جرمنی میں نسل پرستانہ حملوں پر ’شدید تحفظات‘ ہیں، میرکل | حالات حاضرہ | DW | 03.03.2020
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

جرمنی میں نسل پرستانہ حملوں پر ’شدید تحفظات‘ ہیں، میرکل

جرمن چانسلر میرکل کے مطابق جرمنی میں ہر ایک کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ خود کو محفوظ محسوس کرے۔ ان کا یہ بیان حالیہ شدت پسندانہ حملوں کے بعد نسل پرستی سے نمٹنے کے لیے منعقد کی گئی ایک حکومتی ملاقات کے موقع پر سامنے آیا۔

جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے پیر دو مارچ کو کہا کہ نسل پرستی، اسلامو فوبیا اور سامیت مخالفت کے خلاف جرمنی کی کوششیں حکومت کے لیے 'انتہائی اہم معاملات‘ ہیں۔ ان کا یہ بیان کابینہ کے ارکان کی تارکین وطن کے گروپوں کے رہنماؤں سے ملاقات کے موقع پر سامنے آیا۔ حالیہ شدت شدت پسندانہ حملوں کے تناظر میں ہونے والی اس ملاقات کا مقصد شہریوں کو دائیں بازو کی شدت پسندی سے محفوظ رکھنے کے طریقوں پر غور کرنا تھا۔

ویڈیو دیکھیے 01:40

اگر ہم جرمنی میں بھی محفوظ نہیں تو کہاں ہوں گے؟

میرکل کے مطابق ان کی حکومت گزشتہ برس اس وقت سے ہی شدت پسندی سے نمٹنے کے لیے اقدامات شروع کر چکی ہے، جب ایک مسلح شخص نے جرمن شہر ہالے میں یہودیوں کی ایک عبادت گاہ پر حملہ کیا تھا: ''مجھے امید ہے کہ اس کا اثر ہو گا‘‘۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ جرمنی میں ہر کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ ''اپنی جلد کے رنگ یا مذہب سے قطع نظر‘ خود کو محفوظ سمجھیں۔

جرمن وزیر داخلہ ہورسٹ زیہوفر نے ہفتہ 29 فروری کو 'اسلامو فوبیا کے معاملے پر ماہرین کا ایک خودمختار گروپ‘ تشکیل دینے کا اعلان کیا تھا جو اس وقت موجود وزارتی پینلز کی طرز پر ہوگا جو سامیت مخالفت یا یورپی خانہ بدوش اقوام کی مخالفت سے نمٹنے کے لیے قائم ہیں۔

ڈی ڈبلیو کے ایڈیٹرز ہر صبح اپنی تازہ ترین خبریں اور چنیدہ رپورٹس اپنے پڑھنے والوں کو بھیجتے ہیں۔ آپ بھی یہاں کلک کر کے یہ نیوز لیٹر موصول کر سکتے ہیں۔

ا ب ا / ع ا (ای پی ڈی، کے این اے، اے پی)

DW.COM