جرمنی: سوشل میڈیا پر نفرت آمیز تبصرے لکھنے والوں کو سزائیں | معاشرہ | DW | 27.09.2020
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

معاشرہ

جرمنی: سوشل میڈیا پر نفرت آمیز تبصرے لکھنے والوں کو سزائیں

ایک جرمن خاتون نے اپنی شکار کردہ لومڑی کے ساتھ ایک تصویر سوشل میڈیا پر شیئر کی جس کے بعد انہیں انتہائی نفرت انگیز تبصروں کا سامنا کرنا پڑا۔ لیکن اب ایسے سوشل میڈیا صارفین کو انہیں ہزاروں یورو ہرجانہ ادا کرنا پڑ رہا ہے۔

سینا بی نامی نوجوان خاتون جانوروں کے شکار کا شوق رکھتی ہیں۔ شکار کردہ جانوروں اور زندہ جانوروں کے ساتھ لی گئی اپنی تصویریں وہ فیس بک اور انسٹاگرام پر بھی شیئر کرتی ہیں۔ سن 2018 میں حسب عادت انہوں نے ایک شکار کی گئی لومڑی کے ساتھ تصویر کھینچ کر سوشل میڈیا پر شیئر کی۔

جرمن شکاریوں کی تنظیم (ڈی جے وی) کے مطابق صرف دو دنوں میں سینا کی اس پوسٹ پر دو ہزار سے زائد نفرت انگیز تبصرے لکھے گئے۔ ڈی جے وی نے اس کے بعد اس خاتون کی نفرت انگیز تبصرہ لکھنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کرنے میں معاونت کی۔

اس مقدمے میں پچاس سے زیادہ افراد کو سزاؤں اور جرمانوں کا سامنا کرنا پڑا۔

یہ بھی پڑھیے: سوشل میڈیا کمپنیاں شفاف انتخابی عمل کے لیے خطرہ قرار، رپورٹ

ایک خاتون نے اس تصویر پر کیے گئے اپنے کمنٹ میں شکاری خاتون کے خلاف انتہائی نازیبا الفاظ تحریر کیے تھے۔ اس خاتون کو عدالت اور وکیل کے اخراجات اور متاثرہ شکاری خاتون کو ہرجانہ ادا کرنے کی مد میں دو ہزار یورو ادا کرنے کا حکم دیا گیا۔

فیس بک پوسٹ پر ایک اور شخص نے اپنے کمنٹ میں اس شکاری خاتون کو دھمکی دیتے ہوئے لکھا تھا، ''بدصورت عورت، ہم تمہیں ڈھونڈ لیں گے، اپنی صحت کی فکر کرو۔‘‘ عدالت نے اس شخص کو 1400 یورو جرمانہ کیا۔

'میں صرف کہوں گا، مکافات عمل‘۔ یہ تبصرہ کرنے والے شخص کو 1600 یورو جرمانہ بھرنا پڑا۔ اسی طرح کئی دیگر خواتین مخالف آراء لکھنے والوں کو بھی ایسے ہی جرمانے کیے گئے۔ یوں متاثرہ خاتون کو کئی ہزار یورو بطور ہرجانہ ملے ہیں۔

'شواہد محفوظ کر لیں اور قانونی چارہ جوئی کریں‘

ڈی جے وی کے صدر فولکر بؤہننگ کہتے ہیں، ''انٹرنیٹ پر نفرت انگیزی کے جرم سے متاثر ہونے والوں کو ہم یہ مشورہ دیتے ہیں کہ وہ شواہد محفوظ کر لیں اور ایسے افراد کے خلاف قانونی چارہ جوئی کریں۔‘‘

یہ بھی پڑھیے: جرمنی: انٹرنیٹ پر نفرت انگیزی پھیلانے والے اقلیت میں

سینا بی اب اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر شکار کردہ جانوروں اور زندہ جانوروں کے ساتھ کھینچی گئی اپنی تصاویر بلا جھجھک شیئر کر رہی ہیں۔

اپنی ایک پوسٹ میں انہوں نے لکھا، ''تنقید، تبادلہ خیال ٹھیک ہے، لیکن اندھی نفرت پر مبنی رائے نہیں لکھی جانا چاہیے۔ تاریخ پر نظر دوڑائیں تو ہم سب جانتے ہیں کہ نفرت کا نتیجہ کیا نکلتا ہے۔‘‘

بینجمن نائٹ (ش ح / م م)