جرمنی: عدالت نے لاؤڈ اسپیکر کی مدد سے اذان پر پابندی لگا دی | معاشرہ | DW | 03.02.2018
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

معاشرہ

جرمنی: عدالت نے لاؤڈ اسپیکر کی مدد سے اذان پر پابندی لگا دی

جرمنی میں ایک مقامی عدالت نے مسجد کے قریب رہنے والے ایک جرمن جوڑے کی شکایت پر مسجد میں اذان دینے پر پابندی لگا دی۔ تاہم عدالت نے اس مسیحی جوڑے کے اس موقف کی تردید کی کہ اذان ان کی ’مذہبی آذادی‘ کے خلاف ہے۔

ترک نژاد مسلمانوں کی یہ مسجد جرمن شہر ڈورٹمنڈ کے نواحی قصبے اوہر ایرکنشویک میں واقعہ ہے جہاں حکام کی اجازت کے بعد نماز جمعہ کے لیے لاؤڈ اسپیکر پر اذان دی جا رہی تھی۔

اسلام کی مخالفت کے بعد جرمن سیاست دان خود ہی مسلمان ہو گیا

’مسلمان اور پاکستانی شناخت کو چھپانا نہيں چاہتے‘

اس مسجد سے چھ سو میٹر دور رہنے والے ایک جرمن جوڑے نے عدالت میں دائر مقدمے میں یہ موقف اختیار کیا تھا کہ مسجد کے موذن کی جانب سے ہفتہ وار لاؤڈ اسپیکر پر دی جانے والی اذان ان کے مسیحی عقائد اور مذببی آزادی کے منافی ہے۔

مقامی انتظامی عدالت نے اس مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے کہا ہے کہ مقامی حکام نے مسجد میں اذان کی اجازت دیتے ہوئے قواعد و ضوابط کی پابندی نہیں کی اس لیے اس مسجد میں لاؤڈ اسپیکر پر اذان نہیں دی جا سکتی۔ تاہم عدالت نے اس مسیحی جوڑے کے اس موقف سے اتفاق نہیں کیا کہ اذان کے باعث ان کی مذہبی آذادی متاثر ہوتی ہے۔ علاوہ ازیں عدالت کا یہ بھی کہنا تھا کہ مسجد میں اذان دینے کی اجازت کے لیے دوبارہ درخواست دی جا سکتی ہے جس کے بعد حکام قواعد و ضوابط کے مطابق اس پر فیصلہ کریں۔

شکایت کیا تھی؟

اذان کے خلاف درخواست دینے والے انہتر سالہ ہانس یوآخم لیہمان نے جرمنی کے کثیر الاشاعتی اخبار ’بلڈ‘ کو بتایا، ’’اذان کا صوتی تاثر ہم پر اثر انداز ہو رہا تھا لیکن ہمیں اس سے زیادہ اذان میں استعمال ہونے والے الفاظ پر اعتراض تھا۔ اس میں اللہ کو مسیحوں کے خدا پر ترجیح دی جا رہی تھی اور ایک ایسے شخص کے طور پر جو مسیحیت کے ماحول میں پروان چڑھا ہو، میرے لیے یہ قابل قبول نہیں تھا۔‘‘

عدالت میں درخواست گزار کے وکیل نے اپنے موقف میں کہا، ’’اذان کا تقابل کلیسا میں بجنے والی گھنٹی سے نہیں کیا جا سکتا۔ موذن کی اذان میں الفاظ کے ذریعے عقائد کا اظہار کیا جاتا ہے جس کے ذریعے اذان سننے والے کو نماز میں شرکت کے لیے مجبور کیا جاتا ہے۔‘‘

مسلمانوں کا موقف

ترک نژاد مسلمانوں کی اس مسجد کے ایک ترجمان حسین ترغوت نے نیوز ایجنسی روئٹرز کو بتایا کہ ’’اذان کا دورانیہ دو منٹ سے کم ہوتا ہے اور یہ ہر جمعے کے روز دوپہر ایک بجے دی جاتی ہے۔ ہمیں اس سے قبل کبھی کوئی شکایت موصول نہیں ہوئی۔ مسجد سے دس میٹر کے فاصلے پر واقعہ گھر میں بھی جرمن ہمسائے مقیم ہیں۔‘‘

عدالتی فیصلہ

انتظامی عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ قواعد و ضوابط کے مطابق حکام کو لاؤڈ اسپیکر پر اذان کی اجازت دیتے وقت مسجد کے قریب رہنے والے رہائشیوں سے اس عمل کے ’سماجی طور پر قابل قبول‘ ہونے کے حوالے سے بھی مشاورت کرنا چاہیے تھی۔ جب کہ حکام نے یہ صرف بات پیش نظر رکھی کہ لاؤڈ اسپیکر کی آواز کتنی بلند ہے۔

امريکا: گيارہ ملکوں کے مہاجرين کے داخلے پر عائد پابندی ختم

بھارتی ریاست اتر پردیش میں ہندو مسلم فساد، ایک نوجوان ہلاک