جرمنی میں حصول تعلیم کے لیے سکالرشپس کیسے ملتی ہیں؟ | معاشرہ | DW | 23.07.2020
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

معاشرہ

جرمنی میں حصول تعلیم کے لیے سکالرشپس کیسے ملتی ہیں؟

پاکستانی طلبہ اور محققین کو جرمنی میں تعلیم و تحقیق کے لیے معاونت فراہم کرنے والے تعلیمی تبادلے کے ممتاز جرمن ادارے DAAD (ڈی اے اے ڈی) نے نئے سال کے لیے پاکستانی طلبہ کو سکالرشپس دینے کے عمل کا آغاز کر دیا ہے۔

ڈی ڈبلیو اردو سے خصوصی انٹرویو میں پاکستان میں قائم DAAD انفارمیشن سینٹر کی ڈائریکٹر انگے اقبال نے بتایا کہ پاکستانی طلبہ و طالبات کی طرف سے DAAD سکالرشپس کی مانگ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور یہ اس بات کا اظہار ہے کہ جرمنی اپنے معیار تعلیم اور عملی تربیت کی وجہ سے پاکستانی طلبہ کے لیے حصول تعلیم کا پسندیدہ مقام بنتا جا رہا ہے۔

انگے اقبال کے مطابق تعلیم کے فروغ کے لیے سرگرم یہ جرمن ادارہ نہ صرف پاکستانی طلبہ کو جرمنی کی بہترین درسگاہوں میں تعلیم حاصل کرنے کے مواقع فراہم کرتا ہے بلکہ پاکستانی محققین کو بھی جرمنی کی جامعات میں آ کر تحقیق کرنے کے لیے معاونت فراہم کرتا ہے،''ہم چاہتے ہیں کہ پاکستان اور جرمنی کے طالب علم اور محققین ایک دوسرے کے تعلیمی اداروں میں آ کر تعلیم وتحقیق کے عمل کو آگے بڑھائیں اور اس طرح تعلیمی میدان میں باہمی تعاون میں اضافہ ہو۔ اس حوالے سے ہم دونوں ممالک کی جامعات میں تحقیقی تعاون کو فروغ دینے کے لیے بھی کام کر رہے ہیں۔ ‘‘

Pakistan DAAD

ہماری تحقیقی گرانٹس تمام مضامین کے لیے ہیں، انگے اقبال

ایک سوال کے جواب میں انگے اقبال کا کہنا تھا کہ پاکستان میں DAAD پچھلے کئی برسوں سے کام کر رہا ہے لیکن 2010ء میں اسلام آباد میں اس ادارے کے انفارمیشن سینٹر کے قیام کے بعد سے لے کر اب تک گیارہ سو سے زائد پاکستانی طلبہ و محققین DAAD سکالر شپس کے ذریعے جرمنی جا چکے ہیں۔ ان کے مطابق DAAD بیچلر یا انڈر گریجویٹ سٹڈیز کے لیے سکالرشپس نہیں دیتا بلکہ ماسٹر پروگرام، پی ایچ ڈی اور پوسٹ ڈاکٹریٹ سٹڈیز کے لیے مالی معاونت اور رہنمائی فراہم کرتا ہے۔

پچھلے سال چھ سو سے زائد پاکستانی طلبہ اور محققین نے جرمنی میں تعلیم و تحقیق کے لیےDAAD سکالرشپس حاصل کیے تھے۔ جبکہ اسی سال DAAD ایکسچینج پروگرام کے تحت جرمنی کے پچاس طلبہ اور محققین پاکستانی جامعات میں آئے تھے۔

انگے اقبال کے مطابق DAAD سے ریسرچ گرانٹ یا وظیفہ حاصل کرنے والے طلبہ اعلی تعلیم کے حصول کے لیے اپنی مرضی سے جرمنی کی کسی بھی مستند جامعہ کا انتخاب کر سکتے ہیں۔ جرمنی میں اس وقت چار سو سے زائد ایسی (سرکاری و نجی) جامعات موجود ہیں، جن میں روایتی تحقیق کی سہولت کے ساتھ ساتھ اپلائیڈ سائنسز، فنی تعلیم، سوشل سائنسز، آرٹ،  فلم اور میوزک سمیت مختلف علوم میں اعلی تعلیم کی سہولت میسر ہے،'' ایسے طلبہ جو پبلک پالیسی یا گڈ گوورننس جیسے مضامین میں تعلیم حاصل کرنا چاہتے ہوں انہیں ایسی جامعات کا انتخاب کرنا ہوتا ہے، جہاں پر یہ مضامین پڑھائے جا رہے ہوں۔‘‘

ان کے بقول،’’ہم EPOS کے نام سے ڈیویلپمنٹ سے متعلقہ مضامین میں پوسٹ گریجویٹ کورسز کے سکالر شپس کے لیے عمدہ تعلیمی کارکردگی کے حامل چالیس طلبہ کا بھی انتخاب کرتے ہیں۔ ان مضامین میں اکنامکس، بزنس ایڈمنسٹریشن، انجینئرنگ، سوشل سائنسز، ایجوکیشن، قانون، پبلک ہیلتھ اور زراعت و جنگلات کے علاوہ ریجنل اینڈ اربن پلاننگ بھی شامل ہیں۔ اس پروگرام کے تحت داخلے کے خواہش مند افراد کے پاس ان کی متعلقہ فیلڈ میں دو سال کا تجربہ بھی درکار ہوتا ہے۔ ‘‘

