جرمنی میں کم پڑھے لکھے مہاجرین کے لیے مشکلات زیادہ | مہاجرین کا بحران | DW | 12.10.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

جرمنی میں کم پڑھے لکھے مہاجرین کے لیے مشکلات زیادہ

جرمنی میں لاکھوں مہاجرین کو ایک نئی زندگی شروع کرنے میں گونا گوں مسائل کا سامنا ہے۔ اس سلسلے میں انہیں یہ انتظار بھی کھائے جا رہا ہے کہ آیا ان کی سیاسی پناہ کی درخواستیں منظور ہو جائیں گی۔

Deutschland Flüchtlinge kommen an der ZAA in Berlin an (Getty Images/S. Gallup)

جرمن دارالحکومت برلن میں مہاجرین کی رجسٹریشن کے مرکزی دفتر کی جانب بڑھتے پناہ گزین

برلن میں پناہ گزینوں کی فلاح و بہبود کے لیے کام کرنے والے سماجی کارکنوں کا کہنا ہے کہ جرمن زبان سیکھنے میں کئی مہاجرین کا کم پڑھا لکھا ہونا سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ ایسی ہی ایک خاتون ورکر کے مطابق کچھ مہاجرین تو بالکل ان پڑھ ہیں اور ایسے افراد کو زبان سکھانا بہت مشکل ہو سکتا ہے کیونکہ وہ پڑھنے لکھنے کی صلاحیت سے عاری ہوتے ہیں۔ ان حقائق نے مہاجرین کے سماجی انضمام کی کوششوں کو پیچیدہ بنا دیا ہے۔

کئی یورپی اور جرمن محققین کو یہ خوش فہمی بھی ہے کہ چونکہ جرمنی کی آبادی کا حجم سکڑنے کے ساتھ ساتھ جرمن معاشرہ اپنے شہریوں کی مجموعی اوسط عمر کے حوالے سے بوڑھا بھی ہوتا جا رہا ہے، اس لیے یہ مہاجرین یورپ کی سب سے بڑی معیشت کے حامل اس ملک کی لیبر مارکیٹ میں اچھی طرح کھپ سکتے ہیں۔ کئی کمپنیوں نے شکایت کی ہے کہ بغیر زبان اور ہنر کے وہ کس طرح ان مہاجرین کو روزگار مہیا کریں۔ دوسری جانب جرمن معاشرے میں اجانب دشمنی کے رویے میں بھی شدت پیدا ہونا شروع ہو گئی ہے اور کئی شہروں میں مہاجرین پر حملے بھی رپورٹ کیے گئے ہیں۔

مہاجرت سے متعلقہ امور کے ماہرین کا خیال ہے کہ جرمن حکومتی نظام کی پیچیدگیاں مہاجرین کی بڑی تعداد کو جلد از جلد کھپانے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ پھر مہاجرین کو یہ مشورہ بھی دیا جاتا ہے کہ وہ جرمن معاشرے میں انضمام کی کوشش میں زبان سیکھیں، نوکری حاصل کر کے اپنے لیے خود کمائیں اور حکومت کو ٹیکس ادا کریں۔ اس ساری صورت حال میں ہزار ہا مہاجرین کو اپنی سیاسی پناہ کی درخواستوں کے منظور یا نامنظور ہونے کا بھی شدت سے انتظار ہے۔

Deutschland Aufkleber mit fremdfeindlichen Parolen (Getty Images/AFP/T. Schwarz)

جرمنی کے مشرقی حصے میں اچانب دشمنی کا اظہار کرتا ایک چھوٹا سا پوسٹر کھمبے پر چسپاں ہے۔ اس میں لکھا ہے کہ مہاجرین کو خوش امدید نہیں کہا جاتا، آگے جائیں

جرمنی کے سرکاری ادارے انسٹیٹیوٹ فار ایمپلائمنٹ ریسرچ کے ایک ریسرچر ہیربرٹ برُؤکر (Herbert Bruecker) کا کہنا ہے کہ اس وقت تقریباً ایک لاکھ ساٹھ ہزار مہاجرین نے انٹیگریشن کورس میں شمولیت اختیار کر رکھی ہے۔ برُؤکر کے مطابق مہاجرین کے انضمام اور روزگار کے سلسلے میں ابھی بہت کچھ کیا جانا باقی ہے کیونکہ جرمن زبان سے آگہی سب سے اہم مسئلہ ہے۔

اس انسٹیٹیوٹ کے اعداد و شمار کے مطابق مہاجرین کی ایک تہائی تعداد ہائی اسکولوں یا یونیورسٹیوں میں زیر تعلیم رہ چکی ہے جبکہ بہت سے دوسرے پرائمری اسکولوں میں داخل رہے ہیں۔  برُؤکر کے مطابق اس وقت تیس ہزار سے پچاس ہزار کے درمیان مہاجرین کو لیبر مارکیٹ میں روزگار حاصل ہو چکا ہے اور وقت کے ساتھ ساتھ ساٹھ سے ستر فیصد مہاجرین کو غیر ہنر مند شعبوں میں ملازمتیں ملنے کا امکان ہے۔