جرمنی میں بھارتی شہری بھی شہریت کے ’فسطائی‘ قانون پر ناراض | حالات حاضرہ | DW | 25.01.2020
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

جرمنی میں بھارتی شہری بھی شہریت کے ’فسطائی‘ قانون پر ناراض

بھارت کے متنازعہ شہریت ترميمی قانون اور این آر سی کے خلاف احتجاجی مظاہروں کی لہر یورپ تک پہنچ چکی ہے۔ اب مودی سرکار جرمنی میں مقیم بھارتی شہریوں کی ناراضگی دور کرنے کے علاوہ ان کا اعتماد بحال کر سکے گی۔

جرمن شہر میونخ میں پیدا ہونے والی صبورا منپریت نقشبند خود کو بھارت میں محفوظ سمجھتی تھیں، ان کو کبھی یہ احساس نہیں ہوا کہ ان کی پیدائش بھارت میں نہیں ہوئی۔ لیکن بھارتی حکومت کے متنازعہ شہریت ترمیمی قانون کے بعد وہ اپنے اہل خانہ  کے لیے پریشان ہیں۔ نقشبند کے بقول، ''میری ماں جنوبی بھارت کی ایک مسلمان خاتون ہیں جن کی شادی شمالی بھارت کے ایک سکھ شخص سے ہوئی۔ ستر کی دہائی میں انہوں نے معاشی تنگی کی وجہ سے جرمنی ہجرت کی۔ لیکن میری دادی ابھی بھی بھارتی ریاست پانڈی چیری میں رہتی ہیں۔‘‘

بھارتی حکومت نے شہریت سے متعلق جو نیا قانون منظور کیا ہے اس میں پڑوسی ممالک، پاکستان، افغانستان اور بنگلہ دیش سے آنے والے ایسے تمام تارکین وطن کو شہریت دینے کی بات کی گئی ہے جو وہاں اقلیت میں ہیں لیکن مسلمان اس میں شامل نہیں ہیں۔  اس کے خلاف بھارت کے مختلف شہروں میں تو احتجاجی مظاہرے جاری تھے، جرمن دارالحکومت برلن میں بھارتی شہریوں نے بھی ایک احتجاجی ریلی نکالی۔ اس احتجاجی مظاہرے میں شریک نقشبند نے بتایا کہ بھارت کے کثیرالثقافتی تشخص کو فسطائیت نقصان پہنچا رہی ہے۔

بھارتی نژاد جرمن شہریوں کا احتجاج

فرینکفرٹ میں تارکین وطن کونسل کی صدر ہرپریت چولیا بھی اس متنازعہ قانون کی مخالفت کرنے والوں کی بڑھتی تعداد میں شامل ہیں۔ چولیا کے بقول، ''بھارت میں یہ حالیہ پیش رفت نہ صرف مسلمانوں کے ساتھ امتیازی سلوک کے مترادف ہے  بلکہ  شہریت ترمیمی قانون 'سی اے اے‘ سے معاشرے میں تفریق کو تقویت ملے گی۔‘‘ یہ امر اہم ہے کہ بھارتی حکومت اس قانون کو مسلم ممالک میں اقلیتوں کے تحفظ کا اقدام قرار دے رہی ہے۔ تاہم ہرپریت سمجھتی ہیں کہ  مذہبی بنیادوں پر شہریت نہیں دی جا سکتی۔

علاوہ ازیں برلن میں پیدا ہونے والی ایک بھارتی طالبہ کیرتی کہتی ہیں کہ نیشنل رجسٹر آف سٹیزنز (این آر سی) کے اثرات مذہبی امتیاز سے بڑھ کر ہو سکتے ہیں۔ ان کے بقول، ''اس کا تعلق ذات اور صنف سے بھی ہے۔ کیونکہ بھارت کے زیادہ تر دیہی علاقوں میں لوگوں کے پاس اپنی شہریت کے دستاویزات موجود نہیں ہوتے، خاص طور پر خواتین اور ٹرانس جینڈر افراد کے پاس۔‘‘ واضح رہے 'این آر سی‘  میں غیر قانونی طور پر مقیم افراد کی شناخت کی بات کی گئی ہے۔ اس میں غیر قانونی طور پر مقیم افراد کی شناخت کر کے انہیں ملک بدر کیا جائے گا۔ آسام میں این آر سی نافذ ہوچکا ہے۔

بھارت میں  ہندو قوم پسند حکومتی جماعت بی جے پی کے ان حالیہ اقدامات کے خلاف جرمنی کے بڑے شہر برلن، ہیمبرگ، فرینکفرٹ اور میونخ میں احتجاجی مظاہرے کیے گئے۔ بھارت کے یوم جمہوریہ یعنی چھبیس جنوری کو بھی برلن سمیت دیگر شہروں میں مظاہرے متوقع ہیں جبکہ یکم فروری کو جینیوا میں اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹرز کے سامنے بھی احتجاجی مظاہرے کیا جائے گا۔

گوری شرما (ع آ / ع ق)

ویڈیو دیکھیے 03:46

شہریت ترمیمی قانون اور نیشنل رجسٹریشن بل کے خلاف احتجاجی مظاہروں کا سلسہ جاری

DW.COM