جرمنی: مشتبہ انتہا پسند مسلمانوں کے خلاف پولیس کے چھاپے | حالات حاضرہ | DW | 18.07.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

جرمنی: مشتبہ انتہا پسند مسلمانوں کے خلاف پولیس کے چھاپے

جرمن پولیس نے انتہا پسند نظریات کے حامل مسلمان افراد کی تلاش میں نارتھ رائن ویسٹ فیلیا میں چھاپے مارے ہیں۔ امکان ظاہر کیا گیا ہے کہ یہ انتہا پسند مسلمان پوشیدہ ہو سکتے ہیں۔

جرمن پولیس نے کولون اور ڈُرین شہر میں چار مبینہ انتہا پسند مسلمانوں کی تلاش میں چھاپے مارے ہیں۔ یہ دونوں شہر وفاقی جرمن ریاست نارتھ رائن ویسٹ فیلیا میں واقع ہیں۔ کولون تو جرمنی کا چوتھا بڑا شہر ہے اور انتہائی گنجان آباد بھی خیال کیا جاتا ہے۔

جرمن میڈیا کے مطابق پولیس نے ان چھاپوں کے دوران کم از کم چار مبینہ جہادی سوچ رکھنے والے افراد کو حراست میں لیا ہے۔ پولیس کی جانب سے ان چاروں افراد کی شناخت کے بارے کچھ واضح نہیں کیا گیا ہے۔ اسی طرح جرمن سیکریسی قانون کے تحت ان افراد کے پورے ناموں کو بھی میڈیا کے سامنے نہیں لایا گیا۔

مغربی جرمن صوبے نارتھ رائن ویسٹ فیلیا میں یہ چھاپے جمعرات اٹھارہ جنوری کی علی الصبح مارے گئے۔ سکیورٹی حکام کے مطابق یہ چھاپے مضبوط شواہد کی روشنی میں مارے گئے تھے اور اس کا خطرہ تھا کہ مبینہ طور پر گرفتار ہونے والے افراد دہشت گردانہ حملوں کی منصوبہ بندی کرنے میں مصروف تھے۔

یہ بھی بتایا گیا کہ پولیس کو ان چھاپوں سے قبل مخبری ہوئی تھی۔ اسی مخبری کے نتیجے میں کولون کے دو مکانوں پر پولیس نے چھاپے مارے تھے۔ ان چھاپوں سے متعلق پولیس کی جانب سے مزید تفصیلات سامنے نہیں لائی گئی ہیں۔

پولیس نے ممکنہ خطرے کے حوالے سے بھی کوئی تفصیل فراہم نہیں کی اور نہ ہی ابھی تک ان گرفتار شدگان کے حوالے سے کوئی واضح بیان جاری کیا ہے۔

ع ح، ع آ، نیوز ایجنسیاں

DW.COM