ایک سوال کے جواب میں انگے اقبال کا کہنا تھا،''پی ایچ ڈی اور پوسٹ ڈوک کے لیے ہماری تحقیقی گرانٹس تمام مضامین کے لیے ہیں۔ اس کے علاوہ DAAD وزیٹنگ فیکلٹی پروگرام بھی آفر کرتا ہے جس کا مطلب ہے کہ پاکستان اور جرمنی کے اساتذہ کچھ عرصے کے لیے ایک دوسرے کے ملکوں میں جا کر تدریسی و تحقیقی فرائض سرانجام دے سکتے ہیں۔‘‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ جرمنی دنیا کے ان چند ممالک میں شامل ہے، جہاں طلبہ (بشمول غیر ملکی طلبہ) سے بیشتر سرکاری جامعات میں ٹیوشن فیس نہیں لی جاتی البتہ یہاں کئی ایسی نجی یونیورسٹیاں بھی ہیں، جن کا فیس کا اپنا ایک نظام ہے۔ DAAD سکالرشپس کے لیے طلبہ اور طالبات دونوں درخواست دے سکتے ہیں۔

اس سوال کے جواب میں کہ DAAD کے سکالرشپس کے حوالے سے تازہ ترین معلومات کہاں سے مل سکتی ہیں؟ ان کا کہنا تھا،''سکالر شپس کے حوالے سے تمام معلومات ہماری ویب سائٹ، فیس بک پیج یا پھر ہمارے اسلام آباد کے دفتر کے فون نمبر051-2656382 سے حاصل کی جا سکتی ہیں۔ اس کے علاوہ معلومات کے حصول کے لیے آپ ہماری ویب سائٹ ic.daad.de/islamabad/enکو وزٹ کر سکتے ہیں یا پھر info@daad.org.pk پر ای میل بھی کر سکتے ہیں۔ ‘‘

انگے اقبال کے بقول''ہمیں پاکستان کے تمام صوبوں سے سکالرشپس کے لیے درخواستیں موصول ہوتی ہیں، ہم پاکستانی طلبہ کی آگاہی کے لیے مختلف تعلیمی اداروں میں تقریبات کا بھی انعقاد کرتے ہیں۔ ابھی حال ہی میں ہم نے اس ضمن میں آن لائن سیشنز اور ویبی نار کا اہتمام کیا تھا۔ ہماری خواہش ہے کہ ہم زیادہ سے زیادہ طلبہ تک یہ آگاہی پہنچائیں کہ ان کے لیے جرمنی میں حصول تعلیم کے کیا کیا مواقع موجود ہیں اور پاکستانی طلبہ ان سے کیسے مستفید ہو سکتے ہیں۔‘‘

ایک اور سوال کے جواب میں DAAD انفارمیشن سینٹر کی ڈائریکٹر کا کہنا تھا کہ سکالرشپس کے لیے طلبہ کے انتخاب کا مرحلہ کئی ماہ پر محیط ہوتا ہے،''بعض مضامین کے سکالرشپس کے لیے طلبہ اور محققین کوانٹرویو کے لیے بھی بلایا جاتا ہے، بنیادی طور پر ہمیں اس بات کا اندازہ لگانا مقصود ہوتا ہے کہ سکالر شپ کے حصول کے لیے آنے والے طالب علم کی اپنے شعبے میں کارکردگی کیسی ہے، اس کی اس کے مطلوبہ مضمون میں دلچسپی اور لگن کا کیا عالم ہے اور وہ اپنے کیرئر کر اہداف میں کتنا کلیئر ہے۔ سکالرشپ ملنے کے بعد سب سے اہم مرحلہ مقررہ ڈیڈ لائن تک تمام کاغذات کا اکٹھا کرنا ہوتا ہے، ہمارے سکالر شپ ڈیٹا بیس میں تمام مضامین کے لیے درخواست دینے کے طریقہ کار کی تمام تفصیلات موجود ہوتی ہیں۔ ‘‘

انگے اقبال نے بتایا کہ DAAD سکالرشپس پر جرمنی میں تعلیم حاصل کرنے والے بہت سے افراد اب کئی پاکستانی یونیورسٹیوں میں پڑھا بھی رہے ہیں۔ ان کے بقول یہ افراد جرمن اداروں اور جامعات کے ساتھ تحقیقی تعاون کے فروغ میں بھی اپنا کردار ادا کر رہے ہیں،'' ہم گلوبلDAAD ایلومینائی کے ذریعے ایسی تقریبات کے انعقاد میں بھی مدد فراہم کرتے ہیں، جن کے ذریعے ایلومینائی کے ارکان میں پروفیشنل ڈائیلاگ کو فروغ دیا جا سکے۔‘‘

ایک سوال کے جواب میں انگے اقبال نے بتایا،''ہمیں کورونا بحران کے نتیجے میں طلبہ اور محققین کو پیش آنے والی ممکنہ مشکلات کا اندازہ ہے اور اس سال ہم اس صورتحال کو مد نظر رکھ کر کام کر رہے ہیں۔ اس سلسلے میں طلبہ کو تازہ ترین معلومات کی فراہمی کے لیے ہم اپنی ویب سائٹ کو بھی باقاعدگی کے ساتھ اپ ڈیٹ کر رہے ہیں۔‘‘

یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ انیس سو پچیس میں قائم کیے جانے والے دنیا کے اپنی نوعیت کے سب سے بڑے ادارے DAAD سے اب تک پندرہ لاکھ طلبہ اور محققین سکالر شپس حاصل کر چکے ہیں۔

 

رپورٹ: تنویر شہزاد، لاہور

 

DW.COM

ملتے جلتے مندرجات