جرمنی میں کورونا، ضوابط اور ممکنہ عوامی رد عمل | حالات حاضرہ | DW | 30.10.2020
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

جرمنی میں کورونا، ضوابط اور ممکنہ عوامی رد عمل

چانسلر میرکل نے کورونا وائرس کی وبا کو کنٹرول کرنے کے اقدامات متعارف کرا دیے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ عوامی ردعمل کیا ہو سکتا ہے۔

انگیلا میرکل نے سولہ صوبائی وزرائے اعلیٰ کے ساتھ ایک چار گھنٹوں کی طویل میٹنگ کے بعد کورونا وبا کی دوسری لہر کو قابو میں لانے کے ضوابط کا اعلان کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان پر عمل کرنے سے وبا کو کنٹرول کرنا ممکن ہو گا۔ میرکل کے مطابق ان ضوابط پر تمام وزرائے اعلیٰ متفق تھے اور یہ ایک اچھی بات تھی۔

کورونا وائرس: دنیا بھر میں ایک دن میں ریکارڈ پانچ لاکھ سے زائد نئے کیسز

ویکسین، تیاری میں جلدبازی خطرناک تو نہیں؟

تعلیمی ادارے کھلے رہیں گے

جرمن چانسلر نے واضح کیا کہ اس وبا کا مقابلہ کرنے کی ضرورت ہے اور اس کے لیے افراد کے درمیان روابط کو محدود کرنا بہت ضروری ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ لوگوں کے کثرت سے میل جول میں کمی لا کر ایک لاکھ افراد میں کورونا وائرس کی لپیٹ میں آنے والے افراد کی تعداد پچاس کرنا حکومت کی اولین کوشش ہو گی۔ میرکل کا کہنا ہے کہ اس سطح پر پہنچ کر ہی کورونا کے پھیلاؤ کو ختم کرنا ممکن ہو گا۔

 

نئے ضوابط کے تحت کنڈر گارٹن اور اسکولوں کو فی الحال بند نہیں کیا جا رہا۔ افراد کے میل جول کو دس افراد یا دو خاندانوں تک محدود کر دیا گیا ہے۔ ریسٹورانٹس اور ہر قسم کے کیفے پیر دو نومبر سے بند کر دیے جائیں گے۔ عام لوگوں کو ریسٹورانٹس سے کھانا اپنے ساتھ یعنی (ٹیک اوے) لے کر جانے کی اجازت ہو گئی۔

Coronavirus | Deutschland | Rodenbach Schülerin mit Maske

اسکول کھلے رہیں گے

ثقافت پھر پابندی کا شکار

ایک مرتبہ پھر جرمن کلچر منظر نامے کو شدید پابندیوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ تھیئٹرز، سینما گھر اور کنسرٹ ہال مکمل طور پر بند کیے جا رہے ہیں۔ اسی طرح سویمنگ پولز، جیمز )ورزش کے مراکز) اور آرام و آسائش کے مقامات بھی بند رکھیں جائیں گے۔ ان کے علاوہ کام کے ایسے مقامات جہاں پچاس سے کم افراد ملازم ہیں، وہ بھی بند رکھںا ہوں گے۔ پچاس سے زائد ملازمین کے اداروں کو اکتوبر سن 2019 میں کمائی گئی آمدن کا پچھتر فیصد حکومت ادا کرے گی۔

عام لوگوں کو جرمنی کا غیر ضروری سفر کرنے سے گریز کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ ان ضوابط کے دوران جرمن سرحدیں کھلی رہیں گی۔ مظاہروں اور مذہبی اجتماعات پر کوئی پابندی عائد نہیں کی گئی۔

جرمن رویہ کیسا ہو گا؟

عمومی طور پر جرمن شہریوں کو نظم و ضبط کی پابندی کرنے والوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ اس تناظر میں رواں برس میں کورونا وائرس کی پہلی لہر کے دوران لوگوں نے حکومتی نافذ کردہ قواعد و ضوابط کا بھرپور احترام کیا تھا۔ اس تناظر میں سوئٹزرلینڈ کے ایک اخبار 'نوئے زیورشر سائٹنگ‘ نے جرمن شہریوں کو 'یورپ کے ماڈل شاگرد‘ قرار دیا تھا۔ سبھی ایسے نہیں تھے کئی افراد نے ان پابندیوں کے خلاف مظاہروں میں حصہ لیا تھا۔ ایسا امکان ہے کہ توسیع کی صورت میں پھر مظاہرے شروع ہو سکتے ہیں۔ پچیس اکتوبر کو کورونا وبا کی نگرانی کرنے والے رابرٹ کوخ انسٹیٹیوٹ پر آتش گیر مادہ پھینکا گیا۔ اس کے اعادہ کا بھی امکان ظاہر کیا گیا ہے۔

ویڈیو دیکھیے 01:37

کورونا کی دوسری لہر، چیک ری پبلک میں فیلڈ ہسپتال کا قیام

سیاسی ردعمل

نئے ضوابط کی منظوری کی میٹنگ سے قبل چند وزرائے اعلیٰ ضوابط کے حوالے سے تحفظات رکھتے تھے لیکن بعد میں وہ رفع ہو گئے تھے۔ اس میٹنگ کے وقت جرمن ثقافتی اور سیاحتی شعبوں میں کام کرنے والے ہزاروں افراد حکوتی اقدامات کے خلاف سراپا احتجاج بنے ہوئے تھے۔ جرمن پارلیمنٹ میں سب سے بڑی اپوزیشن سیاسی پارٹی، مہاجرین اور اسلام مخالف سیاسی جماعت آلٹرنیٹیو فار ڈوئچ لینڈ(اے ایف ڈی) کا کہنا ہے کہ نئے ضوابط کے نفاذ کا اقتصادی سرگرمیوں پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ ایسا محسوس کیا گیا ہے کہ اے ایف ڈی کے اس بیان کو زیادہ حمایت نہیں ملی ہے۔ کاروبار دوست سیاسی جماعت فری ڈیموکریٹک پارٹی کے سربراہ کا خیال ہے کہ نئے ضابطوں کا نفاذ، خاص طور پر ریسٹورانٹس وغیرہ کو بند کرنا غیر ضروری اور دستور کے منافی ہے۔

ع ح، ع ت (الیگزانڈر شولز)