی مدد سے اب مہاجرین اور تارکین وطن کی مشکلات کچھ آسان ہونے کا امکان پیدا ہو گیا ہے۔ اس ایپ تک ڈسک ٹاپ اور دیگر انٹرنیٹ ڈیوائسز سے بھی رسائی حاصل کی جا سکے گی۔

غیر سرکاری ادارہ ReDL دراصل جرمنی آنے والے مہاجرین کو اس ملک کے قوانین اور ملازمتیں تلاش کرنے کے بارے میں نہ صرف اہم معلومات فراہم کرتا ہے بلکہ انہیں کاروبار شروع کرنے کے حوالے سے بھی تربیت فراہم کرتا ہے۔

اس تنظیم کی پہلی کلاس رواں برس فروری میں شروع کی گئی تھی، جس میں مجموعی طور پر بیالیس مہاجرین کو داخلہ دیا گیا تھا۔ ان میں سے پینتیس افراد کو جون میں باقاعدہ طور پر ڈپلومہ بھی جاری کیا گیا۔

اس غیر سرکاری ادارے سے وابستہ تیس سالہ عمر الشافعی اپریل سن دو ہزار پندرہ میں دمشق سے ہجرت کر کے جرمنی پہنچے تھے۔ اپنی مشکلات کے حوالے سے انہوں نے بتایا، ’’میں جب پہلی مرتبہ جرمنی پہنچا تو پناہ کی درخواست جمع کرانے والوں کی طویل قطاروں اور پیچیدہ کاغذی کارروائی نے مجھے ایک دھچکا دیا۔‘‘ انہیں جرمنی میں رہنے کا اجازت نامہ حاصل کرنے میں بھی دو ہفتے کا وقت لگ گیا۔

عمر کے بقول جب انہوں نے کاغذی کارروائی کی تو سب کچھ جرمن زبان میں تھا، ’’میں نے جب کاغذات پر دستخط کیے تو مجھے کچھ علم نہیں تھا کہ ان میں کیا لکھا ہے۔ مجھے تو یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ میں کس دستاویز پر دستخط ثبت کر رہا ہوں۔‘‘

انیس سالہ غیاث زمرک بھی شام کی خانہ جنگی سے فرار ہو کر گزشتہ سال دسمبر میں جرمنی آئے تھے۔ وہ دو ماہ بعد ReDL میں داخلہ لینے میں کامیاب ہو گئے تھے۔ اب وہ اسی تنظیم میں کام کرنے لگے ہیں۔ انہوں نے بتایا، ’’ہم نے غور کیا کہ جرمنی آنے والے مہاجرین اور تارکین وطن کو کیا کیا مسائل درپیش ہیں اور ٹیکنالوجی ان کی مشکلات دور کرنے میں کیا کردار ادا کر سکتی ہے۔‘‘

غیاث کے مطابق، ’’ہمارے سامنے دو بڑے مسائل تھے۔ پہلا جرمن زبان کی فہم اور دوسرا اس ملک کی بیوروکریسی۔ اس ملک میں آنے والے کو نہ تو زبان آتی ہے اور نہ ہی وہ یہاں کے نظام کو سمجھتے ہیں۔‘‘ غیاث نے کہا کہ انہی دو مسائل کو دور کرنے کی خاطر انہوں نے مہاجرین کے لیے ایپ تیار کرنے کا سوچا۔

Griechenland Peloponnes Touristenkomplex Flüchtlingslager

مہاجرین کے لیے انٹرنیٹ تک رسائی انتہائی اہم قرار دی جاتی ہے

Symbolbild Flüchtlinge Internet Smartphone Google Web

یورپ پہنچنے والے مہاجرین زیادہ تر انٹرنیٹ کے ذریعے ہی اپنے گھر والوں سے رابطہ کرتے ہیں

Deutschland Flüchtlinge aus Syrien vor der ZAA in Berlin

متعدد مہاجرین اپنا سفر بھی سمارٹ فون کے ذریعے ترتیب دیتے ہیں

Das Team um die App Bureaucrazy Screenshot

’بیوروکریزی‘ ایپ بنانے والی ٹیم کی گروپ فوٹو

ReDL کی چیف ایگزیکٹیو آفیسر این کیار ریشرٹ کا کہنا ہے کہ ایک اندازے کے مطابق جرمنی میں اس وقت آئی ٹی کے شعبے میں تینتالیس ہزار ملازمتوں کے مواقع موجود ہیں، جن میں ہنرمند اور تعلیم یافتہ مہاجرین کو بھی جگہ مل سکتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ موبائل فون ٹیکنالوجی مہاجرین کے لیے انتہائی زیادہ اہم ہو چکی ہے کیونکہ مہاجرین اپنے سفر کے دوران سمارٹ فون کے ذریعے ہی دنیا سے رابطے میں ہوتے ہیں۔

ریشرٹ نے بتایا کہ ان کی تنظیم جرمنی کی اہم کمپنیوں کے ساتھ ملک کر کام رہی ہے تاکہ ہنر مند مہاجرین کو ان کمپنیوں میں تربیت یا ملازمت کی مواقع فراہم کرنے کی کوشش کی جا سکے۔ ReDL جرمن کار ساز ادارے مرسیڈیز کے ساتھ بھی مل کر فعال ہے۔ ریشرٹ نے بتایا کہ قابل اور نئے خیالات و نظریات کے حامل مہاجرین کو مواقع فراہم کرنے سے جرمن کمپنیوں کی صلاحیت میں بھی بہتری پیدا ہو گی۔

عمر اور غیاث کا خیال ہے کہ تھوڑی سی محنت اور استعداد کاری سے مہاجرین جرمن معاشرے میں اہم مقام بنا سکتے ہیں۔ عمر کے بقول، ’’جرمنی میں بہت سے مہاجرین کچھ نہ کچھ کام کر رہے ہیں لیکن ان سب کو میڈیا کی توجہ نہیں مل سکتی، جیسا کہ ہمیں ملی ہے۔‘‘