جرمنی سے داعش کے لیے جنگجوؤں کی بھرتی، امام مسجد گرفتار | حالات حاضرہ | DW | 15.10.2015
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

جرمنی سے داعش کے لیے جنگجوؤں کی بھرتی، امام مسجد گرفتار

جرمنی میں روس سے تعلق رکھنے والے ایک تیس سالہ امام مسجد کو شام اور عراق کے وسیع تر علاقوں پر قابض دہشت گرد تنظیم اسلامک اسٹیٹ یا داعش کے لیے جنگجو بھرتی کرنے کی کوششوں کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔

Syrien IS-Kämpfer

شام میں داعش کے جنگجو اس تنظیم کے جھنڈے کے ساتھ

جرمن دارالحکومت برلن سے جمعرات پندرہ اکتوبر کے روز موصولہ نیوز ایجنسی ڈی پی اے کی رپورٹوں میں پولیس اور وفاقی دفتر استغاثہ کے بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ گرفتار کیے گئے امام مسجد کا تعلق روسی جمہوریہ داغستان سے ہے۔

جرمن دفتر استغاثہ کے مطابق اس ملزم کو بدھ چودہ اکتوبر کو حراست میں لیا گیا۔ اس پر الزام ہے کہ اس نے نہ صرف جرمنی سے اسلامک اسٹیٹ یا دولت اسلامیہ کے لیے عسکریت پسند بھرتی کرنے کی کوشش کی بلکہ وہ مبینہ طور پر خاص طور پر شام میں داعش کے جنگجوؤں کے لیے رات کے وقت دیکھنے میں مدد کرنے والے فوجی آلات یا NVDs اور ٹیلی اسکوپک آلات کے حصول کے لیے کاوشیں بھی کرتا رہا تھا۔

برلن پولیس نے گرفتار کیے گئے ملزم کا نام نہیں بتایا لیکن یہ واضح طور پر کہا گیا ہے کہ ’جہادی بھرتی کرنے والے اس امام مسجد‘ کا تعلق روسی جمہوریہ داغستان سے ہے اور وہ ایک روسی شہری ہے۔ حکام کے مطابق یہ ملزم برلن میں مسلمانوں کی ایک مسجد کے ان دو رہنماؤں کا ساتھی ہے، جنہیں اسی سال جولائی میں گرفتار کیا گیا تھا۔ قریب تین ماہ قبل گرفتار کیے گئے ان دونوں افراد پر شبہ تھا کہ وہ شام میں سرگرم جند الشام یا ’شام کے سپاہی‘ نامی ایک اور دہشت گرد گروپ کے حامی تھے۔

روس کو گزشتہ کئی عشروں سے اپنے ہاں قفقاذ کے پہاڑی علاقوں میں مسلح اسلام پسندوں کی منظم بغاوت کا سامنا ہے۔ قفقاذ کی زیادہ تر مسلم اکثریتی روسی جمہوریاؤں میں سے خاص طور پر چیچنیہ، داغستان اور اِنگوشیتیا ایسی مسلح عسکریت پسندی سے متاثر رہی ہیں۔

جرمنی میں مروجہ قوانین کے تحت کسی بھی غیر ملکی دہشت گرد گروہ کی زبانی یا عملی سطح پر تائید و حمایت ایک ایسا قابل سزا جرم ہے، جس کے مرتکب کسی بھی فرد کو جرمانے کے علاوہ طویل مدت تک قید کی سزا بھی سنائی جا سکتی ہے۔

DW.COM