جرمنی میں خسرہ کے مریضوں میں کمی، والدین کی پریشانی برقرار | معاشرہ | DW | 14.05.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

معاشرہ

جرمنی میں خسرہ کے مریضوں میں کمی، والدین کی پریشانی برقرار

جرمنی میں بچوں میں خسرہ کے مرض میں کمی آئی ہے۔ روبرٹ کوخ انسٹیٹیوٹ کے مطابق، مئی سن 2019 میں خسرہ کے مریضوں کی تعداد 392 ریکارڈ کی گئی ہے، جس میں ایک سال سے کم عمر کے 25 بچے شامل تھے۔

جیسیکا اپنی نو ماہ کی بیٹی کے ہمراہ ایک ہسپتال کے  جرنل وارڈ میں بیٹھی اپنی باری کا انتظار کر رہی تھی۔ اچانک اسے دوسرے کمرے میں منتقل کردیا گیا۔ وجہ اس کی بچی کا خسرہ میں مبتلا ہونا تھا۔ جیسیکا کے مطابق،’’ہمیں اس وقت تک کمرے سے باہر نہیں نکلنے دیا گیا، جب تک کمرے کو ہوا اور روشنی کے لیے مکمل طور پر کھول نہیں دیا گیا۔‘‘جیسیکا کی چند ماہ کی بیٹی کچھ عرصہ قبل خسرہ کے مرض میں مبتلا  تھی جو اب خطرے سے باہر ہے۔ جیسیکا کی بیٹی صحت مند تو ہو چکی ہے مگر اس بیماری نے جیسیکا کے ذہن پر بہت منفی اثرات چھوڑے ہیں۔

جیسیکا کی بیٹی اب  اٹھارہ ماہ کی ہوچکی ہے۔ کافی عرصے تک اس کی ویکسینیشن ہوتی رہی ہے۔ اس کی کنڈر گارٹن جانے کے عمر بھی ہو گئی ہے۔ مگر جیسیکا چونکہ ماضی کے تجربے سے ڈری ہوئی ہے اور اس کے ہاں ایک اور بچے کی پیدائش ہونے والی ہے تو وہ چاہتی ہے کہ نئے آنے والے مہمان کو بھی وقت پر  ویکسینیشن لگوا دی جائے۔ اب وہ کوئی خطرہ مول نہیں لینا چاہتی۔ ویسے تو بچے کہیں سے بھی جراثیم کا شکار ہو جاتے ہیں۔ مگر کنڈر گارٹن میں بچے بہت جلدی بیمار ہو جاتے ہیں۔

بہت سے والدین جیسیکا کی طرح سوچتے ہیں۔ صحت سے متعلق جرمن قوانین کے مطابق گیارہویں سے چودہویں ماہ میں خسرہ سے بچاؤ کے ٹیکے لگائے جاتے ہیں۔ بہت سے والدین اپنے بچوں کی وجہ سے احباب سے میل ملاپ بہت کم کر دیتے ہیں۔ خصوصاﹰ ایسے دوستوں سے ملنے سے گریز کرتے ہیں، جن کے بچے ہوں۔ ساتھ ہی ساتھ کنڈر گارٹن بھیجنے میں دلچسپی بھی نہیں لیتے جس کی وجہ سے ان کے دوست احباب پریشان رہتے ہیں۔

کیا والدین خسرہ کے باعث پریشانی اور  مبالغہ آرائی کا شکار ہیں؟

 برلن سے تعلق رکھنے والے بچوں کے خصوصی ڈاکٹر مارٹن کا کہنا ہے،’’جرمنی میں خسرہ سے متاثرہ بچوں کا اگر دیگر ممالک سے موازنہ کیا جائے تو جرمنی کا تناسب بتدریج کم ہوتا دکھائی دے رہا ہے جو کہ خوش آئند ہے، اس کے باوجود ڈاکٹرز  والدین کی بڑھتی ہوئی پریشانی سمجھ سکتے ہیں۔

خسرہ متعدی ہونے کے باعث کیسے پھیلتا ہے؟

خسرہ بچوں میں پھیلنے والی عام بیماری ہے۔ یہ ایک سے دوسرے بچے میں تیزی سے پھیلنے والا مرض ہے۔ خسرہ کی علامات بخار سے شروع ہوتی ہیں، پھر کانوں کے پیچھے اور گردن کے اوپر سرخ دانے نکل آتے ہیں جو جسم کے دوسرے حصوں تک پھیل جاتے ہیں۔ جسم  میں شدید خارش ہوتی ہے اور مریض کی قوت مدافعت کم ہوجاتی ہے۔ عام طور پر پانچ دن بعد سرخ دانے کم ہونا شروع ہو جاتے ہیں لیکن وہ بچے جنہیں خسرہ سے بچاؤ کے حفاظتی ٹیکے نہ لگوائے گئے ہوں ان کو خسرہ ہونے کی صورت میں موت بھی واقع ہو سکتی ہے۔ خسرے سے بچاؤ کا پہلا ٹیکہ ایک سال کی عمر میں اور دوسر ا ٹیکہ اسکول جانے سے پہلے لگوایا جاتا ہے۔ خسرے کے جراثیم سانس کے ذریعے ہوا کو آلودہ کرتے ہیں اور مریض کے قریب رہنے والے لوگوں میں تیزی سے پھیلتے ہیں۔

خسرہ سے بچاؤ کے حفاظتی ٹیکے حفاظت کے ضامن

خسرہ سے بچاؤ کے حفاظتی ٹیکے بچوں میں قوت مدافعت پیدا کرتے ہیں، جس کے بعد وہ ارد گرد موجود بیماریوں سے لڑ نے کی طاقت رکھتے ہیں۔ والدین پر بھی یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے بچوں کی بروقت ویکسینیشن کروائیں اور متاثرہ بچوں سے دور رکھیں۔ عالمی ادارہ صحت  نے سن 2020 تک دنیا کو خسرے سے پاک کرنے کا ہدف طے کر رکھا ہے۔

رافعہ اعوان (Sophia Wagner)

DW.COM