جرمنی میں داعش کے لیے جنگجو بھرتی کرنے والے مبلغ کو سزائے قید | حالات حاضرہ | DW | 24.02.2021
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

جرمنی میں داعش کے لیے جنگجو بھرتی کرنے والے مبلغ کو سزائے قید

دہشت گرد گروہ داعش کے لیے جنگجو بھرتی کرنے والے مسلم مبلغ ابو ولاء العراقی کو ایک جرمن عدالت نے سزا سنا دی ہے۔ اسے جرمنی میں ’اسلامک اسٹیٹ‘ کا عملی طور پر سربراہ بھی قرار دیا جاتا تھا۔

شمالی جرمنی کی ایک عدالت کے فیصلے کے مطابق 'اسلامک اسٹیٹ‘ یا داعش کے لیے عسکریت پسند بھرتی کرنے والے ابو ولاء العراقی کو دس برس سے زائد کی سزا کاٹنا ہو گی۔ عدالت نے اپنا فیصلہ استغاثہ کے دلائل اور شواہد کی روشنی میں سنایا۔ ابو ولاء العراقی کے وکیل نے عدالت سے اس ملزم کو بری کرنے کی درخواست کی تھی۔

جرمن جیلوں میں انتہا پسندی کے رجحان کو محدود کرنے کی کوششیں

ابو ولاء العراقی کی گرفتاری

داعش سے تعلق رکھنے والے اس ملزم کو اس کے چار ساتھیوں سمیت سن 2016 میں گرفتار کیا گیا تھا۔ گرفتاری کے بعد عدالتی کارروائی سن 2017 میں شروع ہوئی تھی۔ ابو ولاء العراقی کی عرفیت رکھنے والے داعش کے اس سرگرم کارکن کا اصل نام احمد عبدالعزیز عبد اللہ ہے۔ مقدمے کی سماعت کے درمیان ابو ولاء کے لیے استغاثہ نے ساڑھے گیارہ برس تک کی سزائے قید سنائے جانے کی استدعا کی تھی۔ دیگر چاروں گرفتار شدگان نے اعتراف جرم کر لیا تھا اور انہیں اپریل سن 2020 میں فی کس ساڑھے تین برس کی سزائے قید سنائی گئی تھی۔

Wuppertal Demonstrationen von Salafisten und Rechtsextremen

سن 2015 میں جرمن شہر ووپرٹال میں سلفی مسلمانوں اور جرمن پولیس میں ہاتھا پائی

شعلہ بیان مقرر اور مبلغ

ابو ولاء العراقی کو ان کے ساتھی ایک زور دار مقرر قرار دیتے تھے۔ ان کی مسجد کو جرمن حکام نے بند کر دیا تھا تو بھی وہ آن لائن تبلیغ کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے تھے۔ ان کے عقیدت مند اور ساتھی ان سے ٹیکسٹ پیغامات کے ذریعے رابطے میں رہتے تھے۔ ان کی تبلیغی ویڈیوز میں دینی اور دنیای معاملات کے ساتھ ساتھ صحت مندانہ ازدواجی زندگی پر بھی زیادہ توجہ دی جاتی تھی۔ ان کے فیس بک بیچ پر ایک وقت میں تو فالوورز کی تعداد پچیس ہزار سے بھی زائد ہو گئی تھی۔

جرمنی میں نیوزی لینڈ کی مساجد جیسے بڑے حملوں کا منصوبہ ناکام

سلفی عقائد کا پرچار

ابو ولاء العراقی اپنی تقاریر میں اعتدال پسند اسلام کی جگہ سخت گیر سلفی نظریات کی ترویج کرتے تھے۔ ان کی تبلیغ سے متاثر ہو کر کم از کم بیس افراد جرمنی سے بھرتی ہو کر عراق اور شام جا کر 'اسلامک اسٹیٹ‘ کے جنگجوؤں میں شامل ہو گئے تھے۔ سن 2016 میں پولیس نے ان کی مسجد پر چھاپہ مار کر اس کی تلاشی بھی لی تھی۔ اس چھاپے کے دوران کسی کو گرفتار نہیں کیا گیا تھا لیکن اسی سال نومبر ابو ولاء کو حراست میں لے لیا گیا تھا۔

El Kaida Terrorismus Afghanistan

اسلامک اسٹیٹ کے مسلح حملہ آور

جرمنی آمد اور مسجد کی بنیاد

ابو ولاء العراقی سن 2000 میں عراق سے جرمنی منتقل ہوئے تھے۔ جرمنی پہنچ کر انہوں نے ابتدا میں صوبے نارتھ رائن ویسٹ فیلیا کے ایک قصبے ٹوئنس فورسٹ (Tönisvorst) میں رہائش اختیار کی تھی۔ بعد میں سن 2012 میں العراقی نے شمال مغربی ریاست لوئر سیکسنی میں تبلیغ کے لیے اپنی مسجد بنا لی تھی۔

ہاناؤ حملے کے بعد مسلمانوں کی سکیورٹی بڑھانے کا فیصلہ

برلن حملہ آور سے رابطہ

جرمن حکام نے یہ بھی معلوم کر لیا تھا کہ سن 2016 میں جرمن دارالحکومت برلن میں سجائی گئی ایک کرسمس مارکیٹ پر حملہ کرنے والا انیس عامری بھی ابو ولاء کے ساتھ رابطے میں تھا۔ انیس عامری تیونس کا مہاجر تھا۔ اس حملے میں کم از کم 12 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ بعد میں دہشت گرد عامری اٹلی میں ملکی پولیس کے ساتھ فائرنگ کے ایک تبادلے میں مارا گیا تھا۔

ع ح / م م (اے ایف پی، ڈی پی اے)