جرمنی میں فٹ بال ریفری بننے والے مہاجرین | کھیل | DW | 25.12.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

کھیل

جرمنی میں فٹ بال ریفری بننے والے مہاجرین

جرمنی آنے والے پناہ گزینوں کو معاشرے میں ضم کرنے کے لیے حکومتی سطح پر کئی منصوبے شروع کیے گئے۔ ان میں سے ایک کھیل کے ذریعے ان کا انضمام بھی تھا۔ اب برلن میں 14 مہاجرین فٹ بال ریفری کی اپنی تربیت مکمل کرنے والے ہیں۔

جرمن خبر رساں ادارے ( ڈی پی اے) کے مطابق 14 مہاجرین جلد ہی اپنی وہ تربیت مکمل کرنے والے ہیں، جس کے بعد وہ فٹ بال ریفری کے طور پر خدمات سر انجام دینے کے قابل ہو جائیں گے۔ برلن حکومت کی جانب سے 'بارڈر لیس فٹ بال‘ نامی یہ مہم شروع کا مقصد مہاجرین کو جرمن معاشرے میں بہتر طور پر ضم ہونے کا ایک موقع فراہم کرنا ہے۔ برلن کی فٹ بال ایسوسی ایشن ( بی ایف وی)  کی کوششوں سے یہ مہم شروع کی گئی تھی۔

14 رکنی اس گروپ میں چھ کا تعلق افغانستان سے ہے۔  اس گروپ میں 16 سالہ خالد بھی شامل ہے۔ اس نے چھ برس قبل افغانستان چھوڑا تھا۔ وہ آج کل برلن کے ایک ہائی اسکول میں پڑھ رہا ہے اور روٹ وائس ہیلرز ڈورف نامی ایک مقامی کلب سے فٹ بال بھی کھیلتا ہے۔ خالد کے بقول، ''ہم جب فٹ بال کھیلتے ہیں تو شاذ و نادر ہی کوئی ریفری وہاں موجود ہوتا ہے۔ مخالف ٹیم کا ریفری پھر یہ ذمہ داری نبھاتا ہے اور کبھی کبھار محسوس ہوتا ہے کہ ہمیں اس کا نقصان ہو رہا ہے۔‘‘

اس نے مزید کہا کہ اسی کمی کو دیکھتے ہوئے اس نے اس کورس میں حصہ لیا، جو جنوری کے وسط تک جاری رہے گا۔ وہ اس گروپ کا سب سے کم عمر ترین رکن ہے۔

اس گروپ میں افغانستان کے ہی 32 سالہ مرتضی علی زادہ بھی شامل ہیں۔ علی زادہ 2016ء سے جرمنی میں رہ رہے ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ وہ مہاجر کیمپ میں فٹ بال کھیلا کرتے تھے اور اب وہ فورسٹ کے ایک فٹ بال کلب میں کھیل رہے ہیں، ''مجھے امید ہے کہ میری ٹیم آٹھویں ڈویژن میں شامل ہو جائے گی۔‘‘

اس دوران اس گروپ کے تمام ارکان بہت اچھی جرمن بول لیتے ہیں۔ مہاجرین کے اس گروپ کو اُلور ساوا تربیت دے رہے ہیں۔ ان مہاجرین کے کوشش ہے کہ تربیت مکمل کرنے کے بعد انہیں ریفری کے فرائض انجام دینے کا اجازت نامہ مل جائے۔ ساوا کے بقول یہ تمام لوگ بہت محنت اور لگن کے ساتھ تربیت میں حصہ لے رہے ہیں۔

یہ اپنی نوعیت کا دوسرا منصوبہ ہے۔ اس سے قبل ایک ایسی ہی پراجیکٹ میں 13 مہاجرین شریک تھے اور ان میں سے 10 اس وقت ریفری کے طور پر کام کر رہے ہیں۔

ع ا / ا ب ا ( ڈی پی اے)

DW.COM