’جرمنی مہاجرین کے خوابوں کی منزل ہے لیکن ہماری بھی حدود ہیں‘ | مہاجرین کا بحران | DW | 23.12.2017
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

’جرمنی مہاجرین کے خوابوں کی منزل ہے لیکن ہماری بھی حدود ہیں‘

جرمنی کے نائب چانسلر زیگمار گابریئل کا کہنا ہے کہ ملک میں مہاجرین کے انضمام کے لیے زیادہ وسائل صرف کرنے سے ان کے خلاف نفرت میں ممکنہ طور پر اضافہ ہو سکتا ہے۔

جرمنی میں نئی وفاقی مخلوط حکومت کے قیام کے لیے سوشل ڈیموکریٹک پارٹی اور چانسلر میرکل کی جماعت سی ڈی یو کے مابین ابتدائی مذاکرات اگلے ماہ شروع ہو رہے ہیں۔

کیا رضاکارانہ وطن واپسی پر ہر مہاجر کو 3000 یورو ملیں گے؟

’مہاجرین چلا چلا کر کہتے رہے کہ آکسیجن ختم ہو رہی ہے‘

ان مذاکرات میں مہاجرین کے موضوع کو بھی مرکزی حیثیت حاصل ہو گی۔ ایس پی ڈی سے تعلق رکھنے والے سیاست دان اور جرمنی کے نائب چانسلر زیگمار گابریئل کا کہنا ہے کہ ملک بھر کی مقامی حکومتوں اور بلدیاتی اداروں کو خود یہ فیصلہ کرنا چاہیے کہ وہ اپنی حدود میں کتنے تارکین وطن کو پناہ دینا چاہتے ہیں، جب کہ وفاقی جرمن حکومت کو انہیں خرچہ فراہم کرنا چاہیے۔ گابریئل کا یہ بھی کہنا تھا کہ مستقبل کی مخلوط حکومت مقامی حکومتوں کو مزید مالی معاونت فراہم کرے تاکہ عوام میں مہاجرین مخالف جذبات میں کمی واقع ہو سکے۔

ایک مقامی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے گابریئل کا کہنا تھا، ’’مقامی حکومتوں کو یہ فیصلہ کرنے میں دشواری پیش نہیں آنی چاہیے کہ وہ مہاجرین کے سماجی انضمام کے لیے خرچہ کریں یا مقامی سوئمنگ پول کی تعمیر نو۔ وفاقی حکومت انہیں موقع فراہم کرے کہ وہ دنوں کام کر سکیں۔‘‘

جرمن انتخابات میں مہاجرین مخالف جماعت اے ایف ڈی کی وفاقی پارلیمان تک رسائی کے بعد مخلوط حکومت کے قیام کے لیے ملک میں بڑی تعداد میں آنے والے مہاجرین اور ان کے سماجی انضمام کا معاملہ کلیدی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔

سوشل ڈیموکریٹک پارٹی کے اس اہم سیاست دان کے مطابق، ’’ہمیں ملکی شہریوں میں پائے جانے والے اس تاثر کو ختم کرنا ہو گا کہ مہاجرین کے لیے تو سب کچھ کیا جا رہا ہے لیکن عام شہریوں کے لیے کچھ نہیں کیا جا رہا۔‘‘

جرمنی اب وہ ہے، جو کبھی امریکا تھا

وفاقی جرمن نائب چانسلر، جو وفاقی وزیر خارجہ بھی ہیں، کا کہنا تھا کہ مہاجرین اور تارکین وطن کی نظر میں جرمنی کو وہی حیثیت حاصل ہے جو انیسویں صدی میں امریکا کو حاصل تھی یعنی ’خواہشات کی منزل‘ لیکن ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ جرمنی ’ہر کسی کی خواہشات پوری نہیں کر سکتا‘۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ مہاجرین کے حالیہ بحران کے دوران جرمنی آنے والے لاکھوں تارکین وطن کا سماجی انضمام یقینی بنانے کے لیے ملک میں مزید پچیس ہزار اساتذہ، پندرہ ہزار اسکولوں اور ہزاروں نئے مکانات کی ضرورت ہے۔

2017ء جرمنی سے ملک بدریوں کا سال ہو گا، جرمن وزیر

دو برسوں میں ایک لاکھ سے زائد پاکستانیوں نے یورپ میں پناہ کی درخواستیں دیں

DW.COM