جرمنی ميں اسپيس پورٹ کی تعمير زير غور | سائنس اور ماحول | DW | 21.10.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

سائنس اور ماحول

جرمنی ميں اسپيس پورٹ کی تعمير زير غور

جرمن صنعتوں کی خواہش ہے کہ حکومت خلا کی تحقيق اور اس سے منسلک سيکٹر ميں سرمايہ کاری بڑھائے۔ اس سلسلے ميں زير غور منصوبوں ميں ايک اسپيس پورٹ کی تعمير بھی شامل ہے۔

جرمن وزير اقتصاديات پيٹر آلٹمائر نے عنديہ ديا ہے کہ حکومت ملکی صنعتوں کے مطالبے پر ايک اسپيس پورٹ کی تعمير پر غور کرے گی۔ يہ پيش رفت جرمنی ميں سرگرم مختلف سيکٹرز اور صنعتوں کی جانب سے اس مطالبے کے بعد سامنے آئی ہے کہ ملک اسپيس ريسرچ اور ٹيکنالوی ميں اپنی سرمايہ کاری ميں اضافہ کرے۔ پيٹر آلٹمائر نے جرمن اخبار 'بلڈ‘ کو ديے اپنے انٹرويو ميں کہا، ''خلا کا سفر کئی لوگوں کے ليے آج بھی ايک دلچسپ خيال ہے اور يہ ملازمت کے ہزاروں مواقع کا سبب بھی بنتا ہے۔ ہم اس وقت سيٹلائٹ ٹيکنالوجی ميں تو دنيا ميں بہت آگے ہيں۔ اسی وجہ سے ميں فيڈريشن آف جرمن انڈسٹريز (BDI) کی جانب سے ايک اسپيس پورٹ کی تعمير کی تجويز کا جائزہ لوں گا۔‘‘

جرمن صنعت نے مطالبہ کيا ہے کہ خلائی تحقيق و جدت کے موجودہ بجٹ 285 ملين يورو کو دگنا کيا جائے اور اس کو فرانس کے اس سيکٹر کے بجٹ کے برابر لايا جائے، جو کہ سات سو ملن يورو کا ہے۔ بی ڈی آئی کے مطابق خلائی تحقيق کے ميدان ميں عالمی سطح پر جرمنی اس وقت آٹھويں پوزيشن پر ہے گو کہ دنيا ميں يہ ملک چوتھی سب سے بڑی معیشیت کا حامل ہے۔

بی ڈی آئی کے سربراہ ڈيٹر کيمپف کا کہنا ہے کہ ملک ميں خلائی تحقيق کے ميدان پر اگر نگاہ ڈالی جائے، تو ايسا نہيں لگتا کہ جرمنی ايک ايسا ملک ہے جو ٹيکنالوجی کے ميدان ميں سب سے آگے ہے۔  فيڈريشن آف جرمن انڈسٹريز کے مطابق ايک اسپيس پورٹ کے قيام سے جرمنی ہی سے سيٹلائٹس خلا ميں بھيجنے اور ديگر کمرشل پروگراموں کے شرکت کے دروازے کھل جائيں گے۔

ع س / ب ج، نيوز ايجنسياں

DW.COM