جرمنی میں مہاجرین سے متعلق نئے قوانین | مہاجرین کا بحران | DW | 08.07.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

جرمنی میں مہاجرین سے متعلق نئے قوانین

وفاقی جرمن پارلیمان نے ملک میں آنے والے مہاجرین کے سماجی انضمام اور پناہ کے متلاشی افراد کو روزگار کی فراہمی سے متعلق نئے قوانین کی منظوری دے دی ہے۔

جرمن خبر رساں ادارے ڈی پی اے کی وفاقی دارالحکومت برلن سے ملنے والی رپورٹوں میں بتایا گیا ہے کہ جرمن پارلیمان کے ایوان زیریں یا بنڈس ٹاگ کے منظور کردہ مہاجرین کے سماجی انضمام سے متعلق نئے قوانین کے مطابق جرمن معاشرے کا حصہ بننے کی کوشش نہ کرنے والے مہاجرین اور تارکین وطن کو ریاست کی جانب سے فراہم کردہ سہولیات روک دی جائیں گی۔

’تارکین وطن کو اٹلی سے بھی ملک بدر کر دیا جائے‘

ہمیں واپس آنے دو! پاکستانی تارکین وطن

وفاقی چانسلر انگیلا میرکل نے چار ماہ قبل ایسے قوانین بنانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ نئے سماجی قوانین تاریخی اہمیت کے حامل ہوں گے۔ میرکل کا کہنا تھا کہ جرمنی کو مہاجرین کی جانب سے دو طرح کے چیلنج درپیش ہیں، جن میں سے پہلا ان کی جرمنی آمد کو محدود کرنا اور دوسرا ملک میں رہائش پذیر مہاجرین کو مقامی معاشرے میں ضم کرنا ہے۔

آڈیو سنیے 02:58
Now live
02:58 منٹ

جب یورپ میں قانونی رہائش کے لیے شادی بھی کام نہ آئے

1960ء کی دہائی کے آغاز پر جرمنی نے ترک شہریوں کو بطور ’مہمان کارکن‘ اپنے ہاں بُلا تو لیا تھا لیکن ان لاکھوں غیر ملکیوں کو جرمن شہریت دینے اور ان کے سماجی انضمام کے لیے کوئی باقاعدہ منصوبہ بندی نہیں کی گئی تھی۔ گزشتہ برس کے دوران مشرق وسطیٰ، ایشیا اور افریقہ سے تعلق رکھنے والے ایک ملین سے زائد مہاجرین کی جرمنی آمد کے بعد ایسے قوانین کی فوری ضرورت خاص طور پر محسوس کی جا رہی تھی۔

جرمنی میں موجود مہاجرین کے بارے میں ان نئے قوانین کو ’قانون برائے سماجی انضمام‘ کا نام دیا گیا ہے اور اس میں مہاجرین کے لیے سماجی انضمام کے کورسز سے لے کر ان کی تعلیم، فنی تربیت، ملازمت اور ان کے جرمنی میں رہائش کے حقوق تک جیسے سبھی پہلوؤں کا احاطہ کیا گیا ہے۔

ان قوانین پر عمل درآمد نہ کرنے والے مہاجرین کو اس عمل کے نتائج بھی بھگتنا ہوں گے۔ تعاون نہ کرنے والے مہاجرین کو نہ صرف سماجی سہولیات سے محروم کر دیا جائے گا بلکہ انہیں جاری کردہ عارضی رہائش نامے بھی منسوخ کیے جا سکیں گے۔

انسانی حقوق کی تنظیموں نے برلن حکومت کے ان نئے قوانین پر شدید تنقید کی ہے۔ علاوہ ازیں جرمنی میں سماجی انضمام کی نگران خاتون کمشنر آئیدین اُوزوس نے بھی ان قوانین کو سخت الفاظ میں تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ یہ قوانین انہی لوگوں کو معاشرتی طور پر ’الگ تھلگ‘ کر دینے کا سبب بن جائیں گے، جنہیں معاشرے میں ضم کرنے کی کوشش کے تحت یہ قانون سازی کی گئی ہے۔

اُوزوس کا مزید کہنا تھا کہ اگرچہ یہ قوانین جرمنی آنے والے مہاجرین کا سماجی انضمام یقینی بنانے کے لیے ناگزیر ہیں تاہم ان میں ایک اہم بات کو نظرانداز کرتے ہوئے یہ وضاحت نہیں کی گئی کہ ریاست کی فراہم کردہ ’سہولیات کا حق دار‘ کون ہو گا۔

دوسری جانب جرمن شہر بیلےفَیلڈ کی یونیورسٹی کی جانب سے گزشتہ روز جاری کیے گئے ایک جائزے کے نتائج کے مطابق ملک میں جرمن نسل کی مقامی آبادی میں مہاجرین کے سماجی انضمام پر رضا مندی میں بھی کمی دیکھی جا رہی ہے۔ اس جائزے کے مطابق جرمنی میں مہاجرین کو خوش آمدید کہنے کے کلچر میں بھی تیزی سے کمی واقع ہوئی ہے۔

یورپی کمیشن نے سیاسی پناہ کے نئے قوانین تجویز کر دیے

ہزاروں پناہ گزین اپنے وطنوں کی جانب لوٹ گئے

ویڈیو دیکھیے 03:23
Now live
03:23 منٹ

مہاجر خاندان افغان، مسئلہ مشرقی، مسئلہ مغرب میں

DW.COM

Audios and videos on the topic