جرمنی: فیس ماسک کے معاملے پر گیس اسٹیشن کے ملازم کا قتل | معاشرہ | DW | 21.09.2021
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

معاشرہ

جرمنی: فیس ماسک کے معاملے پر گیس اسٹیشن کے ملازم کا قتل

ایک پٹرول اسٹیشن کے ملازم کی طرف سے ایک گاہک کو چہرے کا ماسک پہننے کا کہنے پر اسے گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا۔ حملہ آور نے پولیس کو بتایا کہ وہ کورونا وبا کی وجہ سے دباؤ میں تھا اور حفاظتی اقدامات پر یقین نہیں رکھتا۔

جرمن پولیس کے مطابق صوبہ رائن لینڈ پلاٹینیٹ کے شہر ایدار اوبرشٹائن کے ایک پٹرول پمپ پر کام کرنے والا ورکر کووڈ 19 کے حوالے سے حفاظتی اقدمات پر تنازعے کے نتیجے میں جان سے ہاتھ دھو بیٹھا۔ پولیس کے مطابق ایک49  سالہ شخص پر شبہ ہے کہ اس نے گیس اسٹیشن کے ملازم کو ہفتے کی صبح گولی مار کر ہلاک کیا۔

پٹرول پمپ پر واقعہ کیا پیش آیا؟

ایک شخص کچھ خریدنے کے لیے ایک پٹرول پمپ سے ملحقہ دکان میں ماسک پہنے بغیر داخلہ ہوا جس پر اس پمپ کے 20 سالہ ملازم نے اسے کورونا کی پابندیوں پر عمل کرنے اور ماسک پہننے کو  کہا۔ اطلاعات کے مطابق دونوں میں اس پر بحث ہوگئی جس کے بعد بغیر ماسک پہنے مذکورہ شخص وہاں سے باہر چلا گیا۔

تاہم پولیس کے مطابق قریب ایک گھنٹے بعد یہ شخص دوبارہ وہاں پہنچا۔ اس مرتبہ اس نے ماسک تو پہن رکھا تھا مگر اندر پہنچ کر اس نے اس ماسک کو چہرے سے اتار دیا جس کے بعد دونوں کے درمیان ایک بار پھر بحث شروع ہو گئی اور مشتبہ شخص نے اپنی جیب میں چھپائے ہوئے ریوالور کو نکال کر اس نوجوان ملازم پر گولی چلا دی۔

سینیئر پبلک پراسیکیوٹر کائی فوہرمان نے جرمن خبر رساں ادارے ڈی پی اے کو بتایا کہ 20 سالہ یہ ملازم سر میں گولی لگنے کے سبب موقع پر ہی ہلاک ہو گیا۔ مشتبہ شخص کے بارے میں بتایا گیا کہ وہ پیدل ہی وہاں سے فرار ہو گیا۔

Deutschland | Bewaffneter erschießt Angestellten einer Tankstelle in Idar-Oberstein

لوگوں نے مرنے والے ملازم کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے پٹرول پمپ پر پھول اور موم بتیاں لا رکھی ہیں۔

مشتبہ شخص کا کیا مؤقف ہے؟

اس واقعے کے بعد پولیس اور حکام موقع پر پہنچے اور مشتبہ شخص کی تلاش کا آغاز کر دیا گیا۔ تاہم اس واقعے سے اگلے دن یعنی اتوار 19 ستمبر کو یہ مشتبہ شخص خود ہی پولیس اسٹیشن پہنچا اور اس نے اپنا جرم قبول کر لیا۔

فوہرمان کے بقول اس شخص نے مبینہ طور پر پولیس کو بتایا کہ وہ کووڈ انیس کی وجہ سے لگائی گئی پابندیوں کے خلاف تھا اور یہ کہ وبا کے سبب پیدا ہونے والی صورتحال سے وہ بُری طرح ذہنی دباؤ کا شکار تھا۔ استغاثہ کے سینیئر اہلکار فوہرمان کا مزید کہنا تھا کہ یہ شخص اس صورتحال پر ایک مثال قائم کرنا چاہتا تھا اور اس نے اس تمام صورتحال کا ذمہ دار متاثرہ ملازم کو قرار دیا کیونکہ اس نے ان قواعد پر عملدرآمد پر زور دیا تھا۔

جرمن شہر ٹریئر کی پولیس کے مطابق کورونا وائرس سے متعلقہ قواعد کے حوالے سے یہ اس علاقے اور ریاست رائن لینڈ پلاٹینیٹ کے درمیان یہ اولین واقعہ ہے۔

ا ب ا/ز ص (ڈی پی اے، اے ایف پی)