جرمنی ميں سکھوں اور کشميريوں کی جاسوسی، بھارتی جوڑا پھنس گيا | معاشرہ | DW | 09.04.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

معاشرہ

جرمنی ميں سکھوں اور کشميريوں کی جاسوسی، بھارتی جوڑا پھنس گيا

يورپی ملک جرمنی ميں رہائش پذير کشميری عليحدگی پسندوں اور سکھ اپوزيشن کے ارکان کی جاسوسی کرنے کے الزام ميں دو بھارتی شہريوں پر جرمن شہر کارلس روہے ميں فرد جرم عائد کر دی گئی ہے۔

دو بھارتی شہريوں کو جرمنی ميں جاسوسی کرنے کے شبے پر حراست ميں لے ليا گيا اور ان پر فرد جرم عائد کر دی گئی ہے۔ پچاس سالہ منموہن ايس اور اکاون سالہ کنول جيت کے پر جرمنی ميں سکھ اپوزيشن اور کشميری عليحدگی پسندوں کی جاسوسی کا شبہ ہے۔ خبر رساں ادارے ايسو سی ايٹڈ پريس کی جرمن دارالحکومت برلن سے نو اپريل کو موصولہ رپورٹوں کے مطابق جرمنی کی وفاقی استغاثہ کے حکام کے مطابق ملزمان بھارتی خفيہ ايجنسی را کے ليے جاسوسی کيا کرتے تھے۔

منموہن ايس نےجنوری سن 2015 ميں را کے ليے جاسوسی شروع کی تھی جبکہ ان کی شريک حيات کنول جيت کے نے جولائی سن 2017 سے يہ کام شروع کيا۔ جرمن قوانين کے مطابق ملزمان کے مکمل نام جاری نہيں کيے جا سکتے، اسی ليے ان دونوں کے آخری نام جاری نہيں کيے گئے۔

استغاثہ کے مطابق اس جوڑے کو را تک معلومات پہنچانے کے ليے مجموعی طور پر 7,200 يورو فراہم کيے گئے۔ دونوں معلومات ايک اور فرد تک پہنچاتے تھے، جو بھی جرمنی ميں ہی موجود تھا۔

پاکستانی اخبار دا نيوز پر شائع کردہ ايک رپورٹ کے مطابق بھارتی جوڑے پر فرد جرم اٹھائيس مارچ کو عائد کی گئی تھی تاہم اس بارے ميں رپورٹيں پہلی مرتبہ منگل نو اپريل کو سامنے آئيں۔ يہ قانونی کارروائی جرمن شہر کارلس روہے ميں ہوئی اور وہيں کی استغاثہ نے يہ خبر جاری کی ہے۔

جرمنی ميں جاسوسی سنگين جرم ہے۔ الزامات ثابت ہونے پر بھارتی جوڑے کو دس برس قيد کی سزا سنائی جا سکتی ہے۔

ع س / ع ا، نيوز ايجنسياں