جرمنی میں بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کا نیا کیس | معاشرہ | DW | 08.08.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

معاشرہ

جرمنی میں بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کا نیا کیس

لڑکوں کے اسکاؤٹ سپر وائزر نے مبینہ طور پر چار بچوں کو آٹھ برس تک جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا۔ یہ واقعات جنوبی جرمن شہر شٹاؤفن میں رونما ہوئے۔

جنوبی جرمن شہر شٹاؤفن میں ایک بوائے اسکاؤٹ سپر وائزر نے مبینہ طور پر چار بچوں کو آٹھ برس تک جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا۔ استغاثہ نے بتایا ہے کہ اس ملزم نے ان سالوں کے دوران ایک ہی بچے کے ساتھ پانچ سو سے زائد مرتبہ جنسی زیادتی کی۔

جرمن شہر فرائی برگ کے استغاثہ نے بدھ کے دن میڈیا کو بتایا کہ اکتالیس سالہ ملزم کو گرفتار کیا جا چکا ہے اور اس پر بچوں کے خلاف 696 جنسی حملوں کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

جرمن میڈیا نے عدالتی ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ ملزم نے سن 2010 تا سن 2018 کے دوران جن لڑکوں کو جنسی ہوس کا نشانہ بنایا، ان کی عمریں سات تا چودہ برس کے درمیان تھیں۔

اس ملزم پر ریپ اور جنسی تشدد کے الزامات بھی عائد کیے گئے ہیں۔ اس ملزم کو فروری میں اس وقت گرفتار کیا گیا تھا، جب ایک ماں نے پولیس کو بتایا کہ اس شخص نے اس کے سترہ سالہ بیٹے کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا تھا۔ پولیس کے مطابق فرائی برگ کی پولیس اس مبینہ شخص کے خلاف چھان بین کر رہی ہے۔

جرمن پولیس کے مطابق کم عمر بچوں پر جنسی حملوں کے الزامات عائد کیے جانے کے بعد سن 2004 تا سن 2007 میں بھی اسی ملزم کے خلاف قانونی کارروائی کی گئی تھی لیکن تب شواہد کی عدم موجودگی کے باعث چھان بین کا عمل منسوخ کر دیا گیا تھا۔

جرمن پولیس نے سن 2017 میں جرمن شہر شٹاؤفن میں ایک ایسے مجرمانہ گروپ کو بے نقاب کیا تھا، جو بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے واقعات میں ملوث تھا۔ تاہم پولیس کے مطابق یہ ملزم اس گروہ کا حصہ نہیں ہے۔

شٹاؤفن میں گزشتہ برس اس گروہ میں شامل ایک ماں اور اس کے پارٹنر کو سزا سنائی گئی تھی۔ ان پر الزام تھا کہ انہوں نے پیسوں کی خاطر اپنے بیٹے کو سیکس کے لیے مختلف لوگوں کے سامنے پیش کیا تھا۔ اس کام کے لیے انہوں نے ڈارک نیٹ کا استعمال کیا تھا۔

ویڈیو دیکھیے 01:16

جرمنی میں ہزاروں بچے پادریوں کی ہوس کا شکار 

DW.COM