جرمنی میں اردو اور پنجابی کا مشاعرہ | فن و ثقافت | DW | 24.10.2013
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

فن و ثقافت

جرمنی میں اردو اور پنجابی کا مشاعرہ

گزشتہ دنوں جرمن شہر فرینکفرٹ میں پنجابی ادبی سنگت اور اردو جرمن کلچرل سوسائٹی کے زیرانتظام ایک مشاعرہ ہوا۔ اس مشاعرے میں پاکستان کے علاوہ کویت، متحدہ عرب امارات، انگلستان اور جرمنی سے اردو کے معروف شعراء نے شرکت کی۔

جرمنی میں اردو بولنے والی آبادی کی تعداد زیادہ نہیں، مگر اردو سے محبت کرنے والے وقتاﹰ فوقتاﹰ مشاعروں اور ادبی نشستوں کا اہتمام کرتے رہتے ہیں۔ ان مشاعروں کا ایک مقصد تو اچھے اشعار سننے کے مواقع پیدا کرنا اور اپنے ذوقِ ادب کی تسکین ہوتا ہے مگر ایک اور مقصد مشرقی روایات و اطوار سے کم روشناس نئی نسل تک اپنے زبان و ادب کی شائستگی اور شگفتگی سے منتقلی بھی ہے۔ اس مشاعرے کی ایک اور خاص بات اردو اور پنجابی کے شعراء کی بیک وقت شرکت تھی۔

یہاں جرمنی میں قائم متعدد ادبی تنظیمیں تمام تر رنگ و نسل اور عقائد و مسالک سے ماورا ان پروگراموں کے ذریعے اردو زبان سے محبت کرنے والوں کو مل بیٹھنے کے اسباب مہیا کرتی ہیں۔ یہ کہنا تھا، فرینکفرٹ میں منعقد ہونے والے اس مشاعرے کے انتظام و انصرام میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے والے تعلیم الاسلام کالج اولڈ بوائز ایسوسی ایشن سے وابستہ پروفیسر حمید کا۔

Muschaera in Frankfurt

مشاعرے میں جرمنی کے علاوہ پاکستان اور دیگر ممالک سے شعراء شریک ہوئے

پنجابی ادبی سنگت کے روح رواں اور جرمنی میں پنجابی زبان و ادب کے فروغ میں بھرپور حصہ لینے والے طفیل خلش نے کہا کہ یہ وقت ہے کہ نوجوانوں اور اچھے قلم کاروں کی حوصلہ افزائی کی جائے اور انہیں مواقع فراہم کیے جائیں کہ وہ ان روایات کو مؤثر انداز سے آگے بڑھائیں۔

اس مشاعرے کی نظامت، جرمنی میں ادبی پروگراموں کے انعقاد میں سرگراں اردو جرمن کلچرل سوسائٹی کے سربراہ عرفان احمد خان نے کی جب کہ کرسیء صدارت ڈاکٹر عبدالغفور قریشی کو سونپی گئی۔ اس مشاعرے میں شریک واحد خاتون شاعرہ فوزیہ اعوان کا تعلق پاکستانی شہر لاہور سے تھا۔

جرمنی میں متعدد ادبی جریدے شائع کرنے والے معروف شاعر شفیق مراد کا شعر بھی ملاحظہ ہو۔

قسمت میں بے وفائی تھی سو جھیلتا رہا

چاہت میں بھی وبال سے باہر نہیں گیا

جرمنی ہی سے تعلق رکھنے والے راجہ یوسف کا کلام دیکھیے۔

دین و دنیا میں ٹھنی رہتی ہے

مستقل جاں پہ بنی رہتی ہے

جرمنی میں مشاعروں کی رونق کہلانے والے سید اقبال حیدر کے اس شعر کو سامعین نے خوب سراہا۔

Muschaera in Frankfurt

حاضرین نے شعراء کو روایتی انداز میں واہ واہ سے داد و تحسین سے نوازا

کون سی شے ہے جو لوگوں کو نہیں ہے حاصل

بس یہاں صاحب کردار نہیں ہے کوئی

برطانیہ میں بسنے والے سجاد حیدر کہتے ہیں۔

یہ راز مجھ کو بتایا گیا مصلے پر

چراغ ہاتھ ہیں حرف دعا اجالا ہے

سینیئر پنجابی شاعر طفیل خلش نے بھی اپنے کلام سے حاضرین سے داد حاصل کی۔

کدی زمین تہ کدی خلاوں کدی سمندر چھانے

پہنبل پہوسے کھاندا پھرنا راہ تو اکُیا ہویا

کویت میں مقیم معروف شاعر محمد علی وفا نے ترنم میں اپنا کلام پیش کیا۔

یادوں کو سمیٹے ہوئے سب اڑ گئے پنچھی

دیوار پر ٹوٹا ہوا اِک پر بھی نہیں تھا

اس کے علاوہ مشاعرے میں جرمنی سے تعلق رکھنے والے وہ نوآموز شعراء بھی شریک تھے، جنہوں نے شعر و ادب کے میدان میں ابھی نام تو نہیں کمایا مگر ان کی شاعری امکانات سے پُر ہے۔

Audios and videos on the topic

اشتہار