جرمنی میں ’اپ اسکرٹنگ‘ اب قابل سزا جرم، نیا قانون منظور | معاشرہ | DW | 03.07.2020
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

معاشرہ

جرمنی میں ’اپ اسکرٹنگ‘ اب قابل سزا جرم، نیا قانون منظور

جرمنی میں ’اپ اسکرٹنگ‘ کو ایک قابل سزا جرم قرار دے دیا گیا ہے۔ اب تک ایسے واقعات میں صرف متاثرین کو ہی تحفظ حاصل تھا۔ اس بارے میں ایک نئے قانون کی وفاقی جرمن پارلیمان نے جمعہ تین جولائی کو اکثریتی رائے سے منظوری دے دی۔

اس قانون سازی کی ضرورت اس لیے پیش آئی کہ کسی بھی معاشرے میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے بڑھتے ہوئے رجحان کے باعث ایسے حالات و واقعات دیکھنے میں آتے ہیں اور ایسے انسانی رویے بھی جنم لیتے ہیں، جو سب کے سب ہمیشہ ہی مروجہ سماجی اخلاقیات یا بنیادی انسانی حقوق کے تقاضوں سے ہم آہنگ نہیں ہوتے۔

'اپ اسکرٹنگ‘ ہے کیا؟

'اپ اسکرٹنگ‘ کی اصطلاح کا تعلق بنیادی طور پر اسکرٹ سے ہے، جو زیادہ تر مغربی دنیا میں خواتین کی طرف سے پہنا جانے والا لباس ہے۔ 'اپ اسکرٹنگ‘ سے مراد کسی انسان کے جسم کے ان حصوں کی اس کی رضامندی کے بغیر تصاویر یا ویڈیو بنانا ہے، جو سماجی طور پر دکھائے نہیں جاتے یا ملبوس ہوتے ہیں۔

اس طرح ایسا کوئی بھی عمل جرمنی میں اب قانوناﹰ ممنوع ہو گیا ہے۔ اس کے لیے راہ وفاقی جرمن پارلیمان کے ایوان زیریں یا بنڈس ٹاگ نے اس حوالے سے ایک مسودہ قانون کی منظوری کے ساتھ ہموار کی۔ اس قانونی بل کے ساتھ اس بات کو بھی غیر قانونی قرار دے دیا گیا ہے کہ حادثات میں ہلاک ہونے والوں کی تصاویر یا ویڈیوز بنائی جائیں۔

Upskirting-Gesetz - Großbritannien verbietet Fotografieren unter Röcke

برطانیہ بھی اپنے ہاں ’اپ اسکرٹنگ‘ کے خلاف ملکی سطح پر قانون سازی کر چکا ہے

اب تک قانونی صورت حال کیا تھی؟

قانونی طور پر 'اپ اسکرٹنگ‘ سے مراد بالعموم کسی بھی انسان اور بالخصوص کسی بھی خاتون کی ٹانگوں کے درمیانی حصے کی مجرمانہ ذہنیت سے اور خفیہ طور پر ایسی فوٹوز یا فوٹیج بنانا ہے، جن کا متاثرہ انسان کو علم نہ ہو۔

اس قابل اعتراض اور غلط سماجی رویے کے خلاف نئی قانون سازی کی ضرورت اس لیے بھی پیش آئی کہ اب تک جرمنی میں اس طرح کے جرائم کی روک تھام کے لیے مروجہ ضابطے ہر قسم کی ممکنہ صورت حال کا احاطہ نہیں کرتے تھے۔ اس لیے مجرموں کو سزا دلوانا ایک ایسا عمل ثابت ہوتا تھا، جس دوران کوئی مخصوص قانون نہ ہونے کا فائدہ مجرموں کو پہنچ سکتا تھا۔

جرمن مقننہ نے اس صورت حال کا جو حل نکالا ہے، اس کے ساتھ  اب ایسا کوئی بھی مجرم سزا سے نہیں بچ سکے گا۔ جرمنی ان ممالک میں شامل ہے، جہاں ٹیکنالوجی کے جدید سے جدید تر ہوتے اور کیمروں کے چھوٹے سے چھوٹے ہوتے جانے کے باعث 'اپ اسکرٹنگ‘ کے رجحان میں اضافہ ہو چکا ہے۔

کئی واقعات میں تو یہ بھی دیکھنے میں آیا کہ ایسے جرائم کے مرتکب افراد نے خفیہ طور پر اپنے اثر و رسوخ والی عمارات میں عام سیڑھیوں یا escalators کہلانے والی الیکٹرک سیڑھیوں تک میں بہت ہی چھوٹے چھوٹے کیمرے نصب کر رکھے تھے۔ پھر متاثرہ انسانوں کی مرضی کے بغیر بنائی گئی ایسی تصاویر اور ویڈیوز یا تو آن لائن چیٹ رومز میں شیئر کی جاتی یا انٹرنیٹ پر فروخت کر دی جاتی تھیں۔

'اپ اسکرٹنگ‘ کی سزا کیا ہو گی؟

جرمن پارلیمان کی طرف سے منظور کیے گئے نئے قانون میں 'اپ اسکرٹنگ‘ کے جرم کی سزا بہت بھاری جرمانہ یا جرمانے کے ساتھ ساتھ دو سال تک کی سزائے قید بھی ہو سکتی ہے۔ اسی نوعیت اور شدت کی سزائیں ایسے افراد کو بھی سنائی جا سکیں گی، جو حادثات میں ہلاک ہونے والے انسانوں کی تصاویر یا ویڈیوز بنائیں گے۔

اس قانون سازی کے حوالے سے اہم ترین بات یہ ہے کہ اب تک مروجہ قوانین کے تحت صرف 'اپ اسکرٹنگ‘ سے متاثرہ انسانوں کے حقوق کا تحفظ ہی ممکن تھا۔ اب تاہم متاثرین کے شخصی اور شہری حقوق کے تحفظ کے ساتھ ساتھ روک تھام کے نقطہ نظر سے ایسے جرائم کے مرتکب افراد کو قانوناﹰ جواب دہ بھی بنایا جا سکے گا اور انہیں اپنے کیے کے نتائج بھی بھگتنا پڑیں گے۔

DW.COM